The Voice of Chitral since 2004
Monday, 29 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دروش میں سبیل گرانے کا معاملہ جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل، فریقین میں صلح

Chitral Times

دروش میں سبیل گرانے کا معاملہ جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل، فریقین میں صلح

دروش میں سبیل گرانے کا معاملہ جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل، فریقین میں صلح
Screenshot

دروش میں سبیل گرانے کا معاملہ جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل، فریقین میں صلح

۔

دروش (نمائندہ چترال ٹائمز) دروش بازار میں گزشتہ روز سبیل گرانے کے واقعے پر پیدا ہونے والا تنازع مقامی علماء، عمائدین اور تاجروں کی کوششوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر لیا گیا۔ فریقین نے ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے آئندہ بھائی چارے، تحمل اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے پر اتفاق کیا۔

اس سلسلے میں ایس ڈی پی او آفس دروش میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس کی قیادت امیر جمعیت علمائے اسلام تحصیل دروش، مولانا قاضی محمد انعام الحق اور صدر تاجر یونین دروش، حاجی گل نواز نے کی۔ جرگے میں ایس ڈی پی او دروش رحمان خالد، ایس ایچ او دروش ابرار حسین، اہل سنت والجماعت ضلع لوئر چترال کے صدر حافظ خوش ولی خان سمیت دونوں فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صبح تقریباً دس بجے دروش میں ایک بیکری کے مالک نے راہ گیروں کو شربت پلانے کے لیے اپنی دکان کے باہر شربت کی دو دیگیں رکھی تھیں، جنہیں مبینہ طور پر دروش کے سفیر اللہ حنفی، مولانا کفایت اللہ اور ان کے بعض ساتھیوں نے گرا دیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں میں اس اقدام کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی تھی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی محمد انعام الحق نے کہا کہ بیکری کے مالک کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے اور انہوں نے خالصتاً ثواب کی نیت سے سبیل کا اہتمام کیا تھا، تاہم انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس مخصوص دن سبیل لگانے سے متعلق بعض مفتیان کرام نے منع فرمایا ہے، جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب بعض افراد نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے سبیل کو گرا دیا، جو مناسب طرزِ عمل نہیں تھا۔ ایسے معاملات کو افہام و تفہیم، علماء کی رہنمائی اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ جذباتی اقدامات کے ذریعے۔

مولانا قاضی محمد انعام الحق نے بتایا کہ جرگے میں دونوں فریقوں نے اپنی اپنی وضاحت پیش کی، ایک دوسرے سے معذرت کی اور درگزر کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور بھائی چارے کا فروغ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لہٰذا ایسے واقعات سے گریز کیا جانا چاہیے جو معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کریں۔

جرگے کے شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے معاملات کو باہمی مشاورت، برداشت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے گا تاکہ علاقے کا پرامن ماحول برقرار رہے۔

chitraltimes drosh sabil girane pr jirga issue solved 3