The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کینیڈا زراعت،  کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور سروے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، ہائی کمشنرکی وزیراعلیٰ سے ملاقات 

Chitral Times

کینیڈا زراعت،  کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور سروے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، ہائی کمشنرکی وزیراعلیٰ سے ملاقات 

کینیڈا زراعت،  کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور سروے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، ہائی کمشنرکی وزیراعلیٰ سے ملاقات 

کینیڈا زراعت،  کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور سروے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، ہائی کمشنرکی وزیراعلیٰ سے ملاقات

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعاون، تجارتی تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے زراعت، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، طلبہ اور نوجوانوں کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر کینیڈا کی ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈین حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات، بالخصوص تجارتی روابط، مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں درآمدات اور برآمدات کا فروغ دوطرفہ تعاون کی اولین ترجیح ہے، جبکہ کینیڈا زراعت کے بعد کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور جیولوجیکل سروے کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا دنیا کی بڑی مائننگ کانفرنسز اور نمایاں مائننگ اسٹاک مارکیٹ کا میزبان ہے، جس کے باعث اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے جوہری، شمسی اور ہوائی توانائی، بجلی کی ترسیل اور انرجی اسٹوریج کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کینیڈا کے سینئر ٹریڈ کمشنر کو خیبرپختونخوا کے دورے اور صوبے کے کاروباری اداروں سے ملاقاتوں کے لیے لانے کی کوشش کریں گے تاکہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط کو مزید وسعت دی جا سکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت کی معاشی ترجیحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے ہائی کمشنر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت امداد سے تجارت کی جانب منتقل ہونے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا زراعت، معدنیات اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع رکھتا ہے۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر زراعت کے شعبے میں چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے کی تکمیل سے سات لاکھ ایکڑ بنجر اراضی زیر کاشت آئے گی اور جنوبی اضلاع میں زرعی انقلاب برپا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دنیا کی منفرد ترین اور اعلیٰ معیار کی زرعی پیداوار کا حامل صوبہ ہے، جس کی عالمی منڈیوں میں بے پناہ تجارتی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور صوبائی حکومت خام مال برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری اور برآمد پر توجہ دے رہی ہے، جس سے برآمدات، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں قابل تجدید توانائی کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا صوبہ ہے جبکہ مہمند، گبرال-کالام اور داسو سمیت متعدد پن بجلی منصوبوں کی تکمیل سے توانائی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

اُنہو ں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں پن بجلی کی استعداد سے بھرپور استفادہ کرنے اور توانائی کے وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لی جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔ صوبائی حکومت نے اپنی ٹرانسمیشن لائن کمپنی بھی قائم کر دی ہے۔ خیبرپختونخوا تقریباً سات روپے فی یونٹ کی لاگت سے بجلی پیدا کرتا ہے، مگر یہی بجلی قومی گرڈ کے ذریعے پچاس روپے سے زائد فی یونٹ کے حساب سے واپس خریدنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں صوبے کی اپنی ٹرانسمیشن لائن کمپنی نہایت اہمیت کی حامل ہے، جس کے ذریعے مقامی صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش اور صوبے میں صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ، سہولت اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔