خیبرپختونخوا حکومت کا پشاورمیں 34 پارکس کی اپگریڈیشن کا آغاز، وزیراعلیٰ کا اربن ٹرین اور آوٹر رنگ روڈ جیسے منصوبوں کا اعلان،
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق پشاور کی بحالی اور جدید خطوط پر ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت شہر کی ترقی اور خوبصورتی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے اور عوام سے کیے گئے تمام وعدے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پورے کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز شاہی باغ میں پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کے تحت پشاور کے موجودہ 34 پارکس کی اپگریڈیشن کے منصوبے پر کام کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
واضح رہے کہ34 موجودہ پارکس کی اپگریڈیشن کا یہ منصوبہ ایک ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، منصوبے میں شامل تمام 34 پارکس پر بیک وقت تعمیراتی و اپگریڈیشن کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ترقیاتی سرگرمیوں اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے منصوبے کو پانچ مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور ریوائٹلائزیشن پلان کو عملی جامہ پہنانے پر تمام متعلقہ محکموں خصوصی طور پر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور لوکل گورنمنٹ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پلان کے تحت افتتاح کیے گئے تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی کے لیے 200 ارب روپے کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اربن ٹرین منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر جلد عملی کام کا آغاز ہوگا تاکہ شہریوں کو جدید، تیز رفتار اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباو کے پیش نظر آوٹر رنگ روڈ منصوبہ بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بن چکا ہے، اس کی فزیبلٹی آخری مراحل میں ہے اور جلد اس پر بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے مسلسل تیسری مرتبہ عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اسی اعتماد پر پورا اترنے کے لیے صوبائی حکومت بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے باوجود صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام اضلاع میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے بڑے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر مالی مشکلات اور وسائل کی کمی کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت نے شفافیت، مالی نظم و ضبط اور اصلاحات کے ذریعے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے 129 ارب روپے ریونیو کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے 150 ارب روپے کی وصولیاں کیں، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے بڑھا کر 200 ارب روپے تک لے جانے کا عزم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا بلکہ انتظامی اصلاحات، بہتر گورننس، مالی شفافیت اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے ذریعے ریونیو میں اضافہ ممکن بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی اصلاحات کی بدولت خیبرپختونخوا محدود وسائل کے باوجود مالی طور پر مستحکم ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ سے محروم ہیں، اسی لیے وہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے وقت ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار تھی، مگر موجودہ پالیسیوں کے باعث قومی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 3 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق اس دور میں مہنگائی نسبتاً کم، روزگار کے مواقع زیادہ، صنعتی اور زرعی پیداوار بہتر جبکہ صنعتکار اور کسان مطمئن تھے، لیکن آج کسان، صنعتکار اور نوجوان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کے باعث زرعی اور صنعتی شعبے متاثر ہوئے ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ملکی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 75 برسوں میں پاکستان کا مجموعی اندرونی اور بیرونی قرضہ تقریباً 43 ہزار ارب روپے تھا، جو موجودہ حکومت کے دور میں بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بیرونی قرضہ تقریباً 36 ہزار ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر مصنوعی طور پر تقریباً 280 روپے پر برقرار رکھی گئی ہے اور اگر دوست ممالک قرضوں کی واپسی کا مطالبہ کریں تو ڈالر 400 روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت قومی اثاثوں کی نجکاری کر رہی ہے اور مستقل معاشی اصلاحات کے بجائے عارضی اقدامات پر انحصار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسان، صنعتکار اور نوجوان معاشی دباو کا شکار ہیں اور عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو موجودہ بحران سے کون نکال سکتا ہے، روزگار، معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر کون گامزن کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں مگر عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور قوم انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ایک طرف عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں، روزگار اور فلاحی اقدامات پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب آئین، قانون کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے، مگر انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور صوبے کے ساتھ مسلسل زیادتیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کسی دباو، طاقت یا گرفتاریوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ پارٹی کارکن عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ انہیں طاقت سے دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی لالچ سے خریدا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال سے سیاسی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کا واحد حل آئین، قانون پر عملدرآمد اور عوامی اعتماد میں ہے۔ انہوں نے بلوچستان، کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پالیسیوں پر نظرثانی اور قومی مسائل کے حل کے لیے عوامی رائے کا احترام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے مستقبل، اپنے بچوں اور پاکستان کی خاطر کردار ادا کرے، کیونکہ یہ ملک کسی فرد یا طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ 5 اگست کو بڑی تعداد میں پشاور ٹول پلازہ پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع کسی ایک فرد یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان، آئین، جمہوریت، عوامی حقوق اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ہوگا۔انہوں نے کہا، “پانچ اگست سیمی فائنل ہے اور ہم نے اسے ہر صورت جیتنا ہے۔ انشاءاللہ اسی روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔”انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں جاری رکھے گی۔خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے اور قوم کو اپنے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے تمام کارکنوں، نوجوانوں اور عوام سے 5 اگست کو بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور ٹول پلازہ پر ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے، جہاں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔