صحت کارڈ پلس کے لیے 51 ارب روپے مختص، خیبرپختونخوا میں صحت کا بجٹ 325 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی وزیرِ صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمان اور مشیرِ وزیراعلیٰ برائے خزانہ مزمل اسلم نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے عوام کو معیاری، مفت اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صحت کارڈ پلس پروگرام کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبہ صحت میں اصلاحات، طبی سہولیات کی توسیع، ادویات کی بروقت فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ 2013ء سے اب تک خیبرپختونخوا کے نظامِ صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کا یونیورسل ہیلتھ انڈیکس 2015ء میں 36.2 تھا جو 2024ء میں بڑھ کر 53.5 تک پہنچ گیا، جو تقریباً 48 فیصد بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صحت کے شعبے میں یہ پیش رفت بالخصوص سرکاری شعبے کی کارکردگی اور اصلاحات کا نتیجہ ہے۔خلیق الرحمان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں صحت کا بجٹ 256 ارب روپے سے بڑھا کر 325 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2013ء میں صوبے کا مجموعی صحت بجٹ صرف 30.3 ارب روپے تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے صحت کے شعبے میں وسائل میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔صحت کارڈ پلس کے حوالے سے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ پروگرام عوام کو مہنگے اور پیچیدہ علاج کے مالی بوجھ سے محفوظ رکھنے کے لیے شروع کیا گیا تھا اور خیبرپختونخوا حکومت اس پروگرام کو ہر صورت مستحکم بنیادوں پر جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ دل کے آپریشن، جگر اور گردے کی پیوندکاری سمیت متعدد مہنگے علاج صحت کارڈ پلس کے ذریعے عوام کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز یکم جولائی ہی سے ادویات کی خریداری کا عمل بروقت شروع کیا گیا ہے اور ماضی میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دورافتادہ علاقوں میں 72 ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی عدم دستیابی پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو اپنے علاقوں میں بہتر طبی سہولیات میسر ہوں۔
صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں اور عطائیت کے خلاف کارروائی مزید مؤثر بنانے کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن کو فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رنگ روڈ، کوہاٹ اور مالاکنڈ میں نئے بڑے ہسپتالوں کی تعمیر کے منصوبے زیرِ غور ہیں، جبکہ صوبے میں جدید سہولیات پر مشتمل ایک ’’ہیلتھ سٹی‘‘ کے قیام پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔خلیق الرحمان نے کہا کہ شعبہ صحت میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔ ’’DHIS-2‘‘ کے تحت مریضوں کے طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا اور ہر مریض کو ٹریکنگ نمبر جاری کیا جائے گا، جس سے مریض کے علاج اور طبی تاریخ کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ نظامِ صحت کی نگرانی اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔مشیرِ وزیراعلیٰ برائے خزانہ مزمل اسلم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت مالی وسائل کی محدودیت کے باوجود عوام کو صحت کی بنیادی اور پیچیدہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وسائل مختص کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کا آغاز 2016ء میں ہوا جبکہ 2020ء سے صوبائی حکومت نے اس پروگرام کے لیے باقاعدہ مالی وسائل مختص کرنا شروع کیے۔
مزمل اسلم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ خاندان صحت کارڈ پلس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے رواں سال صحت کارڈ کے لیے مختص بجٹ کو بڑھا کر تقریباً 51 ارب روپے کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نگران حکومت کے دور میں صحت کارڈ پروگرام بند کیے جانے سے عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا، تاہم موجودہ حکومت نے پروگرام کی بحالی اور اسے مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔مشیرِ خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2024-25ء کے دوران 10 لاکھ 90 ہزار افراد نے صحت کارڈ سے استفادہ کیا، جبکہ مالی سال 2025-26ء میں یہ تعداد بڑھ کر 13 لاکھ 29 ہزار 353 ہو گئی۔ رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ میں ایک لاکھ 28 ہزار 917 افراد صحت کارڈ کی سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں، جو پروگرام پر عوام کے اعتماد اور اس کی افادیت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بچوں میں سماعت و گویائی کی بحالی کے لیے کوکلیئر امپلانٹ کا علاج بھی صحت کارڈ کے ذریعے مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی فی مریض لاگت تقریباً 26 لاکھ روپے ہے۔ اسی طرح گردے کی پیوندکاری پر تقریباً 20 لاکھ روپے اور جگر کی پیوندکاری پر تقریباً 63 لاکھ روپے فی مریض خرچ آتا ہے، تاہم حکومت نے مالی وسائل کی محدودیت کے باوجود ان اہم اور مہنگے علاج کی سہولیات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوامی فلاح کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صحت کارڈ پلس کو مستحکم بنیادوں پر جاری رکھنے، سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات بہتر بنانے، ادویات کی بروقت فراہمی، طبی عملے کی دستیابی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ صحت کو مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان اور مشیرِ وزیراعلیٰ برائے خزانہ مزمل اسلم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو صحت کی بہتر، باعزت اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔