The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

شیر شاہ سوری: برصغیر کا عظیم پشتون حکمران اورمنتظم – تحریر: قریش خٹک

Chitral Times

شیر شاہ سوری: برصغیر کا عظیم پشتون حکمران اورمنتظم – تحریر: قریش خٹک

شیر شاہ سوری: برصغیر کا عظیم پشتون حکمران اورمنتظم – تحریر: قریش خٹک

شیر شاہ سوری: برصغیر کا عظیم پشتون حکمران اورمنتظم – تحریر: قریش خٹک

.

پاکستان کو درپیش دورِ حاضر کے کثیرالجہتی بحران، سیاسی عدم استحکام، انتظامی اور معاشی تزلزل کی بنیادی وجہ محض مالی وسائل کی قلت نہیں، بلکہ مؤثر حکمرانی (Good Governance) اور پائیدار ریاستی اداروں کا فقدان ہے۔ ملک میں حکومتی تبدیلیوں اور پالیسیوں کے تسلسل میں فقدان کی وجہ سے ادارے مسلسل ضعف کا شکار رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر برصغیر کی تاریخی روایات کا مطالعہ کیا جائے تو شیر شاہ سوری کا دورِ حکومت معاصر پالیسی سازوں، سیاسی قیادت اور سرکاری منتظمین کے لیے ایک نادر عملی ڈھانچہ پیش کرتا ہے۔

عمومی تاریخ نگاری میں شیر شاہ سوری، جن کا اصل نام فرید خان تھا،کو ہمایوں اور اکبر کے درمیانی عہد کے ایک عارضی (پانچ سالہ) حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، سنجیدہ تاریخی اور سیاسی تجزیہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے۔ 1540ء سے 1545ء کے مختصر پانچ سالہ دور میں اس نے جن بنیادی انتظامی اصلاحات کی بنیاد رکھی، وہی آگے چل کر مغل سلطنت کی پائیدار انتظامی ساخت کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ چنانچہ شیر شاہ کو محض ایک فاتح کے بجائے برصغیر میں جدید ریاستی و انتظامی نظام کا بانی اور حقیقی معمار تسلیم کیا جانا چاہیے۔

معاصر پاکستان کا اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ حکمرانی کا محور آئین، قانون اور ادارہ جاتی قواعد کے بجائے شخصیات کی مرضی بن چکا ہے۔ سیاسی ترجیحات کا بڑا حصہ مخالفین کی تضعیف، اقتدار کی طوالت اور وقتی سیاسی مفادات کے گرد گھومتا ہے، جبکہ ساختی اصلاحات مثلاً سول سروس کی جدید کاری، ٹیکس کے مؤثر نظام، پولیس اور عدالتی اصلاحات، اور مقامی حکومتوں کی بااختیاری مسلسل تذبذب کا شکار ہیں۔ اس انتظامی تعطل کا براہِ راست اثر عام شہریوں کے معیارِ زندگی پر پڑ رہا ہے۔

شیر شاہ سوری نے مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو عسکری توسیع پسندی کے بجائے “ریاستی تعمیرِ نو” (State-building)پر مرکوز کیا۔ اس نے سلطنت کو منظم انتظامی اکائیوں (سرکاروں اور پرگنوں) میں تقسیم کیا، اختیارات کی مرکزیت اور عدم مرکزیت کے درمیان توازن قائم کیا، مالیاتی نگرانی کا سخت نظام وضع کیا اور ہر اہلکار کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا۔ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسا طرزِ حکمرانی قائم کرنا تھا جو افراد کی ذاتی بصیرت پر منحصر ہونے کے بجائے خودکار اور مضبوط اداروں کی بنیاد پر عمل پیرا ہو۔

ریاستی اداروں میں تقرریوں کا شفاف نظام پاکستان کا ایک اور اہم چیلنج ہے۔ ہمارے ہاں قابلیت کے بجائے سیاسی وابستگی، اقربا پروری اور طبقاتی اثر و رسوخ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ شیر شاہ سوری نے اس روایتی اشرافیاتی نظام کی نفی کی۔ اس کے نزدیک ریاستی استحکام کی ضمانت اہلیت، شفافیت اور کڑے احتساب میں تھی، نہ کہ خاندانی و قبائلی نسب میں۔ اس نے روایتی نوابین اور اشرافیہ سے ہٹ کر خالصتاً صلاحیت کی بنیاد پر افراد کو انتظامی امور سونپے۔

پاکستان کی معاشی زبوں حالی کی بڑی وجوہات غیر مؤثر مالیاتی نظم و نسق، ٹیکس کی محدود بنیادیں، غیر دستاویزی معیشت اور مالی بے ضابطگیاں ہیں۔ شیر شاہ سوری نے زمینوں کی سائنسی پیمائش، تحریری معاہدوں (پٹہ اور قبولیت)، اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے ذریعے ایک شفاف اور منصفانہ ریونیو نظام قائم کیا۔ اس نے یہ نقطہ واضح کیا کہ پائیدار معیشت کی بنیاد جبری ٹیکس وصولیوں کے بجائے منصفانہ اور شفاف مالیاتی قواعد پر مبنی ہوتی ہے۔

مزید برآں، اس نے اقتصادی تحرک کے لیے مواصلاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنایا، جس کی واضح مثال “جرنیلی سڑک” (Grand Trunk Road) کی تعمیر، یکساں کرنسی (روپیہ) کا اجرا، منظم نظامِ ڈاک اور تجارتی گزرگاہوں کا تحفظ تھا۔ پاکستان کے موجودہ تناظر میں علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی بحالی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب بنیادی انفراسٹرکچر، ریاستی عملداری اور ادارہ جاتی شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔

قانون کی یکساں حکمرانی (Rule of Law) شیر شاہ کے فلسفۂ حکمرانی کا بنیادی ستون تھی۔ اس کے نزدیک ریاست کی اولین ترجیح شہریوں کی جانی و مالی سیکیورٹی تھی۔ اس نے امن و امان کے قیام کے لیے مقامی انتظامیہ کو براہِ راست اور اجتماعی طور پر جوابدہ بنایا اور قانون کے نفاذ میں نجی یا خاندانی تعلقات کو یکسر مسترد کر دیا، خواہ مجرم کا تعلق اشرافیہ سے ہو یا حکمران کے اپنے خاندان سے۔ یہی غیر جانب دارانہ اور مساویانہ نظامِ عدل عوام کے اندر ریاست پر اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔

شیر شاہ سوری کی سیاست کا طرۂ امتیاز زبانی جمع خرچ کے بجائے “نتیجہ خیز اقدامات” (Outcome-oriented action) تھے۔ اس کے تمام فیصلوں کا محور عوامی فلاح اور انتظامی مؤثریت تھا۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی لفاظی اور سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی حکمرانی، معیاری تعلیم و صحت، محفوظ انفراسٹرکچر، اور فوری و ارزاں انصاف کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی و انتظامی تناظر میں شیر شاہ سوری کا طرزِ حکمرانی صرف تاریخ کا ایک سنہری باب نہیں بلکہ ایک زندہ اور قابلِ عمل سبق ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر قیادت کا عزم ادارہ سازی، میرٹ، مالیاتی دیانت اور قانون کی پاسداری پر مبنی ہو تو محدود وسائل اور مختصر وقت میں بھی ایسی دیرپا اور ساختی اصلاحات ممکن ہیں جن کے اثرات صدیوں تک محیط رہتے ہیں۔ اقوام کی عظمت کا انحصار حکمرانوں کی مدتِ اقتدار یا ان کے نعروں پر نہیں بلکہ ان پائیدار اداروں پر ہوتا ہے جو وہ آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ قیادت کے لیے شیر شاہ کا یہ تاریخی سبق آج بھی روشن اور مشعلِ راہ ہے۔