بنگ نالہ میں سیلاب، یارخون ویلی کا زمینی رابطہ منقطع، 50 ہزار سے زائد آبادی محصور
۔
مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے علاقے بانگ نالہ میں شدید سیلابی ریلے کے باعث یارخون ویلی کا ملک کے دیگر حصوں سے واحد زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ پل کے اوپر سے پانی گزر جانے کے باعث مستوج ۔بروغل روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں یارخون ویلی کی تقریباً 50 ہزار آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق سڑک بند ہونے سے مریض، طلبہ، مسافر اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے، جبکہ علاقے میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔
علاقہ مکینوں نے حکومت خیبرپختونخوا، ضلعی انتظامیہ، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقے تک ہنگامی امداد، طبی سہولیات، خوراک اور متبادل رابطہ بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔
دریں اثنا، یارخون بروغل روڈ گزشتہ پانچ روز سے شوڑکوچ کے مقام پر بھی سیلابی ریلوں کے باعث گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔ سڑک کی بندش کے باعث شوست یارخون منتقل کی جانے والی ایک میت کو مقامی افراد نے کئی کلومیٹر تک اپنے کندھوں پر اٹھا کر منزل تک پہنچایا، جس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شوڑکوچ نالہ میں سیلاب کے باعث مرکزی شاہراہ بند ہونے کی اطلاع کئی روز قبل متعلقہ حکام کو دی جا چکی ہے، تاہم ابھی تک سڑک کی بحالی یا متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث مسافروں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگ پل کی بحالی اور شوڑکوچ کے مقام پر سڑک کو فوری طور پر بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مشینری روانہ کی جائے تاکہ یارخون ویلی کا زمینی رابطہ بحال ہو اور متاثرہ آبادی کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔



