The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا حکومت کے زیراہتمام پھاگرام پاس اپرچترال تا گولین ٹریک پہلی مرتبہ پاکستانی مردو خواتین ٹریکرزنے کامیابی سے عبور کرلیا

Chitral Times

خیبرپختونخوا حکومت کے زیراہتمام پھاگرام پاس اپرچترال تا گولین ٹریک پہلی مرتبہ پاکستانی مردو خواتین ٹریکرزنے کامیابی سے عبور کرلیا

خیبرپختونخوا حکومت کے زیراہتمام پھاگرام پاس اپرچترال تا گولین ٹریک پہلی مرتبہ پاکستانی مردو خواتین ٹریکرزنے کامیابی سے عبور کرلیا

خیبرپختونخوا حکومت کے زیراہتمام پھاگرام پاس اپرچترال تا گولین ٹریک پہلی مرتبہ پاکستانی مردو خواتین ٹریکرزنے کامیابی سے عبور کرلیا

دوران ٹریکنگ ٹیم نے آسٹریا کے کوہ پیما جارج کرونبرگر کی یادگار تختی بھی دوبارہ دریافت کی، جو 31 جولائی 1975 کو انہی پہاڑوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

چوٹی سر کرنے والوں میں کامران خان، مہروش اختر، ثمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، سونیا بابر، آمنہ شبیر اور مدیحہ سید شامل تھے۔

.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال کی ہدایات پر چترال لوئر و اپر میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے پہلی مرتبہ پھاگرام پاس اپر چترال تا گولین لوئر چترال ٹریک پاکستان بھر سے آئے مرد وخواتین ٹریکرز نے کامیابی سے عبور کرلیا۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے تعاون سے پاکستانی کوہ پیماؤں / ٹریکرز پر مشتمل ٹیم نے ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پھاگرام پاس تا گولین ٹریکنگ کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے (5050 میٹر)بلندچوٹی تک رسائی حاصل کی۔

یہ اعزاز حاصل کرنے والی یہ پہلی پاکستانی ٹیم ہے جس میں پہلی مرتبہ خواتین نے بھی اس دشوار گزار تاریخی پہاڑی درے کی چوٹی سر کر کے ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔یہ کامیابی خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت صوبے کے دور افتادہ اور فراموش شدہ پہاڑی راستوں کو دوبارہ دریافت کر کے انہیں محفوظ، پائیدار اور ذمہ دارانہ ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے عالمی سطح پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔اپر چترال کے دلکش پہاڑوں میں واقع پھاگرام پاس پاکستان کے کم دریافت شدہ اور انتہائی دشوار گزار بلند ترین پہاڑی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ جو اپر چترال کی وادی لاسپور کو لوئر چترال کی خوبصورت وادی گولین سے ملاتا ہے۔

یہ راستہ برفانی گلیشیئرز، کھڑی برفیلی ڈھلوانوں، غیر مستحکم پتھریلے راستوں، برفانی تودوں کے خطرات اور دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرتا ہے۔مہم کے شرکاء نے بیس کیمپ سے چوٹی تک تقریباً ایک ہزار میٹربلند چڑھائی اور اس کے بعد ایک ہزار ایک سو میٹر دشوار گزار اترائی مکمل کی۔مہم کے دوران ٹیم نے آسٹریا کے کوہ پیما جارج کرونبرگر (Georg Kronberger) کی یادگار تختی بھی دوبارہ دریافت کی۔ جو 31 جولائی 1975 کو انہی پہاڑوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس یادگار کی دوبارہ دریافت ہندوکش میں ابتدائی کوہ پیماؤں کی قربانیوں اور ان تاریخی راستوں کی اہمیت کی یاد دلاتی ہے۔

چوٹی سر کرنے والی ٹیم میں کامران خان (سب سے پہلے چوٹی پر پہنچنے والے)، مہروش اختر، ثمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، سونیا بابر، آمنہ شبیر، مدیحہ سید شامل تھے۔ان میں مہروش اختر، سمیل روز اور مدھو شالا اختر جو چترال سے تعلق رکھنے والی تین پہلی تین بہنیں ہیں جنہوں نے پھاگرام پاس کی چوٹی سر کی۔ یہ کامیابی ایڈونچر ٹورازم اور کوہ پیمائی میں مقامی خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی روشن مثال ہے۔

chitraltimes kpcta phagram pass laspur golen trakkers women 2 chitraltimes kpcta phagram pass laspur golen trakkers women 3 chitraltimes kpcta phagram pass laspur golen trakkers women 5 chitraltimes kpcta phagram pass laspur golen trakkers women 6