احساس اسکالرشپ پروگرام خیبرپختونخوا حکومت اپنے وسائل سے دوبارہ شروع کرے گی، بلاسود تعلیمی قرضے دے رہے ہیں، انٹرنشپ پالیسی کا اعلان جلد ہوگا, وزیراعلیٰ
.
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی یا تنزلی کا انحصار اس کی قیادت، پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی پر ہوتا ہے۔ پاکستان بے شمار قدرتی وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور نوجوان آبادی سے مالا مال ملک ہے، تاہم گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران قومی سطح پر غلط پالیسیوں، بدانتظامی، وسائل کے غیر مؤثر استعمال اور عوامی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کے باعث ملک کو سنگین معاشی، انتظامی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ریاست کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی کشیدگی اور اقتدار کے تحفظ پر مرکوز رہے گی تو اس کے ملکی ترقی، معیشت اور قومی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، جن کے نتیجے میں نہ صرف مالی نظم و نسق بہتر ہوا بلکہ حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال اور محصولات میں نمایاں اضافہ بھی ممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریباً پچھتر برس تک خیبرپختونخوا کی سالانہ محصولات تقریباً 68 ارب روپے کی سطح پر رہیں، تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے مالیاتی نظم و نسق، شفافیت، احتساب اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے بغیر کوئی نیا ٹیکس عائد کیے مالی سال 2024-25 میں صوبائی محصولات بڑھا کر 92 ارب روپے تک پہنچا دیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے محصولات کا ہدف 129 ارب روپے مقرر کیا تھا، تاہم مؤثر اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے، وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور ریونیو نظام کی بہتری کے باعث صوبائی محصولات 150 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں، جو خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا نتیجہ نہیں بلکہ مؤثر گورننس، مالی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کا ثمر ہے۔ اگر نیت درست ہو، نظام شفاف ہو اور حکومتی ادارے عوامی مفاد کو مقدم رکھیں تو عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا حل صرف عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے میں نہیں بلکہ معیشت کو وسعت دینے، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو محصولات میں اضافے کے لیے صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے طویل المدتی معاشی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی وفاقی حکومت کے دور میں ملکی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں سیاسی تبدیلیوں اور نااہل حکمرانوں کے نتیجے میں ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور دیگر سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے، جن سے نکلنے کے لیے قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تمام مالی مشکلات کے باوجود عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور محدود وسائل کے باوجود ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت صوبے کی تمام سرکاری جامعات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے وقت جامعات شدید مالی بحران، اربوں روپے کے خسارے اور کئی برسوں سے زیر التوا پنشن واجبات جیسے مسائل سے دوچار تھیں، تاہم حکومت نے ان مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہوئے مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے جامعات کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2017 سے جون 2026 تک سرکاری جامعات کے تمام پنشن واجبات مکمل طور پر ادا کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جامعات کے مالی خسارے میں بھی نمایاں کمی کی ہے۔ موجودہ حکومت کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے وقت جامعات کو تقریباً 9 ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا جسے کم کر کے تقریباً 4.5 ارب روپے تک لایا گیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں جامعات کے لیے حکومتی معاونت کو 10 ارب روپے تک بڑھایا گیا جبکہ رواں مالی سال میں اس رقم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مالی استحکام حاصل ہو اور وہ تدریس، تحقیق اور معیارِ تعلیم کی بہتری پر بھرپور توجہ دے سکیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی وفاقی حکومت کے دور میں متعارف کرایا گیا احساس اسکالرشپ پروگرام ہزاروں مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا، جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، تاہم بعد ازاں اس پروگرام کو بند کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریب کے دوران انہیں ایسے متعدد طلبہ سے ملنے کا موقع ملا جنہوں نے احساس اسکالرشپ پروگرام سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی، نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت احساس اسکالرشپ پروگرام کو اپنے وسائل سے دوبارہ شروع کرے گی تاکہ کوئی بھی باصلاحیت طالب علم مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت طلبہ کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے بلاسود تعلیمی قرضوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ایسے طلبہ جو ملک کے اندر اپنی تعلیمی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں بھی بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بلا تعطل اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عملی میدان کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے انٹرنشپ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں عملی تربیت، پیشہ ورانہ تجربہ اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو عوام آج بھی امید اور تبدیلی کی علامت سمجھتے ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کی مقبولیت کا فیصلہ صرف عوام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور تمام ریاستی اداروں کو اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور حقیقی جمہوری نظام کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معاملات، آئینی ذمہ داریوں اور جمہوری اقدار سے بھی آگاہ رہیں کیونکہ مستقبل کی قیادت انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی بڑی جمہوری، آئینی اور قومی تحریکوں میں طلبہ نے ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور آج بھی نوجوان پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔
صوبے کے حقوق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور آئین پاکستان کے تحت ان وسائل پر سب سے پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی، قانونی اور مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور انداز میں آواز اٹھاتی رہے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم صوبوں میں شامل ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے کے عوام گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جہاں قدرتی گیس پیدا ہوتی ہے، اس پر سب سے پہلے وہاں کے عوام کا حق ہے، لہٰذا اس آئینی اصول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی گیس پیداوار میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے جبکہ صوبے کی اپنی کھپت اس سے کہیں کم ہے، اس کے باوجود عوام کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح صوبے کو مختلف مالی مدات میں واجب الادا رقوم کی بروقت ادائیگی بھی ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی پروگراموں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب بھی کسی صوبے یا علاقے کے آئینی اور معاشی حقوق نظرانداز کیے جاتے ہیں تو وہاں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام اکائیوں کو آئین کے مطابق ان کے حقوق دیے جائیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ وفاق مزید مضبوط ہو اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے خوابوں پر سمجھوتہ نہ کریں، بڑے مقاصد کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے مسلسل محنت، دیانت داری اور استقامت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنی منزل سے نظریں نہیں ہٹاتے۔ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو منعقد کیے جانے والے جلسے میں بھرپور شرکت کریں اور آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، عوامی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نوجوانوں، طلبہ، جامعات اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتی رہے گی اور تعلیم، معیشت، گورننس اور عوامی خدمات کے شعبوں میں اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور یہی نسل ملک کو ترقی، خوشحالی، خودانحصاری اور حقیقی جمہوری استحکام کی منزل تک لے جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کی، ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی علمی، پیشہ ورانہ اور اخلاقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
