The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 12 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے، وزیراعلی کا وزیراعظم کو خط 

Chitral Times

ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے، وزیراعلی کا وزیراعظم کو خط 

ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے، وزیراعلی کا وزیراعظم کو خط 

ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے، وزیراعلی کا وزیراعظم کو خط

۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ایک تفصیلی خط ارسال کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے مجوزہ ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو موخر کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدام ان وعدوں سے انحراف کے مترادف ہے جو سابقہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے تھے اور اس سے انضمام کے عمل پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ٹیکسوں کے مخالف نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے منصفانہ، مساوی اور پائیدار ٹیکس نظام کے حامی ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ ٹیکس عائد کرنے کا نہیں بلکہ ان ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا ہے جو انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے برخلاف ہے۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام وسیع قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا اور اس موقع پر وفاق نے خطے کے کامیاب انضمام اور ترقی کے لیے مسلسل مالی معاونت اور ادارہ جاتی تعاون کی واضح یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے انضمام کے عمل پر بھرپور عملدرآمد کے باوجود وفاق کے متعدد وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا آج بھی غیر متناسب مالی، انتظامی اور سکیورٹی ذمہ داریاں اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انضمام کے حوالے سے وفاق کی جانب سے کیا گیا این ایف سی شیئر کا وعدہ بھی ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا آج بھی امن و امان کے قیام، پولیسنگ، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، متاثرہ آبادیوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو پر قومی مفاد میں بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان بے مثال قربانیوں کے باوجود وفاق کی جانب سے این ایف سی شیئر سے متعلق کیا گیا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ قانونی سرحدی تجارت اور ٹرانزٹ کی طویل بندش کے باعث بالخصوص سرحدی اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جہاں مقامی معیشت کا انحصار تاریخی طور پر سرحد پار تجارت پر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محلِ وقوع سے متعلق مسائل، ناکافی انفراسٹرکچر، محدود صنعتی ترقی، نقل و حمل کے بلند اخراجات اور توانائی کی قلت جیسے عوامل نے نجی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ٹیکس استثنیٰ تاریخی طور پر پسماندہ علاقوں میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی انضمام کے فروغ کے لیے عبوری اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان استثنیٰ کو ان کے ترقیاتی مقاصد کے حصول سے قبل اور وفاقی وعدوں کی تکمیل سے پہلے ختم کرنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی، معاشی بحالی متاثر ہوگی اور مقامی کاروبار اور عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

وفاقی حکومت کے مشاورتی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ ٹیکس اقدامات پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے بین الصوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کمیٹی نے چند محدود اجلاسوں کے باوجود اپنی سفارشات کو حتمی شکل نہیں دی، اس کے باوجود صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے موثر مشاورت مکمل کیے بغیر ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجویز پر عملدرآمد آگے بڑھایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ وفاقی وعدوں کی تکمیل اور طے شدہ مشاورتی عمل مکمل کیے بغیر ایسے یکطرفہ اقدامات عوامی اعتماد کو مجروح کر سکتے ہیں اور ان حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2 جولائی 2026 کو متفقہ قرارداد نمبر 260 کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک مجوزہ ٹیکس اقدامات موخر کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے موجودہ ٹیکس استثنیٰ اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک وفاق انضمام کے وقت کیے گئے اپنے وعدوں کو خاطر خواہ حد تک پورا نہیں کر لیتا اور وہ سماجی و معاشی حالات، جن کی بنیاد پر یہ استثنیٰ دیا گیا تھا، نمایاں طور پر بہتر نہیں ہو جاتے۔ وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم صوبے کے تحفظات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور اس معاملے کو قومی مفاد اور تاریخی انضمام کے عمل کی بنیاد بننے والے وعدوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔

۔

۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں 105 کنال پر محیط جدید عوامی پارک کا افتتاح کر دیا۔ یہ پارک خیبرپختونخوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جو جدید اور متنوع تفریحی اور صحت افزا سہولیات پر مشتمل ہے۔ ماحول دوست اصولوں اور توانائی کے موثر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیے گئے اس جدید پارک سے تقریباً 20 لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔ پارک میں 12 گزیبوز، باسکٹ بال اور والی بال کورٹس، جاگنگ اور سائیکلنگ ٹریکس، اوپن ایئر جم، واک ویز، سولر پارکنگ شیڈ، فوڈ کیوسکس اور اوپن ایئر ایمفی تھیٹر سمیت جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ منصوبے میں فیملیز، خواتین اور بچوں کے لیے الگ تفریحی زون بھی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بچوں کے لیے کھیل کے میدان، جھولے، سینڈ پٹس اور اسکیٹنگ زون بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ روز گارڈن، موسمی پھولوں کی کیاریاں اور خوبصورت لینڈ اسکیپنگ پارک کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کریں گی۔پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں شہریوں کو معیاری تفریحی سہولیات کی فراہمی، گرین اسپیسز کا فروغ اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا صوبائی حکومت کے ترقیاتی وڑن کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاگنگ اور سائیکلنگ ٹریکس، اوپن ایئر جم اور دیگر جدید سہولیات شہریوں، بالخصوص نوجوانوں اور فیملیز کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کریں گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حیات آباد میں جدید عوامی پارک کی صرف تین ماہ کی ریکارڈ مدت میں تکمیل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)، محکمہ بلدیات اور سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ ٹیم کی مشترکہ کاوش، پیشہ ورانہ صلاحیت اور موثر کارکردگی کا واضح ثبوت ہے، جس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے حلقے کے رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں موثر کردار ادا کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر رہا ہے۔ اس شہر نے امن کی خاطر بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں اور ملٹری آپریشنز کے دوران مالاکنڈ اور سابق فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا، انہیں پناہ دی اور مثالی مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ حب الوطنی کا ثبوت دیا اور کبھی ریاست مخالف بیانیے کا حصہ نہیں بنے، جبکہ آج بھی صوبے کے عوام، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے خیبرپختونخوا کو اس کا جائز این ایف سی شیئر نہیں دیا جا رہا، جو اس وقت سالانہ تقریباً 420 ارب روپے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنا ناانصافی ہے، تاہم عمران خان کے وڑن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت اپنے عوام کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ مالی سال2026-27 کا سالانہ ترقیاتی پروگرام صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پروگرام ہے اور اس نوعیت کا ترقیاتی پروگرام اس سے قبل نہ خیبرپختونخوا اور نہ ہی پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت اور قربانیوں کا شہر ہے، اسی لیے اسے 200 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج دیا گیا ہے، تاہم ترقیاتی عمل صرف شہر کے مرکزی علاقوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ دیہی پشاور سمیت صوبے کے تمام اضلاع کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پنجاب کی طرح صرف چند مرکزی علاقوں تک ترقی محدود رکھنے پر یقین نہیں رکھتی۔ “پنجاب کی جعلی حکومت صرف سنٹرل لاہور میں منصوبوں کا افتتاح کرتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، لیکن ہماری حکومت پورے صوبے کی متوازن ترقی پر یقین رکھتی ہے۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری توجہ صرف شہری مراکز تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دیہی علاقوں کو بھی یکساں ترقیاتی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت رواں مالی سال کے دوران صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گی۔ آخر میں انہوں نے لوکل گورنمنٹ، پی ڈی اے اور منصوبے کی تکمیل میں حصہ لینے والے تمام افسران اور اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔