The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 20 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

امریکہ اسرائیل تعلقات کا نیا دور اور سلگتا مشرق وسطیٰ – قادر خان یوسف زئی

Chitral Times

امریکہ اسرائیل تعلقات کا نیا دور اور سلگتا مشرق وسطیٰ – قادر خان یوسف زئی

امریکہ اسرائیل تعلقات کا نیا دور اور سلگتا مشرق وسطیٰ – قادر خان یوسف زئی

امریکہ اسرائیل تعلقات کا نیا دور اور سلگتا مشرق وسطیٰ – قادر خان یوسف زئی

.

جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی، عین اسی وقت غزہ اور لبنان کے کھنڈرات سے اٹھتا دھواں آسمان کو سیاہ کر رہا تھا۔ یہ منظر محض دو ملکوں کے درمیان ایک سفارتی پیش رفت نہیں تھا۔ یہ ان لاکھوں بے گھر انسانوں کی بے بسی کا نوحہ بھی تھا جن کے سروں پر مہینوں سے بارود برس رہا ہے۔ میزوں پر نقشے بچھے تھے اور سرحدوں کا تعین ہو رہا تھا، لیکن ان فیصلوں میں ان عام لوگوں کی کوئی آواز نہیں تھی جن کی زندگیاں اس عالمی بساط پر مہروں کی طرح استعمال ہوئیں۔۔

یہ معاہدہ ایک بہت بڑی عالمی تبدیلی کا واضح اعلان ہے۔ یہ اس امر کی گواہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سات دہائیوں پر محیط وہ رشتہ جو کبھی غیر مشروط محبت، نظریاتی ہم آہنگی اور کسی بھی حد تک جانے پر استوار تھا، اب بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے ثابت کر دیا ہے کہ اب واشنگٹن کے فیصلے اسرائیلی مفادات کے تابع نہیں رہے بلکہ خالصتاً امریکی نفع نقصان کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔ یہ اس دیرینہ اتحاد کا خاتمہ تو نہیں لیکن اس کی بنت ضرور بدل گئی ہے جس میں اب جذبات سے زیادہ مفادات کا عمل دخل ہے۔

ایک دور تھا جب امریکہ کی ہر حکومت اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے سے لے کر نائن الیون کے بعد کی دنیا تک، واشنگٹن نے یروشلم کو اپنا سب سے قابل اعتماد ساتھی سمجھا۔ اربوں ڈالر کی فوجی امداد ہو یا اقوام متحدہ میں ویٹو کا استعمال، اسرائیل کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ اسرائیلی قیادت جو بھی قدم اٹھاتی، اسے امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کی مکمل اشیرباد حاصل ہوتی تھی۔ یہ ایک ایسا رشتہ تھا جسے سفارت کاری کی دنیا میں ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔

جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے شروع کیے تو بظاہر یوں لگا جیسے پرانا اتحاد پوری طاقت سے واپس آ گیا ہے۔ لیکن یہ جنگ دونوں ملکوں کے لیے الگ الگ معنی رکھتی تھی۔ اسرائیل اسے اپنے وجود کی بقا اور ایران کی ایٹمی اور میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی جنگ سمجھ رہا تھا۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے یہ محض آبنائے ہرمز کو کھلوانے، تیل کی ترسیل کو بحال کرنے اور اپنی ملکی معیشت کو سہارا دینے کا ایک معرکہ تھا۔ دونوں اتحادی ایک ہی محاذ پر تھے لیکن ان کی منزلیں جدا تھیں۔

امریکی حکومت کا موجودہ اندازِ حکمرانی نظریات سے زیادہ لین دین پر مبنی ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے وہ معاہدے اہم ہیں جو امریکی معیشت کو فائدہ پہنچائیں اور ان کے سیاسی سرمائے میں اضافہ کریں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی سیاسی بقا کس چیز میں پوشیدہ ہے۔ جب ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی معیشت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا تو ٹرمپ نے فوری طور پر جنگ بندی کا راستہ چنا اور ایران پر سے تیل کی پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

حیران کن بات یہ تھی کہ اس پورے سفارتی عمل میں اسرائیل کو مذاکرات کی میز سے ہی باہر رکھا گیا۔ اسرائیلی قیادت کے لیے یہ صورتحال کسی بڑے سیاسی زلزلے سے کم نہیں تھی۔ جس اتحادی کے بھروسے پر وہ خطے میں ایک طویل جنگ لڑ رہے تھے، اسی اتحادی نے ان کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ ان کی مرضی کے خلاف معاہدہ کر لیا۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ اب وہ امریکی خارجہ پالیسی کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جس طرح اسرائیل کی سرزنش کی ہے یقیناََ یہ خود اسرائیل کے لئے بھی سرپرائز ہوگا۔ امریکی نائب صدر نے نتن یاہو کو جس طرح آئینہ دکھایا یہ منظر کبھی نہیں دیکھا گیا۔

لبنان کا حال غزہ سے مختلف نہیں۔ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود اسرائیلی طیارے لبنان کے گنجان آباد علاقوں پر بمباری کرتے رہے۔ چند منٹوں میں سینکڑوں عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں اور لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ صحت کا نظام مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے اور ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جو کسی بھی عالمی معاہدے کی کھوکھلی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سفارتی میزوں پر ہونے والے فیصلے زمین پر امن لانے میں کتنے ناکام ہیں۔

امریکہ کے اندر بھی اسرائیل کے لیے عوامی ہمدردی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ امریکی نوجوان اب کسی بھی ملک کی اندھی حمایت کے حق میں نہیں۔ حالیہ جائزوں نے ثابت کیا ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ روایتی طور پر اسرائیل کی حامی سمجھی جانے والی ریپبلکن پارٹی کے نوجوان ووٹرز بھی اب اس جنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ طاقتور یہودی لابی بھی اب اس عوامی غصے کو دبانے میں ناکام نظر آ رہی ہے جو غزہ اور لبنان کے حالات دیکھ کر پیدا ہوا ہے۔

اس بدلتی ہوئی صورتحال نے اسرائیل کو بھی ایک نئی سوچ پر مجبور کیا ہے۔ اسرائیلی قیادت اب یہ سمجھ چکی ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی بیساکھیوں کے سہارے نہیں چل سکتی۔ اسرائیل اب اپنی مقامی دفاعی صنعت کو وسعت دینے اور غیر ملکی اسلحے پر انحصار کم کرنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ دراصل عالمی سطح پر اپنی بڑھتی ہوئی تنہائی کا اعتراف ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے بیرونی امداد پر انحصار کرتا آیا ہے، اس کے لیے مکمل خود انحصاری کا راستہ طویل اور کٹھن ہے۔

ابراہم اکارڈز جس کے تحت اسرائیل نے کئی عرب ممالک سے تعلقات قائم کیے تھے، وہ بھی اب شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ معاہدے خطے میں دیرپا امن لانے میں ناکام رہے کیونکہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کی بنیادی حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کا جائز حق اور ایک آزاد ریاست نہیں ملتی، کوئی بھی سفارتی معاہدہ خطے کے عوام کے دلوں میں قبولیت نہیں پا سکتا۔ مشرق وسطیٰ کی سڑکوں پر بہنے والا خون کسی بھی تجارتی معاہدے سے زیادہ طاقتور بیانیہ رکھتا ہے۔

یہاں یہ سوچنا اور یہ دلیل دینا بالکل فطری ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کا رشتہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ بظاہر حالات ایسا ہی تاثر دیتے ہیں، مگر حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون آج بھی گہرا ہے۔ امریکی فوجی حکمت عملی میں اسرائیل آج بھی مشرق وسطیٰ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو مکمل طور پر تنہا نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا۔ مشترکہ فوجی مشقیں اور اسلحے کی فراہمی کسی نہ کسی صورت جاری رہے گی۔

لیکن اس تعلق کی نوعیت اور شرطیں بدل چکی ہیں۔ اب ہر امریکی حمایت کے پیچھے ایک سوالیہ نشان ہو گا اور ہر سفارتی مدد کی ایک قیمت وصول کی جائے گی۔ واشنگٹن اب یروشلم کو وہ وسیع سفارتی چھتری فراہم نہیں کرے گا جس کے سائے میں وہ ہر بین الاقوامی قانون کو بلاخوف و خطر روند سکے۔ امریکی حکومت اب اپنے قومی اور معاشی مفادات کو ہر پرانے رشتے پر مقدم رکھے گی اور اسرائیل کو اس نئی حقیقت کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا۔

مشرق وسطیٰ کی ریت تیزی سے سرک رہی ہے۔ نئے عالمی اور علاقائی بلاکس بن رہے ہیں اور دہائیوں پرانے اتحاد بکھر رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے اب اپنے وجود کو پرانی ڈگر پر چلانا ممکن نہیں رہا۔ لیکن ان تمام سفارتی تبدیلیوں، طاقت کے کھیل اور عالمی شطرنج کی چالوں میں سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے۔ وہ لاکھوں انسان جو کیمپوں میں کٹے پھٹے خیموں کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جن کے گھر چھن گئے اور جن کے پیارے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے، ان کے لیے یہ سفارتی معاہدے اور طاقت کا توازن کیا معنی رکھتے ہیں؟ حقیقی امن تب تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک طاقت کے نشے کو ترک کر کے انسانی جان کی حرمت کو تسلیم نہ کیا جائے اور ان لوگوں کو جینے کا حق نہ دیا جائے جو اس تمام کھیل میں صرف اور صرف نقصان اٹھا رہے ہیں۔