The Voice of Chitral since 2004
Friday, 17 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا دورہ سوات؛ بارہ ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح 

Chitral Times

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا دورہ سوات؛ بارہ ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا دورہ سوات؛ بارہ ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا دورہ سوات؛ بارہ ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

۔
سوات ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع سوات کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے 12 ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ افتتاح کیے گئے منصوبوں میں 9.9 ارب روپے لاگت سے قائم یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کبل، 39.5 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ بدلئی پل،21.4 کروڑ روپے لاگت سے تعمیر شدہ سپیشل چلڈرن سکول اور سپیشل چلڈرن ٹیچر ٹریننگ سنٹر اورکبل پولیس سہولت مرکز بھی شامل ہیں۔ مزید برآں ، وزیر اعلیٰ نے وینئی تا گٹ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جو 1.437 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز کا قیام مراد سعید کے وژن اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس زمین پر آج یونیورسٹی قائم ہے، وہ قبضہ مافیا کے قبضے میں تھی، جسے واگزار کرا کے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کے باقی ماندہ منصوبوں کو بھی مکمل فنڈنگ فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید ارشد شریف یونیورسٹی اور دیگر کیمپسز کے ترقیاتی منصوبوں کو بھی مکمل مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے اور ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میسر آسکیں۔ وزیراعلیٰ نے ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع پر ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے مفادات کے خلاف اقدام ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2018 میں عمران خان نے ایک ہی حکم پر ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کو ٹیکس سے مستثنیٰ کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت نورا کشتی کے بجائے ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کو فوری طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ کرے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع پر ٹیکس کے معاملے پر آج پارلیمنٹیرینز اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا اجلاس منعقد ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی صورت ان علاقوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جن میں عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود صوبے پر ایک بار پھر بدامنی مسلط کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اربوں روپے کے وسائل، دو دہائیوں کی مسلسل کارروائیوں اور 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیوں کے باوجود بھی امن قائم نہیں ہو سکتا تو دہشت گردی سے نمٹنے کی موجودہ پالیسیوں اور حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پالیسیوں پر فوری اور جامع نظرثانی کی جائے تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو پائیدار امن فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے مفادات کے خلاف بننے والی ہر پالیسی کی مخالفت کریں گے، موجودہ پالیسی سے امن کا قیام ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کا وژن اور عوامی راج ہی نافذ ہوگا۔ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ امن کے خواہاں افراد موجودہ پالیسیوں سے بددل ہو رہے ہیں، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن غیور عوام، پولیس اور سی ٹی ڈی کی قربانیوں اور کوششوں سے قائم ہوگا۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر پالیسی کا مقصد خیبرپختونخوا میں امن نہ لانا اور ذاتی مفادات کا تحفظ ہے تو ایسی پالیسی کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔صوبائی وزراءمینا خان آفریدی ، ڈاکٹر امجد ، سوات سے منتخب پارلیمنٹرین ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور دیگر سرکاری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

درین اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع لوئر دیر کا مختصر دورہ کیا، جہاں انہوں نے گزشتہ روز دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ نے زیرِ علاج اہلکاروں کی خیریت دریافت کی، ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے زخمی اہلکاروں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی لازوال قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداء کے لواحقین اور زخمی اہلکاروں کو ہر ممکن معاونت اور سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے شہداء اور غازیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بزدلانہ دہشت گرد کارروائیاں حکومت، پولیس اور عوام کے عزم و حوصلے کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید بھی اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔