نوائے سُرود – جن کی میراث تھی کوثر – شہزادی کوثر
.
اسلامی سال کی ابتدا ہی شہادت جیسی عظیم قربانی سے ہوتی ہے۔ یکم محرم شہادت حضرت عمر اور دس محرم شہادت حسینؑ اور اہل بیت تاریخ اسلامی کی وہ ناقابل فروش داستان ہے جس نے حق وباطل کے درمیان ان مٹ لکیر کھینچ دی۔ حق پر چلنے والوں کی محبت اور سر فروشی کی ایسی راہ روشن کی جس پر چلنا یقینی کامیابی ہے۔ حسینؑ صبرو حوصلہ کی علامت اور بہادری کا استعارہ ہے یزید کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لُٹا کرسرخرو ہونے والی ہستی، نواسہِ رسولﷺ ،جگر گوشہِ بتول اور نور چشم علی جس نے نیزے پر اپنا سر سجا کربھی امت مسلمہ کی لاج رکھ لی اور حق کے پرچم کو سرنگوں ہونے سے بچا لیا۔ کوفہ والوں کی منافقت نے حسینؑ سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ ہونے دیا۔
تاریخ انسانی نے کسی حادثے پہ اتنے آنسونہیں بہائے ہوں جتنے کربلا کے واقعے پر بہائے ہیں۔ بہتر افراد پر مشتمل ایک چھوٹا سا قافلہ اپنی امامت کے جائزحق کے حصول کی خاطرکوفہ روانہ ہوا جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔ لیکن ابن زیاد کے سپاہیوں نے اسے نہ کوفہ جانے دیا نہ واپسی کی اجازت دی اور نہ ہی کسی اسلامی ملک کی سرحد پر جانے دیا بلکہ زبردستی ایسے علاقے میں پراؤ ڈالنے پر مجبور کیا جہاں سبزے کا نام ونشان نہ تھا جو کرب وبلا کا مجموعہ تھا جہاں نہ تو کسی جاندار کا تصور ممکن تھا اور نہ ہی زندگی کی کوئی امید موجود تھی۔ اسی بے آب وگیاہ ریگستان میں حیات جاویدانی کا وہ گلشن ہرا بھرا ہوا جسے امام عالی مقام اور اس کے کارواں نے اپنے خون سے سینچا۔
اہل کوفہ کی بدعہدی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے ،جس میں منافقت، سفاکی اور دوغلے پن کی مثال ملنا مشکل ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے والے ہمیشہ کسی نہ کسی کے ہاتھ بکا کرتے ہیں ۔ اپنے تمام وعدوں کے باوجود انھوں نے حضرت حسین سے وفا نہ کیا ۔ بظاہر ان کی ہمدردیاں آپؑ کے ساتھ تھیں لیکن ان کی تلواریں ابن زیاد کے اشاروں پر نیام سے نکلنے کو تیار تھیں، کہنے کو تو وہ حضرت علی ؑ اور حسینؑ کے حامی تھے اور انھوں نے خطوط لکھ کرامام کو دعوت دی تھی تا کہ قیصر و کسریٰ کی سنت کو روکا جاسکے۔ وہ حضرت حسینؑ کے ہاتھ بیعت کرنے کے لیے بےتاب نظر آرہے تھے۔ حضرت زبیر نےامام کو کوفیوں کی حقیقت بتائی تھی کہ ان پر اعتبار نہ کریں کیونکہ ان کی حمایت صرف زبانی کلامی ہے یہ طاقت کے سامنے جھک جائیں گے لیکن حسین ؑ نے اپنی شریف النفسی کی بدولت کوفیوں پر اعتبار کیا اور روانہ ہوا ۔
۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ انسانیت سوز کرداروں کو بھی بے نقاب کرنے والا واقعہ ہے جس میں یزید بن معاویہ، شمر بن ذی الجوشن،عبید اللہ ابن زیاد، اورسنان بن انس جیسے پتھر دل کردار ہیں جو حق کا راستہ روکنے اور سچائی کو دبانے کے لیے انسانیت کی تذلیل کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔ عہدہ، کرسی،تخت اور طاقت انسان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کرکیسے اپنے گھناؤنے عزائم کو پورا کرواتی ہے اور ایسا کرنے والوں کے مقدر میں صرف ذلت لکھی جاتی ہے۔ اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر حسینؑ کا ساتھ دینے کو تیار ہوئے اور امام کے ساتھ ہی شہادت کو گلے لگا لیا ۔ حُربن زیاد اگر چہ یزیدی فوج میں شامل تھا اسی نے امام حسین ؑ کو کربلا کی طرف اپنا رخ موڑنے پر مجبور کیا تھا مگر بعد میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اسے ابن زیاد اور شمر کی نیت کا اندازہ ہوگیا تب اپنی غلطی کی تلافی کی خاطر وہ امام عالی مقام سے معافی کا خواست گار ہوااور حق پر مر مٹنے والوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ یزید کا دیا ہوا عہدہ اور دنیاوی منفعت اس کے دل ودماغ سے محو ہوئی اور اس نے ابدی کامیابی کا راستہ منتخب کیا۔
حضرت حسین ؑ نے دین اسلام کی سر بلندی اور اسلامی اقدار کی بقا کو مدنظر رکھتےہوئے شہادت کے جام کو ہونٹوں سے لگایا۔ امیرمعاویہ کے انتقال کے بعد یذید نے خلافت تو سنبھالی تھی لیکن اس کا طرز حکمرانی اسلامی تعلیمات سے ہٹ کر تھا جس پر اکابر صحابہ اور حضرت حسین ؑ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کیا اہل کوفہ اور عراق والوں کی حمایت کی کوشش کی۔ تاکہ اس طرزحکمرانی کے خلاف کلمہ حق بلند کر سکیں۔ زمانے کا دستور ہے کہ ہر فرعون کے دور میں موسیٰ اور ہر نمرود کے خلاف ابراہیم سینہ سپر ہوئے۔
واقعہ کربلا بھی ظلم ،غرور اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ایک بے مثال داستان ہے۔ حسینؑ ابن علی نے اپنا سب کچھ لُٹا کر دین اسلام کے مقصد حقیقی کوبگاڑسے بچا کر اس کی اصل روح کے ساتھ محفوظ رکھا۔ امام عالی مقام کا مقصد اقتدار کی طلب نہیں تھا بلکہ اسلامی تعلیمات کو مسخ ہونے سے بچانااورامت محمدی کی اصلاح کرنا تھا، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاؑ کی کوششوں سے جو نظام انسانیت کو جہالت سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا وہ جہالت کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ نواسہ رسولﷺ نے اپنے اہل عیال اور رفقا کے ساتھ اس تپتےصحرا میں پراؤ ڈالا جہاں انھیں تا قیامت امر ہونا تھا۔ اپنےچچازاد بھائی مسلم بن عقیل اور دوسرے قاصدوں کی شہادت کا غم سینے میں دفن کیے حسینؑ اور اس کے ساتھی ہر آزمائش کے لیے تیار ہوئے موسم کی شدت اور پانی کی قلت بھی ان کے عزائم کو کم نہ کر سکی ،
ابن زیاد کے حکم سے عمرو بن سعد نے فرات پر پانچ سو سپاہیوں کو مامور کر دیا تاکہ حسینؑ تک پانی کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچ سکے۔ اس کے باؤجود آپؑ نے اپنے بھائی عباسؑ بن علی کو تیس سوار او بیس پیادوں کے ساتھ بھیجا تاکہ پانی بھر لائیں۔ گھاٹ پر محافظ دستے کے افسرعمرو بن الحجاج نے راستہ روکا باہم مقابلہ ہوالیکن آپ بیس مشکیں پانی کی بھر لائے۔ یہ پانی تپتے صحرا میں کیسے سب کی پیاس بھجا پاتا ،ننھے بچوں کی حالت ابتر ہوتی گئی اور وہ بلکتے رہے لیکن کوئی بھی مصیبت ان کی راہ میں حائل نہ ہوئی اور وہ یزیدی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔ حق وباطل کی یہ کشمکش اپنی جگہ لیکن رسولﷺ کے نواسے پر پانی بند کر کے جو ظلم ڈھایا گیا وہ یذیدی فوج کی شکست کا خود ہی اعلان تھا کہ میدان جنگ میں ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پانا آسان نہیں ۔ یہ ایسے سرفروشوں کی جماعت تھی جو شہادت کے لیے بےتاب تھے ۔ان کی تشنگی اتنی تھی جسے صرف شہادت کا جام ہی بجھا سکتی تھی ۔
قافلہ رہ گیا اک دشت بلا میں پیاسا
جن کی میراث تھی کوثر انھیں پانی نہ ملا