داد بیداد – غلطی ہائے مضامین – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
مرزا غالب نے کہا تھا:
غلطی ہائے مضامین نہ پوچھ لوگ نالے رسا باندھتے ہیں
غالب یہ کہنا چاہتے تھے جو لوگ عاشق کی فریاد کو کارگر سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں
۔
جدید دور میں ذرائع ابلاغ میں مضامین کے اندر بھانت بھانت کی بولیاں پہلے زمانے کی طرح آتی ہیں مزید ظلم یہ ہوا ہے کہ املاء میں فاش غلطیوں کی بھر مار دکھائی دیتی ہے ایک مختصر کالم میں ذرائع ابلاغ کی پروف ریڈنگ نہیں ہو سکتی اور نہ مطلوب ہے۔ آج کل ایسی غلطی کو غلط العام بنایا گیا ہے جس کا تعلق جغرافیہ اور تاریخ سے ہے سلطنت اومان کا نام عمان لکھا جا رہا ہے اور تسلسل کے ساتھ لکھا جارہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں جغرافیائی لحاظ سے بھی، تاریخی لحاظ سے بھی اور حالاتِ حاضرہ کے اعتبار سے بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اومان (Oman) عرب ریجن کی سب سے قدیم سلطنت ہے جس کی بنیاد سترھویں صدی میں رکھی گئی۔ اٹھارویں صدی
کے وسط یعنی 1744ء سے اب تک اس ملک پر ابو سعید خاندان کے سلاطین حکمرانی کرتے آرہے ہیں اس کا رقبہ 316 مربع کلومیٹر اور اس کی آبادی 60 لاکھ نفوس کے قریب ہے یہ سلطنت تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہے سمندری موتیوں کے لئے شہرت رکھتی ہے اس کی زمینی سرحدیں یمن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں جبکہ اس کی سمندری حدود پاکستان اور ایران سے ملتی ہیں پاکستان نے گوادر 1953 میں سلطنتِ اومان سے خریدی مسلم لیگ کے بانی صدر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم نے اس کی قیمت ادا کرنے میں پاکستان کی مدد کی۔
حال ہی میں ابنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ میں مال بردار جہازوں کی آمدورفت کے سلسلے میں ایران کے ساتھ سلطنتِ اومان کا بڑا معاہدہ ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں عمان (Amman) مملکتِ اردن (Jordan) کا بڑا شہر اور دارالحکومت ہے یہ خشکی میں گھرا ہوا (Land locked) شہر ہے اس کی کوئی سمندری پٹی نہیں، سمندری جہازوں کی
آمدورفت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ اردو اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے نیوز ڈیسک پر انگریزی میں آنے والی نیوز ایجنسیوں کی انگریزی خبروں کا ترجمہ کرتے ہوئے کسی سب ایڈیٹر سے ایک بار بھول چوک میں غلطی ہو گئی اس نے Oman کو عمان لکھا پھر سب نے اس کی پیروی کی اور مکھی پر مکھی مارنے کا سلسلہ چل پڑا۔ اگر فون پر یا ملاقات میں کسی دوست کو بتایا جائے کہ اردو میں عمان غلط ہے تو وہ بزرگوں کے اقوال سے دلیل لاتا ہے کہ غلط العام ہے۔ سب لوگ ایسا ہی لکھتے ہیں عرض کرنے والا اگر لاکھ کہے کہ نقشہ نکالو، تاریخ کھنگالو کم از کم گوگل چچا سے پوچھو تو اس کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، دراصل ذرائع ابلاغ میں نوجوانوں کی پوری کھیپ آئی ہوئی ہے 1970 کے بعد جو بچے سکولوں اور کالجوں میں داخل ہوئے ان کو تبدیل شدہ کتابیں پڑھائی گئیں، نئی درسی کتابوں سے جغرافیہ کا حصہ نکال دیا گیا
دنیا کا نقشہ، ایشیا کا نقشہ، پاکستان کا نقشہ حذف کیا گیا مطالعہ قدرت کا مضمون ختم کر دیا گیا نئی نسل نے جو تعلیم حاصل کی وہ ادھوری تعلیم ہے جغرافیہ کے بغیر تعلیم کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔ اخبار نویسوں کی مجلس میں اس کا ذکر چھیڑا تو کئی دوستوں نے “یادوں کی بارات” کا حوالہ دیا جوش ملیح آبادی کی خود نوشت سوانح کا نام “یادوں کی برات” لکھا جاتا ہے کتاب کا نیا ایڈیشن غلط نام سے آ گیا ہے “بارات”، دلہا کے ساتھ آنے والے جلوس کا نام ہے “برات”، کے معنی ہیں بیزاری، جوش نے یادوں سے بیزاری نہیں لکھی ان کے مشہور قطہ کاشعر ہے اس سے پہلے کہ بھول جائے سب کچھ یادوں کی بارات کو مرتب کرلے، غلط العام کے نام سے چلنے والی رخصت کا سہارا لے کر یاروں نے حضرت جوش کو بھی مشقِ ستم بنایا حالانکہ جوش زبان کی صحت کا اتنا زیادہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے مجموعہ کلام “رامش و رنگ” میں بعض الفاظ پر باقاعدہ اعراب لگائے گئے ہیں تاکہ قارئین سیاملا تلفظ میں سہو و سرزد نہ ہو، اردو کے اساتذہ اور ذرائع ابلاغ میں اہم ڈیسکوں کی نگرانی کرنے والے اربابِ اختیار کو املاء کی فاش غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اور نوجوان کارکنوں کو سمجھانا چاہیے کہ “غلط العام” کی رخصت محدود ہے لا محدود نہیں۔غالب ہی کا شعر یاد آیا
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کوبھی میسر نہیں انسان ہونا