ہندوکش کے دامن سے: نظام کی ناکامی یا طرزِ حکمرانی کا قصور؟ ۔ تحریر: عبدالباقی
۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ نے موجودہ نظام کو ناکارہ قرار دے کر نظام میں تبدیلی لانا وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ ملک کا نظام جیسا بھی ہو، چاہے صدارتی، پارلیمانی یا بادشاہت، اس کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار نظام کو چلانے والوں پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی نظام بذاتِ خود اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ پاکستان کا اصل بحران نظام کا نہیں بلکہ اس کو چلانے والوں کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ، سیاستدان اور بیوروکریسی نے مل کر پارلیمانی نظام کا اصل چہرہ بگاڑ کر ایسے نظام ترتیب دیے ہیں جو ان کے مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ نظام اشرافیہ طبقے کے مفادات کا نگہبان ہے اور ملک کے اکثریتی غریب عوام کے مفادات کا دشمن ہے۔
ملک میں گزشتہ 78 سالوں سے جو پارلیمانی نظام رائج ہے، یہ دنیا کے کئی ممالک میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ وہ ممالک معاشی، سماجی اور معاشرتی ترقی کرکے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دیگر ممالک اس نظام کے تحت ترقی کر رہے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ نظام ناکامی سے دوچار ہے اور ترقی کے بجائے سیاسی اور معاشی طور پر تنزلی کا شکار ہو رہا ہے؟ یہ نظام کی ناکامی ہے یا ناقص طرزِ حکمرانی کا قصور؟
طرزِ حکمرانی سے مراد وہ طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے نظام کو چلایا جاتا ہے اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ نظام جتنا بھی مثالی ہو، اگر طرزِ حکمرانی خراب ہو تو وہ نظام تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اس ملک میں احتساب کا دوہرا معیار ہے، قانون سب کے لیے یکساں نہ ہونا اور طاقتور طبقے کا احتساب سے بالاتر ہونا۔ میرٹ کی پامالی کرکے کلیدی عہدوں پر اہل اور قابل افراد کی بجائے سیاسی وفاداریوں اور اقرباپروری کی بنیاد پر نااہل افراد کی بھرتیاں کرنا۔ کرپشن اور بدعنوانی کے ذریعے قومی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا۔
جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک نہیں ہوں گے، کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب ادارے اپنے دائرۂ کار سے نکل کر دوسرے اداروں کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں تو طرزِ حکمرانی مفلوج ہو جاتی ہے۔ قانون کی بالادستی کو امیر و غریب کے لیے یکساں بنایا جائے تاکہ عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، نیب، ایف آئی اے، پولیس اور عدلیہ جیسے اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرکے مکمل خودمختار بنایا جائے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔
سیاستدان ملک میں جمہوری نظام مستحکم نہ ہونے کا سبب فوجی مداخلتوں کو قرار دیتے ہیں، جو کسی حد تک حقیقت ہے۔ لیکن زیادہ قصور سیاستدانوں کا ہے، کیونکہ سیاسی پارٹیاں آپس میں دست و گریباں ہو کر ایک دوسرے کی حکومت گرانے کے لیے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کو پامال کرکے اسٹیبلشمنٹ کے سہارے اقتدار میں آتی ہیں۔ پھر عوام کے سامنے فوج پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگا کر اپنی ناکامیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتی ہیں۔ حقیقتاً سیاستدانوں کی کمزوریوں کی وجہ سے بعض اوقات فوج کو سیاست میں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
اگر موجودہ حکمرانوں کو ان کی مرضی پر بے لگام چھوڑ دیا گیا تو ملک اور قوم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ موجودہ حکمران دولت کمانے اور چھپانے میں مہارت اور شہرت رکھتے ہیں، لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر نظامِ حکومت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس وقت ملک میں نہ معاشی ترقی ہو رہی ہے، نہ سیاسی استحکام ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی ہے۔
دیگر ممالک میں حکمران آئین اور قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے آئین اور قانون پر سختی کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں۔ قومی خزانے کو امانت سمجھ کر عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ اس ملک کے حکمران خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور قومی خزانے کو اپنے ذاتی مفادات، نمود و نمائش اور غیر ملکی دوروں میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ پھر خزانہ خالی ہونے کا رونا رو کر آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر سودی قرضے حاصل کرکے قرضوں کا سارا بوجھ ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ڈال کر ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے خزانہ خالی ہے، لیکن اراکینِ پارلیمنٹ، مشیروں اور وزیروں کے لیے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ انہیں شاہانہ مراعات اور بھاری تنخواہوں سے نوازا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں۔ وزیراعظم مختصر مدت میں ریکارڈ غیر ملکی دورے کر چکا ہے۔ کیا وزیراعظم کے ریکارڈ غیر ملکی دوروں سے ملک میں تیل، گیس، بجلی، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی ہے؟ کتنے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں؟ کیا محترم وزیراعظم یا ان کے مشیر 25 کروڑ عوام کو وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بتانے کی زحمت گوارا کریں گے؟ ان غیر ملکی دوروں سے ملک اور قوم کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ وزیراعظم کے ان غیر ملکی دوروں سے کتنے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی؟ ان غیر ملکی دوروں میں قومی خزانے سے کتنی رقم خرچ کی گئی؟
وزیراعظم امریکہ اور ایران کے درمیان سفارت کاری کے ذریعے جنگ بندی کرا کے بیرونِ ممالک سے دادِ تحسین تو وصول کر رہے ہیں، لیکن اندرونِ خانہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے عام لوگوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور پارٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
اگر وزیراعظم کو عوام کے دکھ، درد اور مشکلات کا اگر تھوڑا سا بھی احساس ہو تو اس وقت حکومت کی سمت تبدیل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مزید تاخیر کی صورت میں، ’’میرے پیارے ہم وطنوں‘‘ کی گونج سنائی دینے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔