The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 12 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اخوند سالاک کی نثری خدمات اور درویزہ مکتبِ فکر – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

اخوند سالاک کی نثری خدمات اور درویزہ مکتبِ فکر – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک کی نثری خدمات اور درویزہ مکتبِ فکر – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک کی نثری خدمات اور درویزہ مکتبِ فکر – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

تاریخ کے فکری اور ادبی اُفق پر بعض ایسی عبقری شخصیات ملتی ہیں جنہوں نے اپنی ذات میں حیات و کائنات کے متضاد مگر حسین زاویوں کو یکجا کیا۔ تاریخ کے ورق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی معاشرے کو فکری انحطاط کا سامنا کرنا پڑا، تو کچھ ایسے درخشندہ ستارے اُبھرے جنہوں نے بیک وقت تلوار اُٹھا کر باطل کا سر کچلا اور قلم سنبھال کر روح کو تروتازہ کیا۔ اس زریں روایت کے امین بزرگوں میں محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاک کا نام انتہائی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ سترہویں صدی کے ایک ایسے ممتاز عالم، صوفی، مجاہد اور صاحبِ تصانیف بزرگ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو ترویجِ شریعت، اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اخلاقی بیداری کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

اخوند سالاک کی دینی اور روحانی تربیت کسی عام پس منظر میں نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ اسلاف کے اس روشن فکر چشمے سے سیراب تھے جس کا مرکز سید علی ترمذی المعروف پیر بابا اور اخوند درویزہ بابا کا دبستانِ فکر تھا۔ اُن کا فکری رشتہ اور نظریاتی وابستگی اخوند درویزہ بابا کے مکتبِ فکر کیساتھ اتنی گہری اور مضبوط تھی کہ اُنکے قلمی آثار اس کی پرزور تائید کرتے ہیں۔ اُن کی زندگی کے یہ تار سید عبدالوہاب المعروف اخوند پنجو بابا، میاں عبدل بابا اور اخوند درویزہ بابا کے فرزند اخوند کریمداد المعروف شہید بابا جیسی جلیل القدر شخصیات کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ پشتو کے کلاسیکی دور کے نامؤر شاعر حافظ الپوری نے بھی اپنی شاعری میں اخوند کریمداد اور اخوند سالاک کے روحانی اور جہادی مرتبے کو یکجا خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

محققین اور مؤرخین کے مطابق، اگرچہ وقت کے بے رحم تھپیڑوں اور نامساعد حالات کی وجہ سے اخوند سالاک کے بیشتر تصنیفی سرمائے اور علمی ذخائر زمانے کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکے اور آج نایاب ہیں، تاہم اُن کے کلام میں موجود نثری شاہکار اِس حقیقت کا مکمل پتا دیتے ہیں۔ یہ مسودات اُن کی ادبی اور نثری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مؤرخین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی تحریری باقیات کی دریافت نے ادبی محققین کے لیے تحقیق کے نئے اور وسیع افق وا کیے ہیں، جو اِس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ وہ میدانِ جنگ کے شہ سوار ہونے کے ساتھ کہنہ مشق نثر نگار بھی تھے۔

ماہرینِ لسانیات اور ادبی محققین کے تجزیوں کے مطابق، اُن کے اسلوبِ نثر کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ اخوند درویزہ بابا کے قائم کردہ نثری اور فکری اسلوب کے سچے اور پکے پیروکار تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ خیرالبیان اور اخوند درویزہ بابا کے مخزن نے جس نیم منظوم اور آہنگ سے بھرپور نثر کی بنیاد رکھی تھی، اخوند سالاک نے اسی اسلوب کو آگے بڑھایا۔ ادبی ناقدین کے نزدیک اُن کے تحریر کردہ جملے مسجع اور مقفّٰی ہوتے ہیں جن میں وزن اور قافیے کی تمام لطافتیں پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہوتی ہیں۔

اُن کے نثری اسلوب کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس میں جملوں کا طویل ہونا اور عربی و فارسی الفاظ کا شاندار امتزاج ہے۔ اُن کی تحریروں میں دینی اصطلاحات اور علمی تراکیب کا استعمال اِس بات کا غماز ہے کہ وہ علومِ اسلامیہ پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زبان کی مٹھاس اور صفا کا بھی پورا پاس رکھتے تھے۔ اُن کے قلم کی روانی میں ایک ایسی تاثیر پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ اسلوب دراصل اس فکری تسلسل کا حصہ تھا جہاں مقصد صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ تزکیہ نفس مقصود ہوتا تھا۔

تذکرہ نگاروں اور ادبی ناقدین کے مطالعے کے مطابق، موضوعاتی اعتبار سے اخوند سالاک کے ہاں تصوف، شریعت کی پابندی، فقہ حنفی کی ترویج اور روزِ قیامت کے مناظر کی تصویر کشی نمایاں نظر آتی ہے۔ مفسرینِ ادب کا کہنا ہے کہ اُن کی تحریروں میں جنت کی بہاریں، حور و غلمان کے مناظر اور دوزخ کی ہولناکیوں کا جو بیان ملتا ہے، وہ محض واعظانہ خطابت نہیں بلکہ دل کو چیر دینے والا اثر رکھتا ہے۔ مؤرخین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اُنکا بنیادی مقصد عامتہ الناس کو اخلاقی پستی سے نکال کر اخروی فلاح کی راہ پر گامزن کرنا تھا، اسی لیے تذکروں میں اُنکی تحریریں سراسر اصلاحی روح سے سرشار بتائی گئی ہیں۔

حضرت اخوند سالاک کی پوری زندگی جہدِ مسلسل اور علم و عمل کا ایک درخشندۂ باب ہے جس نے تاریخ میں اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین کی سربلندی اور فکری پختگی کی آبیاری میں صرف کیا۔ اُن کے ہاں تلوار اور قلم کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، وہ تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے جس نے معاشرے کی فکری بنیادوں کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور آنیوالی نسلوں کے لیے ایک روشن مینارِ ہدایت ثابت ہوا۔

اخوند سالاک کی ادبی اور فکری خدمات کا احاطہ کرنا اِس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنے کلاسیکی سرمائے کو از سر نو دریافت کریں۔ یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ وہ چند ایسے نفوسِ قدسیہ میں شامل تھے جو بیک وقت صاحبِ سیف بھی تھے اور صاحبِ قلم بھی۔ آج جب ہم اپنے روشن باب پلٹتے ہیں تو اخوند سالاک کا نام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ حقیقی فکری انقلاب ہمیشہ علم، اخلاق اور عمل کی مشترکہ قوت سے جنم لیتا ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کے آثار پر مزید کام کیا جائے۔