ڈپٹی سپیکر کی زیرصدارت اپر چترال میں پختونخوا ریڈیو کے قیام سے متعلق اجلاس، اسٹیشن کیلئے بونی میں موزوں جگہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے، ڈی جی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی نے کہا ہے کہ اپر چترال میں پختونخوا ریڈیو کا قیام مقامی آبادی کو بروقت معلومات، آگاہی اور تفریحی پروگرام فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔بدھ کے روز ڈپٹی سپیکر چیمبر میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے محکمے کو ہدایت کی کہ ٹرانسمیشن ٹاور اور سٹوڈیو کے قیام سمیت تمام ضروری امور جلد از جلد مکمل کیے جائیں اور منصوبے کو عملی مرحلے میں لے جایا جائے تاکہ اپر چترال کے عوام جلد از جلد اس اہم سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ انصار خلجی، ڈپٹی ڈائریکٹرز نظام الدین اور زار ولی، سینئر پلاننگ آفیسر حزب اللہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل انصار خلجی نے بتایا کہ محکمے کی ایک تکنیکی ٹیم نے اپر چترال کا دورہ کیا اور مختلف سرکاری مقامات اور عمارتوں کا تفصیلی تکنیکی جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس میں ریڈیو اسٹوڈیو، ٹرانسمیشن ٹاور، بجلی کی دستیابی، رسائی اور دیگر تکنیکی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے اپر چترال کے صدر مقام بونی میں موزوں جگہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور متعلقہ شعبوں کو منصوبے کے آئندہ مراحل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔خلجی نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت محدود فنڈز دستیاب ہیں جبکہ مزید فنڈز کے حصول کے لیے سمری متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈیو اسٹیشن کے ٹرانسمیٹرز درآمد کیے جانے ہیں جس میں کچھ وقت لگے گا، جبکہ تزئین و آرائش، ہائرنگ کے لیے ٹینڈرنگ اور خریداری کے مراحل میں بھی وقت درکار ہوگا، تاہم انہوں نے ڈپٹی سپیکر کو یقین دلایا کہ محکمہ منصوبے کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے محکمے کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ عمل درآمد میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال جیسے دور دراز اور مشکل جغرافیائی علاقے میں ایف ایم ریڈیو رابطے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم قدرتی آفات، سیلاب، موسم، صحت، تعلیم اور دیگر اہم عوامی معاملات پر بروقت معلومات دینے کے ساتھ ساتھ علاقے کی مقامی زبان، ثقافت، روایات اور صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ ریڈیو اسٹیشن مقامی مسائل اور عوامی خدشات کی آواز بھی بنے گا اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی، معلوماتی اور تخلیقی پروگراموں کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ قدرت نے چترال کو بے پناہ خوبصورتی سے نوازا ہے، تاہم یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر آنے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ انہوں نے اپر چترال کو ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن علاقے اور عوام کے لیے انتہائی اہم ہے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو۔ثریا بی بی نے کہا کہ اپر چترال کی پسماندگی کا خاتمہ اور جدید مواصلاتی و عوامی سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
