The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 13 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

14 اگست: آزادی کا دن یا عہد کی تجدید؟ – تحریر: ثناء اللّٰه مجیدی

Chitral Times

14 اگست: آزادی کا دن یا عہد کی تجدید؟ – تحریر: ثناء اللّٰه مجیدی

14 اگست: آزادی کا دن یا عہد کی تجدید؟ – تحریر: ثناء اللّٰه مجیدی

14 اگست: آزادی کا دن یا عہد کی تجدید؟

وطن سے محبت، قومی ذمہ داری اور پاکستان کے روشن مستقبل کا سوال
تحریر: ثناء اللّٰه مجیدی

.

کچھ تاریخیں محض کیلنڈر کے صفحات پر درج ہندسے نہیں ہوتیں، بلکہ قوموں کے حافظے میں چراغ بن کر روشن رہتی ہیں۔ کچھ دن گزر جاتے ہیں، مگر ان کی یاد نہیں گزرتی؛ کیونکہ ان کے ساتھ قربانیوں، جدوجہد، ہجرت، امید اور ایک خواب کی داستان وابستہ ہوتی ہے۔ 14 اگست بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی روشن دن ہے، جو ہر سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کوئی معمولی نعمت نہیں، بلکہ اس کے پیچھے نسلوں کی جدوجہد اور لاکھوں انسانوں کی قربانیاں پوشیدہ ہیں۔

آج جب ہم سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، قومی نغمے سنتے ہیں، گھروں، بازاروں اور شاہراہوں کو سجاتے ہیں اور جشنِ آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں تو یہ منظر یقیناً دل کو خوشی دیتا ہے۔ مگر 14 اگست کا اصل پیغام صرف جشن منانا نہیں، بلکہ آزادی کی قدر، اس کی حفاظت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا بھی ہے۔ آزادی ہمیں صرف خوشیاں منانے کا حق نہیں دیتی، بلکہ ہمیں یہ ذمہ داری بھی سونپتی ہے کہ ہم اپنے وطن کو امن، ترقی، عدل اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ اس آزادی کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے طویل سیاسی جدوجہد کی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک ایسی تحریک آگے بڑھی جس نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ اس جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے اپنا وقت، مال، گھر اور سکون قربان کیا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا؛ اس کے راستے میں بے شمار مشکلات، سیاسی مخالفتیں، قربانیاں اور آزمائشیں آئیں، مگر عزم متزلزل نہ ہوا۔

قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کا وہ عظیم انسانی المیہ بھی تاریخ کا حصہ بنا جسے پڑھ کر آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے آبائی گھروں سے نکلے، قافلوں کی صورت میں سرحد کی طرف بڑھے، راستے کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایک ایسے وطن میں پہنچے جسے انہوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے منتخب کیا تھا۔ کتنے ہی لوگ سفر کی مشکلات کا شکار ہوئے، کتنے خاندان بچھڑ گئے اور کتنے ہی افراد نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کی جدائی برداشت کی اور خاندانوں نے اپنی نسلوں کی خوش حالی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ قربانیوں کی امانت ہے۔ اس امانت کی قدر صرف یہ نہیں کہ ہم ہر سال جشن منائیں، بلکہ اصل قدر یہ ہے کہ ہم اپنے کردار سے ثابت کریں کہ ہم اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
مگر آج سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

ہم ہر سال آزادی کا جشن مناتے ہیں، لیکن کیا ہم آزادی کے حقیقی تقاضے بھی پورے کر رہے ہیں؟ کیا ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیتے ہیں؟ کیا ہم رشوت، سفارش، جھوٹ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور بدعنوانی سے خود کو محفوظ رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اختلافات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں؟
یہ سوالات شاید آتش بازی اور قومی نغموں سے زیادہ اہم ہیں۔

وطن سے محبت صرف ایک نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ اگر ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی سڑکوں، اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں، بازاروں اور سرکاری املاک کو اپنا سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ قومی نقصان دراصل ہمارا اپنا نقصان ہے۔ سڑک پر پھینکا گیا ایک کچرا، سرکاری املاک کو پہنچایا گیا ایک نقصان، ملاوٹ سے کسی کی صحت کو پہنچنے والا نقصان اور بدعنوانی کی ایک معمولی سی واردات بھی دراصل وطن کے اجتماعی وجود کو کمزور کرتی ہے۔

ایک استاد اگر اپنے شاگرد کو پوری ذمہ داری سے تعلیم دیتا ہے تو وہ پاکستان کی تعمیر کر رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر اگر مریض کا علاج اخلاص سے کرتا ہے تو وہ وطن کی خدمت کر رہا ہے۔ ایک مزدور اگر حلال رزق کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ایک کسان اگر زمین سے رزق پیدا کرتا ہے تو وہ قومی ترقی کا حصہ ہے۔ ایک تاجر اگر دیانت داری سے کاروبار کرتا ہے تو وہ معاشرے کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک صحافی اگر سچائی اور ذمہ داری سے قلم اٹھاتا ہے تو وہ قومی شعور کی تعمیر کرتا ہے۔

یعنی پاکستان کی تعمیر صرف ایوانوں میں نہیں ہوتی؛ پاکستان کی تعمیر ہر گھر، ہر مدرسے، ہر اسکول، ہر دفتر، ہر دکان اور ہر ادارے میں ہوتی ہے۔ ایک مضبوط پاکستان دراصل کروڑوں ذمہ دار شہریوں کے کردار کا مجموعہ ہے۔

آج پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی پسماندگی، سیاسی کشیدگی، بدعنوانی، معاشرتی تقسیم اور امن و امان کے مسائل ہماری اجتماعی توجہ کے طالب ہیں۔ لیکن مشکلات کسی قوم کے خاتمے کی علامت نہیں ہوتیں۔ دنیا کی بڑی قوموں نے بھی بحرانوں کا سامنا کیا، مگر انہوں نے اپنے عزم، اتحاد، علم اور محنت سے حالات بدل ڈالے۔

پاکستان کے پاس بھی بے شمار وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ ہمارے نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، ہنر، تحقیق اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ملازمت کے طلب گار بنانے کے بجائے انہیں علم، ہنر، تحقیق، کاروبار اور تخلیقی صلاحیتوں کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ پاکستان کیسے حاصل ہوا، بلکہ یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ پاکستان کو مضبوط کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ انہیں قائداعظم کی دیانت، نظم و ضبط اور اصول پسندی سے روشناس کرانا ہوگا۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف ذاتی مفاد کا نام نہیں، بلکہ اجتماعی بھلائی بھی کامیابی کا حصہ ہے۔

اگر ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، عالم، صحافی یا کاروباری افراد بن جائیں لیکن ان کے کردار میں دیانت، احساسِ ذمہ داری اور وطن کے لیے خیر خواہی پیدا نہ ہو تو ہماری تعلیم ادھوری رہ جائے گی۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار انسان اور مفید شہری بننا بھی ہے۔
آج ایک اور بڑا مسئلہ معاشرتی تقسیم ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی قوم کے لیے فائدہ مند نہیں۔ پاکستان کو ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو اختلاف کریں مگر احترام کے ساتھ، تنقید کریں مگر دلیل کے ساتھ اور اپنے مؤقف کا اظہار کریں مگر دوسروں کی عزت پامال کیے بغیر۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے دور میں حب الوطنی کا ایک نیا امتحان سامنے آچکا ہے۔ بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا، افواہوں کو آگے بڑھانا، قومی اداروں یا افراد کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنا اور معاشرے میں نفرت پیدا کرنا کسی صورت قومی خدمت نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری وہ ہے جو اپنی آزادیٔ اظہار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔

ہمیں یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ آزادیٔ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ایک جھوٹی خبر صرف ایک شخص کو نقصان نہیں پہنچاتی؛ وہ معاشرے میں بے چینی، بداعتمادی اور انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تحقیق کے بغیر کوئی بات آگے نہ بڑھائیں اور اختلاف کو نفرت میں تبدیل نہ کریں۔

14 اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی صرف حق نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کا بھی احساس ہونا چاہیے۔ ایک مضبوط ملک وہ ہوتا ہے جہاں شہری قانون کا احترام کرتے ہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کرتے ہیں، میرٹ کو اہمیت دی جاتی ہے، تعلیم کو ترجیح ملتی ہے اور انصاف ہر شخص کے لیے یکساں ہو۔

ریاستی اداروں کا احترام بھی قومی استحکام کے لیے ضروری ہے، تاہم اداروں کا مضبوط ہونا اسی وقت ممکن ہے جب وہ آئین اور قانون کے دائرے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ شہری قانون کا احترام کریں، ادارے آئینی حدود کی پاسداری کریں اور ہر فرد کو انصاف اور مساوات کا حق حاصل ہو؛ یہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔

ہمیں پاکستان سے شکایت کرنے کا حق ہے، لیکن شکایت کے ساتھ اپنا کردار بھی دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں صفائی ہو تو ہمیں خود گندگی نہیں پھیلانی چاہیے۔ اگر ہم انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاملات میں انصاف کرنا ہوگا۔ اگر ہم دیانت دار قیادت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں دیانت داری اختیار کرنی ہوگی۔

قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں شہریوں کے کردار سے بنتی ہیں۔ حکمران اپنی جگہ ذمہ دار ہیں، ادارے اپنی جگہ جواب دہ ہیں، لیکن عام شہری بھی اس ملک کی تعمیر میں برابر کا حصہ دار ہے۔

اس یومِ آزادی پر ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو صرف یاد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے مقصد کو سمجھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا چاہیے کہ آزادی ایک قیمت کے بعد حاصل ہوئی تھی اور اس کی حفاظت بھی قربانی، محنت، اتحاد اور کردار سے ہی ممکن ہے۔

ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ترقی کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے۔ جہاں ہماری ذمہ داری ہوگی، وہاں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اپنے کام میں دیانت، معاملات میں انصاف، گفتگو میں شائستگی، اختلاف میں برداشت اور معاشرے میں خیر خواہی کو فروغ دیں گے۔
آئیے! اس 14 اگست کو صرف پرچم نہ لہرائیں، بلکہ اپنے دل میں بھی ایک عہد بلند کریں۔

عہد کہ ہم جھوٹ سے بچیں گے۔
عہد کہ ہم بدعنوانی کو معمول نہیں سمجھیں گے۔
عہد کہ ہم قانون کا احترام کریں گے۔
عہد کہ ہم علم کو فروغ دیں گے۔
عہد کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بنائیں گے۔
عہد کہ ہم اپنے ملک کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں گے۔
عہد کہ ہم قومی وسائل کی حفاظت کریں گے۔
عہد کہ ہم اپنی نئی نسل کو علم، کردار اور ذمہ داری کا سبق دیں گے۔
اور عہد کہ ہم پاکستان کو بہتر بنانے کے لیے اپنے حصے کا چراغ ضرور روشن کریں گے۔
کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں؛ یہ ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر، شہیدوں کی قربانیوں کی امانت، ہماری شناخت اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔

14 اگست صرف آزادی کا جشن نہیں، خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہم سے پوچھتا ہے کہ جس وطن کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، کیا ہم اس وطن کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے حصے کا کام دیانت داری سے انجام دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

آئیے! اس دن ہم خود سے ایک سوال کریں:
’’پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟‘‘
کے ساتھ یہ بھی سوچیں:
’’ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟‘‘

اگر ہر پاکستانی اس سوال کا جواب اپنے کردار سے دینے لگے تو یقین رکھیے، پاکستان کا مستقبل روشن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں قانون طاقتور اور کمزور سب کے لیے یکساں ہو، جہاں علم جہالت پر غالب آئے، جہاں میرٹ سفارش سے بلند ہو، جہاں انصاف دولت اور اثر و رسوخ کا محتاج نہ ہو، جہاں نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں اور جہاں ہر شہری کو اپنی محنت کا پھل اور اپنی عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔

یہی وہ پاکستان ہوگا جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی تعمیر ہماری نسل کی ذمہ داری ہے۔
آزادی کا جشن ضرور منائیے، سبز ہلالی پرچم ضرور لہرائیے، قومی ترانے ضرور سنیے؛ مگر اس کے ساتھ اپنے کردار میں بھی سبز ہلالی پرچم کی حرمت پیدا کیجیے۔ اپنے عمل سے وطن کی عزت بڑھائیے، اپنے علم سے قوم کو فائدہ پہنچائیے، اپنی دیانت سے معاشرے میں اعتماد پیدا کیجیے اور اپنی ذمہ داری سے پاکستان کو مضبوط بنائیے۔

اللّٰه تعالیٰ ہمارے وطن پاکستان کو امن، استحکام، خوشحالی، اتحاد اور ترقی عطا فرمائے، اسے ہر اندرونی و بیرونی خطرے سے محفوظ رکھے، ہمارے شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان پائندہ باد!
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰