جماعت اسلامی چترال کے زیر اہتمام عوام کش بجٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) جماعت اسلامی لوئر چترال کے زیر اہتمام امیر ضلع وجیہ الدین کی قیادت میں بعد از نماز جمعہ چیوپل چترال میں عوام کش بجٹ 2026-27 کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔احتجاجی جلسے سے ضلعی قائدین نے خطاب کیا اور حکومتی بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کیا اور ایک قرارداد میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ان کو بیرونی قرضوں اور سودی زنجیروں میں بری طرح جھکڑ رکھا ہے۔
بجٹ کا نصف حصہ یعنی آٹھ ہزار ارب روپے قرض کی مد میں صرف سود کی ادائیگی کیلئے مختص کی ہے جوکہ خدا و رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے جس میں حکومت پاکستان کو ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدہ طے پانے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں فی بیرل 73 ڈالر تک آگئی ہیں۔لہذا جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پپٹرول اور ڈیزل تین سال کیلئے فی لیٹر 225روپے فکس کئے جائیں تاکہ عوام پر آئے روز اس مہنگائی کا بوجھ کم ہوسکے اور مہنگائی کے مارے ہوئے عوام کچھ سکھ کا سانس لے سکیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ چونکہ ھمارے ملک کے غریب وزیراعظم میاں شہباز شریف قوم کیلئے اپنے پیٹ میں پتھر پر پتھر رکھ کر ھلکان اور پریشان ہورہے ہیں اسلئے اس کی اس تکلیف کا بھی کچھ مداوا ہو سکے۔دریں اثنا اپرچترال میں بھی مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر آج بونی میں ایک پرآمن احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کیا گیا ۔

