چترال کے دو پائلٹس کا نیا کارنامہ، ہندوکش کے بلند پہاڑوں پر پیراگلائڈنگ کی کامیاب کراس کنٹری پرواز
۔
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے دو نوجوان پیراگلائڈنگ پائلٹس نے ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے اوپر کامیاب کراس کنٹری پرواز کرتے ہوئے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا۔ دونوں پائلٹس نے زائنی پاس اپر چترال سے ٹیک آف کرکے چترال شہر تک فضائی سفر کامیابی سے مکمل کیا، جسے مقامی سطح پر پیراگلائڈنگ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 29 جولائی 2026 کو ظہیرالدین بابر اور المعتصیم باللہ نے صبح 10 بجے بونی کے قریب واقع زائنی پاس سے پیراگلائڈر کے ذریعے پرواز کا آغاز کیا۔ دونوں پائلٹس نے ہندوکش کے بلند پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ چترال ایئرپورٹ کے قریب کرکٹ گراؤنڈ میں لینڈنگ کی۔
پائلٹس کے مطابق ظہیرالدین بابر نے دورانِ پرواز 5,723 میٹر (18,773 فٹ) کی زیادہ سے زیادہ بلندی حاصل کی اور 2 گھنٹے 38 منٹ میں چترال پہنچے، جبکہ المعتصیم باللہ نے 4,925 میٹر کی بلندی تک پرواز کرتے ہوئے 2 گھنٹے 20 منٹ میں یہ فاصلہ طے کیا۔ دونوں پائلٹس نے اپنی پرواز کے فلائٹ لاگز بھی جاری کیے، جن میں بلندی، رفتار اور پرواز کے مکمل راستے کی تفصیلات درج ہیں۔
ظہیرالدین بابر اس سے قبل 2019 اور 2020 میں بھی اسی نوعیت کی کامیاب کراس کنٹری پروازیں کر چکے ہیں، تاہم اس مرتبہ اپر چترال کے دو مقامی پائلٹس نے مشترکہ طور پر یہ مہم مکمل کی، جسے علاقے میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔
پرواز کے حوالے سے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے پائلٹس نے بتایا کہ یہ دراصل ایک تربیتی (ٹریننگ) فلائٹ تھی، جس کا بنیادی مقصد 100 کلومیٹر کی کراس کنٹری پرواز مکمل کرنا تھا۔ تاہم چترال شہر کے قریب موسمی حالات اور ہوا کی سمت میں اچانک تبدیلی کے باعث انہیں طے شدہ ہدف سے پہلے ہی لینڈنگ کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد دوبارہ کوشش کریں گے اور 100 کلومیٹر کا ہدف ضرور مکمل کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے، بالخصوص چترال، پیراگلائڈنگ کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ سازگار فضائی حالات، بلند پہاڑی سلسلے اور قدرتی مناظر کے باعث یہ علاقہ ملکی اور غیر ملکی پیراگلائڈنگ پائلٹس کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔ یہاں اب تک پیراگلائڈنگ کے تین عالمی ریکارڈ بھی قائم ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور متعلقہ ادارے پیراگلائڈنگ سمیت ایڈونچر سپورٹس کی سرپرستی کریں، نوجوانوں کو تربیت اور سہولیات فراہم کریں اور بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کریں تو چترال نہ صرف عالمی سطح پر ایڈونچر ٹورازم کا اہم مرکز بن سکتا ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت اور سیاحت کو بھی نمایاں فروغ حاصل ہوگا۔
یہ کامیاب پرواز نہ صرف چترال کے نوجوان پائلٹس کی مہارت اور حوصلے کا مظہر ہے بلکہ اس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ چترال قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ ایڈونچر سپورٹس کے میدان میں بھی عالمی سطح پر منفرد مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
