انسان ۔ زمین اور دنیا (قسط 3) – تحریر: پروفیسر اسرار الدین
۔
2.زمین اور دنیا :۔
زمین ایک سیارہ، ایک مادی حقیقت اور ایک جسمانی وجود جس پر ہم رہتے ہیں۔ یہ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں “نیچے کی جگہ”۔ “فرش” اور “استقرار کی جگہ” یعنی ہمارا مسکن۔ مختلف مظاہر مثلاً خشکی، سمندر، پہاڑ، ندیاں، دریا، جنگلات، موسم، نباتات، حیوانات اس کے قدرتی خواص ہیں۔ قرآنی تناظر میں الارض اسی طبعی وجود کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اور زمین کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور نشانی کے طور پر ہواہے۔ گزشتہ ابواب میں زمین اور اس کے مختلف خصوصیات اور قرآن میں ان کے حوالوں پر تفصیلی بات ہوئی ہے یہاں یاد دھانی کے طور پر چند آیات مبارکہ پیش کئے جا تے ہیں
۔۔ ان فی خلق السموات والارض۔۔۔۔۔۔۔۔اولی الباب (آل عمران 190)
ترجمہ۔ بے شک آ سمانوں اور زمینوں کی تخلیق اور دن اور رات کے بارے بارے آ نے جا نے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ ( آ سان قرآن)
وما ذرا لکم فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ یذکرون۔ ( النحل 13)
ترجمہ ۔ اسی طرح وہ رنگ برنگ کی چیزیں جو اس نے تمہارے خاطر زمین پر پھیلا رکھی ہیں ۔وہ بھی اس کے حکم سے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ بے شک ان سب میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو سبق حاصل کریں۔ (آ سان قرآن)
انسان نے جب فطرت کے ان رنگوں میں غور کیا تو اسے معلوم ہوا۔ کہ یہ اختلاف ، یہ مختلف رنگ اور حسن محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا زندہ اظہار ہے۔
و من آیاتہ خلق السموات والارض واختلاف السننتکم و الوانکم۔ ( الروم 22).
ترجمہ ۔ اس کی نشانیوں کا ایک حصہ ۔ آ سمانوں اورزمینوں کی پیدائش تمہاری زبانون اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناً اس میں دانشوروں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ (آسان قرآن)
یہ کرہ ارض جس پر ہم رہتے ہیں دوہرے حقیقتوں کا حامل ہے۔ ایک طرف طبعی وجود (زمین) ہے جس کا ذکر کیا گیا۔ دوسری طرف وہ انسانی تعمیر ہے جو شہروں، بستیوں، سرحدوں، تہذیبوں، معیشتوں اور ثقافتوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلے کو ہم زمین کہتے ہیں اور دوسرے کو دنیا۔ گویا دنیا انسانی سماجی زندگی کے نظام کی ایک صورت پیش کرتی ہے۔ جس کی تشکیل زمین کے سٹیج پر ہوتی ہے۔
یہی وسیع و عریض سرزمین صدیوں سے انسانی تہذیبوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ انسان نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم و قوتِ فکر اور ارادے سے اور تائید الٰہی سے اپنی ضرورت کے مطابق اس زمین کو بسایا، سنوارا اور آباد کیا۔ یوں اس نے قدرت کے عطا کردہ رنگوں پر اپنی فکری، تہذیبی اور معاشرتی دنیا کی عمارت کھڑی کی۔ ایک ایسی دنیا جس میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی صورت گری بھی موجود ہیں اور انسانی محنت، سوچ اور ذوق کی رنگا۔ رنگی بھی ہے۔ چنانچہ اس کی رنگا رنگی انسان کو لبھاتی بھی ہے اور اسے اپنے ساتھ چمٹاتی بھی ہے۔
اور انسان کے لئے مسرت و اسباط کا سامان بھی ہے اور اس کے لئے آزمائش اور امتحان کا سبب بھی۔ جیسا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ “یہ دنیا سیرگاہ نہیں، تماشگاہ نہیں۔ آرام گاہ نہیں، یہ امتحان گاہ ہے۔ افسوس کہ ہم نے اسے چراگاہ بنالیا۔ (حوالہ حقیقت روزہ چٹان)
اگلے باب میں دنیا کے مختلف رنگ مثلاً براعظمی رنگ، مملکتی رنگ، مذہبی و اعتقادی رنگ، قومی رنگ، لسانی رنگ، نسلی رنگ، معیشتی رنگ وغیرہ کے حوالے سے بات کریں گے۔ البتہ حقیقی رنگ ایک ہی ہے جیسے قرآنِ کریم ذکر فرماتا ہے۔
★ صِبْغَةَ اللّٰهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ (البقرہ 138)
ترجمہ: (اے مسلمانو! کہہ دو کہ ہم کو اللہ نے اپنا رنگ دے دیا ہے اور کون ہے جو اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ دے سکے۔ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں (آسان قرآن)
دنیا کے بارے قرآن کریم کے ارشادات
قرآن کریم میں دنیا کے بارے اللہ تعالیٰ کے 115 ارشادات نازل ہوئے ہیں۔ (اسی طرح آخرت کے بارے بھی قرآنی آیات کی تعداد 115 ہے)۔ قرآنی تناظر میں “الدنیا” (دنیا) کا عام تصور عارضی زندگی ہے۔ یہ لفظ فانی متاع اور آزمائش کے میدان کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے۔ چند مثالیں پیش ۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدنیا حسںہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عذاب النار۔ ( البقرہ 201)۔۔۔۔۔
ترجمہ: اور کوئی ان میں سے کہتاہے، اے رب ہمارے، دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔ (المعارف القرآن)
اس دعا میں لفظ حسنہ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے۔۔۔۔۔ یہ دعا ایک ایسی جامع ہے کہ اس میں انسان کے تمام دنیوی اور دینی مقاصد آجاتے ہیں، دنیا و آخرت دونوں جہاں میں راحت و سکون میسر آتا ہے۔ آخر میں خاص طور پر جہنم کی آگ سے پناہ کا بھی ذکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اور حالتِ طواف میں بھی خصوصیت کے ساتھ یہ دعا مسنون ہے۔ (معارف القرآن)
★ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ (آل عمران 14)
ترجمہ: فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں اور بیٹے، اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور مویشی اور کھیتی۔ یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ ہی کے پاس ہے اچھا ٹھکانا۔ (معارف القرآن)
معارف و مسایل میں حضرت فرماتے ہیں کہ “دنیا کی محبت فطری ہے۔ مگر اس میں علو مہلک ہے۔
حدیث میں ارشاد ہے۔ کہ دنیا کی محبت ہر برائی کا سرچشمہ ہے۔ پہلی آیت میں دنیا کی چند اہم مرغوب چیزوں کا نام لے کر بتلایا گیا ہے، کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی محبت خوشنما بنادی گئی ہے۔ اس لئے بہت سے لوگ اس کی ظاہری رونق پر فریفتہ ہو کر آخرت کو بھول بیٹھتے ہیں۔ جن چیزوں کا نام اس جگہ لیا گیا ہے وہ عام طور پر انسانی رغبت و محبت کا مرکز ہے، جن میں سے پہلے عورت کو، اس کے بعد اولاد کو بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ دنیا میں انسان جتنی چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے ان سب کا اصل سبب عورت یا اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد سونے چاندی اور مویشی اور کھیتی کا ذکر ہے کیونکہ یہ دوسرے نمبر پر انسان کی رغبت و محبت کا مرکز ہوتے ہیں۔ خلاصہ و طلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی محبت طبعی طور پر انسان کے دلوں میں ڈال دی ہے۔ جس میں ہزاروں حکمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر انسان طبعی طور پر ان چیزوں کی طرف مائل نہ ہوتا اور ان سے محبت نہ کرتا تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
۔ کسی کو کیا غرض تھی کہ کھیتی کرنے کی مشقت اٹھاتا۔ یا مزدوری و صنعت کی محنت صرف کرتا۔ دنیا کی آبادی اور بقا اس میں مضمر تھی کہ لوگوں کی طبائع میں ان چیزوں کی محبت پیدا کر دی جائے، جس سے خود بخود ان چیزوں کے مہیا کرنے اور باقی رکھنے کی فکر میں پڑ جائیں۔ گویا سب کو دنیا کی مرغوبات کی محبت نے اپنے گھروں سے نکالنے اور دنیا کی تمدنی نظام کو نہایت مظبوط اور مستحکم اصول پر قائم کر دیا ہے۔ دوسری حکمت یہ بھی ہے۔ کہ اگر دنیوی نعمتوں سے رغبت و محبت انسان کے دل میں نہ ہو، تو ان کو اخروی نعمتوں کا نہ ذائقہ معلوم ہوگا اور نہ ان میں رغبت ہوگی۔ پھر اس کو کیا ضرورت کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کر کے جنت حاصل کرے۔ اور برے اعمال سے پرہیز کر کے دوزخ سے بچے تیسری حکمت اور بھی اس جگہ قابلِ نظر ہے۔ یہ ہے کہ ان چیزوں کی محبت طبعی طور پر انسان کے دل میں پیدا کر کے انسان کا امتحان لیا جائے، کہ کون ان چیزوں کی محبت میں مبتلا ہو کر آخرت کو بھول بیٹھتا ہے، اور کون ہے، جو ان چیزوں کی اصل حقیقت اور ان کے فانی ہونے پر مطلع ہو کر ان کی فکر بقدرِ ضرورت کرے۔ اور ان کو آخرت کی درستی کے کام میں لگاے۔۔
قرآنِ مجید کے ایک دوسرے مقام (سورہ کہف آیت 7) میں تزئین کی یہی حکمت بتلائی گئی ہے۔ (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لہا لنبلوہم ایہم احسن عملا) یعنی یقین جانو، روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لئے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ کون ان میں زیادہ اچھا عمل کرتا ہے (آسان قرآن)
الغرض دنیا کی جن چیزوں کو حق تعالیٰ نے انسان کے لئے مزین اور مرعوب بنایا ہے، شریعت کے مطابق اعتدال کے ساتھ ان کی طلب اور ضرورت کے مطابق ان کو جمع کر دینا آخرت کی فلاح ہے، اور ناجائز طریقوں پر ان کا استعمال یا جائز طریقوں پر اتنا علو اور انہماک جس سے سبب آخرت سے غفلت ہو جائے باعث ہلاکت ہے۔ (معارف القرآن)
زمین اور دنیا؛ ایک تمثیلی تشریح
انسانی فہم کی سادہ ترین شکل تمثیلوں میں پنہان ہے۔ ہم پیچیدہ تصورات کو روزمرہ کی چیزوں سے تشبیہ دیتے ہیں تو وہ نہ صرف سمجھنے میں آسان ہو جاتے ہیں، بلکہ دل و دماغ پر گہرے اثر چھوڑتے ہیں۔ اب ہم زمین کی مثال ایک پلاٹ کے لیتے ہیں اور دنیا کی مثال اس پر تعمیر شدہ گھر۔
پلاٹ کی نوعیت (زمین کا طبعی وجود)
یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنا پلاٹ خود نہیں بناتا۔ وہ اسے حاصل کرتا ہے، وراثت میں، خرید کر یا اجارے میں) میں لے کر، یا کسی کے عطیے سے۔ بالکل اسی طرح زمین انسان کی کمائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ جو (اجارے کی مانند) انسان کو عارضی طور پر عطا کی گئی ہے۔ سورہ غافر میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے:
★ اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً (غافر 64)
ترجمہ: اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور آسمان کو ایک گنبد اور تمہاری صورت گری کی۔ اور تمہاری صورتوں کو اچھا بنایا
اور پاکیزہ چیزوں میں تمہیں رزق بھی عطا کیا۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ غرض بڑی برکت والا ہے اللہ سارے جہان و کا پروردگار۔ (آسان قرآن)
پلاٹ کی خصوصیت
ہر پلاٹ کی کچھ طبعی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یعنی وہ مٹی یا زرخیز یا بنجر مٹی، ڈھلوان یا ہموار یا پہاڑی)، یہ وہ سب چیزیں ہیں جو پلاٹ کے مالک کے اختیار میں نہیں ہوتے، اسی طرح زمین کی طبعی خصوصیات (پہاڑ، دریا، آب و ہوا وغیرہ) انسان کے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور ان کے تصرف میں ہیں۔
پلاٹ کے حدود
ہر پلاٹ کے کچھ حدود ہوتی ہیں ان سے تجاوز کرنا دوسرے کے حق میں دخل اندازی ہے۔ اس زمین کے وسائل مثلاً پانی، ہوا، جنگلات، معدنیات وغیرہ کے استعمال کے بھی حدود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔ ان سے تجاوز کرنا فساد فی الارض ہے۔
گھر کی تعمیر (دنیا کا انسانی ڈھانچہ)
پلاٹ سنبھالنے کے بعد انسان سب سے پہلے منصوبہ بندی کرتا ہے کہ کہاں بیڈ روم، کہاں بیٹھک، کہاں کچن، کہاں صحن وغیرہ لوازمات ہوں گے۔ اسی طرح انسان زمین پر آباد ہو کے اپنی دنیا کے منصوبے بناتا ہے۔ شہر، بستیوں، سڑکیں، کھیت، کارخانے، پارک وغیرہ کی ترتیب بنائی۔ تعمیر کا عمل، گھر کی تعمیر میں وقت لگتا ہے، وقت لگتا ہے۔ وسائل لگتے ہیں، پیسے بنیاد، پھر دیواریں، پھر چھت پھر سجاوٹ۔ اسی طرح اس دنیا کی تعمیر میں انسان کی کئی صدیاں لگی ہیں۔ پہلے چھوٹی بستیاں، پھر گاؤں، پھر قصبے، پھر شہر، ساتھ ساتھ انسانی تہذیبیں۔
گھروں کا ڈیزائن اور انداز
ہر گھر کا اپنا انداز اور ڈیزائن ہوتا ہے۔ کہیں چھتیں پکی، کہیں ڈھلوان, کہیں اینٹوں کی کہیں پتھروں کی۔ کہیں رنگ برنگی اور کہیں سادہ۔ بالکل اسی طرح ہر تہذیب کی اپنی دنیا اور اپنا ڈیزائن ہے۔ مختلف لباس، مختلف رسم و رواج، مختلف فنِ تعمیر، مختلف ثقافتی رنگ۔
پلاٹ اور گھر کا باہمی تعلق
پلاٹ کے بغیر گھر نہیں بن سکتا۔ ویسے ہی زمین کے بغیر دنیا نہیں بن سکتی۔ زمین دنیا کی بنیاد، ان کا لازمی جزو۔ گھر پلاٹ کی ہیئت کو بدل دیتا ہے۔ ایک خالی پلاٹ اور اس پر بنا گھر دونوں میں واضح فرق ہے۔ گویا گھر نے پلاٹ کی شکل بدل دی، اسے معنویت دی۔ شہر بناے۔ جنگلات کاٹے دیے دریاؤ ں کے رخ بدل دیے۔ پہاڑ کاٹ دیے ان میں سے سرنگیں گزار دیں۔ اور کیا کیا نہیں کیا ؟
اس طرح گھر کے ا اقسام اور رنگوں کو دیکھنئے۔ جس طرح گھروں کے مختلف رنگ اور اقسام ہیں۔ اسی دنیا کے بھی مختلف رنگ اور اقسام ہیں۔ مثلاً ۔ مملکتی ، لسانی، قومی، مذہبی ، معاشی ، تہذیبی رنگیں وغیرہ ۔
ہر انسان چاہتا ہے۔اس کا گھر صاف ستھرا رہے۔ خوشحالی، امن اور چین کا گہوارہ بنے۔ اسی طرح اس دنیا کو نا انصافیوں کا ازالہ کر کے جنگوں کا خاتمہ کر کے۔ غربت اور بیماریوں کا خاتمہ کر کے اس دنیا کو بھی جنت کا نمونیہ بنانے کی کوشش کرے۔ جس طرح گھر کا مالک گھر کو چوروں سے بچاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کو ایسی چیزوں سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے، جو اس دنیا کو تباہ کر سکتی ہیں۔ مثلاً ظلم، ناانصافی، خود غرضی، ماحولیاتی تباہی وغیرہ۔
گھر کی حقیقت
گھر چاہے کتنا ہی خوبصورت ہو، کتنا ہی مضبوط ہو، کتنا ہی بڑا ہو یا کتنا ہی چھوٹا ہو، آخر کار عارضی ہے۔ کوئی گھر ہمیشہ اپنا نہیں رہتا۔ اسی طرح یہ دنیا عارضی ہے۔ اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی رونقیں، اس کی مسرتیں ایک دن ختم ہو جائیں گی۔
★ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚۖ وَيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِۚ (الرحمٰن 26-27)
ترجمہ: اس زمین میں جو کوئی ہے فنا ہونے والا ہے، اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔ (آسان قرآن)
سبق
اس سادہ تمثیل سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ زمین وہ پلاٹ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا، دنیا وہ گھر ہے جسے انسان نے اس زمین پر تعمیر کیا۔ پلاٹ ایک اس پر گھر بے شمار جتنے انسان آتے گھر، جتنے گھر اتنے رنگ۔ مگر یہ امر قابلِ غور ہے کہ پلاٹ اللہ کا دیا ہوا عطیہ اس پر بنا گھر اس کی امانت۔ ہمیں نہ پلاٹ کے کو نقصان پہنچانا ہے، نہ گھر کے تزئین آرائش میں لگ کے کر اصل مالک کو بھولنا ہے۔ کیونکہ ایک دن ہم سب کو یہ سب کچھ چھوڑ کے جانا ہے۔ اس لئے جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا ادراک ضروری ہے۔ تاکہ اسی اصل مالک کی طرف رجوع کر سکیں۔
★ وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ (سورہ الروم 22)
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناً اس میں دانشممندوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ ۔
اس تمام بحث کا لب لباب یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ہم رہتے ہیں وہ بیک وقت دو مختلف حقیقتوں کا حامل ہے: ایک طرف وہ طبعی وجود ہے، جو زمین کہلاتا ہے۔ دوسری طرف اس زمین پر وہ انسانی تعمیر ہے، یعنی شہر، بستیاں، قومیں، سرحدیں، تہذیبیں، معیشتیں اور ثقافتیں جو انسان نے سجائی ہیں۔ اسے دنیا کا نام دیتے ہیں۔ گویا دنیا کا تعلق انسانی زندگی کا انداز ہے، اور زمین کا تعلق انسانی زندگی کے لئے بطور سٹیج کے ہے۔ ان دونوں کے درمیان انسان ہے۔ وہ کڑی جو زمین کو دنیا سے جوڑتی ہے۔
(باقی آئندہ)