سرکاری گندم کی ریلیز سے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی،، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2,520 روپے مقرر،
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا نے صوبائی اسٹریٹیجک ریزرو سے روزانہ 2 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم کی ریلیز شروع کر دی ہے، جس کے تحت 100 کلوگرام کے 20 ہزار بیگز روزانہ فلور ملز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور گندم و آٹے کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ معاون خصوصی نے گزشتہ روز جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 520 روپے مقرر کر دی ہے۔
عوام سے اپیل ہے کہ سرکاری گندم سے تیار کردہ آٹے کے معیار پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کے غیر معیاری آٹے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا کوٹہ منسوخ کرنے کے ساتھ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تاہم پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈاکٹر محمد اسرار نے بتایا کہ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی سرپرستی میں گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ پنجاب کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس خیبرپختونخوا آنے والے گندم اور آٹے کے ٹرکوں کو بھتہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتیں، جس سے اشیائے خورونوش کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یا تو بین الصوبائی ترسیل پر عائد غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں یا خیبرپختونخوا حکومت اور مقامی تاجر برادری کو قریبی ممالک سے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریبی ممالک سے کم قیمت پر معیاری گندم درآمد کی جا سکتی ہے، جس کے معیار کی نگرانی مقامی تاجر اور سرمایہ کار خود کریں گے، جبکہ صوبائی حکومت بھی مؤثر نگرانی یقینی بنائے گی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت بین الصوبائی آزاد تجارت بحال نہیں کرتی یا گندم درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو مستقبل میں کسی بھی بحران یا قیمتوں میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔