The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 8 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

لوئر چترال میں نئے رکشوں کے داخلے پر مذید 60 روز کے لیے پابندی عائد

Chitral Times

لوئر چترال میں نئے رکشوں کے داخلے پر مذید 60 روز کے لیے پابندی عائد

لوئر چترال میں نئے رکشوں کے داخلے پر مذید 60 روز کے لیے پابندی عائد

لوئر چترال میں نئے رکشوں کے داخلے پر مذید 60 روز کے لیے پابندی عائد

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئر چترال راؤ محمد ہاشم عظیم نے ضلع میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے تین پہیہ رکشوں (تھری وہیلرز) کے ضلع میں داخلے پر مذید 60 دن کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

جاری کردہ حکمنامے کے مطابق ضلع لوئر چترال میں نئے رکشوں کی مسلسل آمد کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات، ٹریفک جام، ہنگامی سروسز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور سڑکوں کی حفاظت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ضلع کا موجودہ روڈ انفراسٹرکچر اور ٹریفک مینجمنٹ نظام مزید رکشوں کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ 18 دسمبر 2025 کو منعقدہ ڈسٹرکٹ لائژن کمیٹی برائے رجسٹریشن تھری وہیلرز/رکشہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ ضلع لوئر چترال کی حدود میں کسی بھی نئے رکشے کے داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی فیصلے کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 144 کے تحت نئے رکشوں کے ضلع میں داخلے پر پابندی نافذ کر دی ہے۔

حکم کے مطابق یہ پابندی فوری طور پر نافذالعمل ہوگی اور 60 دن تک مؤثر رہے گی، تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں ترمیم یا اسے قبل از وقت واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 188 سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا، شہریوں کو سہولت فراہم کرنا، ہنگامی گاڑیوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانا اور ضلع میں ٹریفک نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔

دریں اثنا مختلف مکاتب فکر نے ضلعی انتطامیہ کی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ رکشوں کی چترال آمد پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے تاکہ چترال کی ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کم ہوسکے۔