The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 12 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ پالیسی، موٹر وہیکلز قوانین میں ترامیم اور دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

Chitral Times

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ پالیسی، موٹر وہیکلز قوانین میں ترامیم اور دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ پالیسی، موٹر وہیکلز قوانین میں ترامیم اور دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ پالیسی، موٹر وہیکلز قوانین میں ترامیم اور دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل پر اعتراضات، متنازع ترامیم پر نظرثانی ہوگی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ سے منظور شدہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے کی گئی بعض ترامیم پر عوام، صحافی برادری اور میڈیا کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی کی جائے گی۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلا کر متنازع نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور جن شقوں پر عوام اور صحافی برادری کو اعتراضات ہیں، ان میں ضروری ترامیم کی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ آزادی اظہارِ رائے کو فروغ دیا اور وہ چاہتے تھے کہ صحافی جہاں ضروری سمجھیں، حکومت پر کھل کر تنقید کریں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے کبھی کسی صحافی کے خلاف غیرقانونی کارروائی نہیں کی، حتیٰ کہ جھوٹے پروپیگنڈے کی صورت میں بھی حکومت صرف قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کے برعکس خیبرپختونخوا میں صحافیوں کو ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے یا غائب کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی ملک کی واحد اسمبلی ہے جو حقیقی عوامی مینڈیٹ سے وجود میں آئی ہے، اس لیے ہر فیصلہ عوامی مفاد اور عوامی رائے کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

 اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ہر شہری کو بلاامتیاز معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹلائزیشن، تربیت یافتہ طبی عملہ، شواہد پر مبنی فیصلوں، مؤثر شراکت داری اور پائیدار مالی وسائل کے ذریعے عوام دوست نظامِ صحت قائم کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق پالیسی میں صحت کے شعبے میں شفافیت، احتساب اور مؤثر نگرانی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ ڈیجیٹل رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بنیادی مراکز صحت کی بہتری، بیسک ایمرجنسی زچہ و بچہ نگہداشت، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی مضبوطی، صحت کارڈ کے تحت او پی ڈی سہولت کا دائرہ بڑھانے اور سکول ہیلتھ سروسز کے آغاز کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ پالیسی کے تحت آئی سی یو، سی سی یو، ٹراما اور برن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، ٹیلی میڈیسن اور پالی ایٹو کیئر کو فروغ دیا جائے گا، کمزور کارکردگی والے صحت مراکز کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، صحت کارڈ پلس کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، بزرگ شہریوں کے لیے جیریاٹرک میڈیسن متعارف کرائی جائے گی اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز میں مزید اصلاحات کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ عوام پر علاج کے مالی بوجھ میں کمی، مقامی وسائل میں اضافہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی دور کرنے، ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن، طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی بہتری، ادویات اور ویکسین کی مسلسل دستیابی، بیماریوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

 

کابینہ نے خیبرپختونخوا پیشہ ورانہ تحفظ و صحت قواعد 2026 کی بھی منظوری دی، جن کے تحت تمام اداروں میں محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول یقینی بنایا جائے گا۔

نئے قواعد کے مطابق آجر حفاظتی پالیسی بنانے، خطرات کی نشاندہی، حفاظتی آلات کی فراہمی اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ 50 یا اس سے زائد ملازمین والے اداروں میں سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندے جبکہ 100 یا اس سے زائد ملازمین والے اداروں میں اہل سیفٹی اینڈ ہیلتھ افسران تعینات کیے جائیں گے۔ ملازمین کی تربیت، ابتدائی طبی امداد، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور طبی نگرانی کے نظام کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

کابینہ نے صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکلز رولز 1969 میں ذاتی رجسٹریشن نمبر کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترامیم کی منظوری بھی دی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو انٹرنیشنل کرین فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کی اجازت دی گئی، جس کے تحت کرین پرندوں اور ان کے قدرتی مسکن کے تحفظ، سائنسی تحقیق، ماحول دوست سیاحت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

کابینہ نے پشاور میں صفوت غیور شہید میموریل ہسپتال کی توسیع، ضلع خیبر میں ایکسائز پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے سرکاری اراضی کی منتقلی، مرحوم ڈاکٹر خورشید عالم کے خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی امدادی پیکج، ضلع باجوڑ کے رہائشی اقبال خان کی زیر علاج بیٹی کے علاج کے لیے 35 لاکھ روپے کی مالی معاونت اور پشاور آنے والی بلوچستان بس کے حادثے کے متاثرین کے لیے خصوصی امدادی پیکج کی بھی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں، زخمیوں اور دیگر مستحق افراد کو امدادی رقوم بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔