چترال: چوبیس گھنٹے معطل رہنے کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال، صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا، سیلولر کمپنیوں کی سروس بھی ناقص
۔
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال شہر اور مضافات میں مسلسل چوبیس گھنٹے تک بند رہنے والی انٹرنیٹ سروس بالآخر بحال کر دی گئی ہے، تاہم طویل معطلی کے باعث ضلع بھر کے شہریوں، تاجر برادری اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف آن لائن کاروباری و تعلیمی سرگرمیاں اور سرکاری و نجی دفاتر کے امور ٹھپ ہو کر رہ گئے، بلکہ خبروں کی بروقت ترسیل اور صحافتی امور کی انجام دہی میں بھی شدید پیچیدگیاں پیش آئیں۔
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ چترال میں انٹرنیٹ سروس کی معطلی اب ایک معمول بن چکی ہے۔ معمولی بارش، لینڈ سلائیڈنگ یا سیلابی صورتحال پیدا ہوتے ہی خطے کا مواصلاتی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو جاتا ہے، جس سے عوام کو ذہنی و عملی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پی ٹی سی ایل کیبل سیلاب برد ہونے کے باعث چترال میں سروس دینے والی تمام سیلولر کمپنیوں کی سروس بھی مکمل معطل رہی ۔ جوکہ افسوس ناک ہے ۔
صارفین نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیلولر کمپنیاں ماہانہ کروڑوں روپے چترال سے کماتے ہیں مگر سروس انتہائی ناقص اور پی ٹی سی ایل کے رحم کرم پر اپنے صارفین کو چھوڑ دیا گیا ہے ، جبکہ کسی بھی کمپنی کے پاس اپنا انٹرنیٹ سروس نہیں جوکہ افسوسناک ہے ۔
علاقے کے عوامی، سماجی اور تجارتی حلقوں نے اعلیٰ حکام، وادیِ چترال میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے مواصلاتی و انٹرنیٹ نظام کو جدید اور فائبر آپٹک کی سطح پر پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ موسم کی خرابی کے دوران بھی شہریوں کو بلا تعطل انٹرنیٹ کی سہولت میسر رہ سکے۔
