The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

حکمرانوں کے دل خوش کن اعلانات مایوس کن کارکردگی ۔ تحریر عبد الباقی 

Chitral Times

حکمرانوں کے دل خوش کن اعلانات مایوس کن کارکردگی ۔ تحریر عبد الباقی 

حکمرانوں کے دل خوش کن اعلانات مایوس کن کارکردگی ۔ تحریر عبد الباقی 

ہندو کش کے دامن سے – حکمرانوں کے دل خوش کن اعلانات مایوس کن کارکردگی ۔ تحریر عبد الباقی

.

اس ملک میں ہر دور حکومت میں حکمرانوں نے عوام سے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کیئے ہیں، ترقی اور خوشحالی کا خواب دکھائے ہیں ،روٹی، کپڑا اور مکان کی امیدیں دلائی، کسی نے ملک کو ایشیان ٹائیگر بنانے کا اعلان کیا  , کسی نے نیا پاکستان بنانے کا خواب دکھائے اور کسی نے انقلاب کا نعرہ لگائے ، مذہبی جماعتوں نے اسلامی نظام لانے کا وعدے کرکے اقتدار کے لطف اٹھائے۔  مگر گزشتہ 78 سالوں میں یہ سارے وعدے، دعوئے اور نعرے  خواب ثابت ھوئے۔ غربت، بے روزگاری، منہگائی اور بنیادی حقوق سے محرومیاں عوام کی مقدر بن گئے۔
موجودہ حکومت بھی معشیت بحال کر نے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار میں  آئی تھی،  اب وہ بھی عوام کو غربت، بے روزگاری اور منہگائی میں کمی لانے کا صرف سنہری خواب دکھا رھی ہیں۔ زمینی حقائق حکومتی  وعدوں اور دعووں کے برعکس ھے ، حقیقت میں منہگائی میں دن بدن اضافی ھو رہا ھے اشیاء ضرورت کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ھوتے جا رہے اور بے روزگاری ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ عوام تحریک انصاف کی حکومت میں منہگائی کی وجہ سے پریشاں تھے جب سے مو جودہ اتحادی جماعتیں برسر اقتدار آئی ہیں ہر روز عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔
 حکومت کو سمجھنا چاہئیے کہ محض معاشی اشاریوں میں بہتری آنا  یا آئی ایم ایف کا حکومت کی معا شی پالیسی درست قرار دینا  کافی نہیں بلکہ اس بہتری کا اثر عام لوگوں کی زندگی میں محسوس ھونا ضروری ھے ابھی تک ایک عام شہری کی زندگی میں وہ بہتری نہیں آئی جس کا  ان کے ساتھ وعدہ کیاگیا تھا۔ انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتیں عوام سے دل خوش کن اعلانات اور بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، جب اقتدار میں آتے ہیں عملی طور پر ان کی کارکردگی مایوس کن ھوتی ھے یہ تضاد جمہوری عمل اور عوام کی اعتماد کو مجروح کر رہی ھے،عوام کے اعتماد جمہوری نظام سے اٹھ رہی  ۔ حکمرانوں کے دل خوش کن اعلانات اور مایوس کن کارکردگی سے عوام میں مایوسی پھیل رہی جو سیاسی اداروں پر عدم اعتماد کا باعث بن رہی حکمرانون کو عوام سے قابل عمل وعدے کرنے چاہئیے جس سے عملی طور پر پورے کرنا ان کے لے ممکن ھو۔ مو جودہ برسر اقتدار اتحادی جماعتیں جب اپوزیشن میں تھے تو اس وقت بڑھتے ہوئے مہنگائی کو سابق حکومت کی ناتجربہ کاری اور ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے تھے۔
اب یہ تجرب کار جماعتیں لگ بھگ چار سالوں سے اقتدار میں ہیں تو مہنگائی کنٹرول کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اپریل دو ہزار بائیس سے ملک میں مہنگائی کی آگ لگی ہوئی ہے اکثریتی غریب طبقہ اس آگ میں جل رہی ہے حکمران اپنے گھر میں لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی فکر کرنے کی بجائے مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کے لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کےلے بہت فکر مند دکھائی دے رہے ہیں اور اسے بجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ سول اور عسکری قیادت کے موثر سفارت کاری سے عالمی سطح پر ملک کا نام  ضرور روشن ہوا ہے ، لیکن ملک کے معاشی حالات میں کوئی بہتر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کیا حکمران اس سفارتی کامیابی کو معاشی طاقت میں بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گا ؟
کیا ایک عام آدمی کو منہگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے نجات مل سکے گی؟ اب سول اور عسکری قیادت کو منہگائی ، غربت ، بےروزگاری، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام  جیسے بنیادی مسائل کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کےلے موثر اقدامات اٹھانا چاہئیے ۔ مو جودہ وزیراعظم اپنے سابق دور حکومت میں ملک کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کے نام  پر مشکل فیصلے کرکے عوام پر مہنگائی کا بے تحاشہ بوجھ ڈال کر ان کو  پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اب وزیراعظم اور ان  کے وزراء صبح ، شام  معشیت کی بحالی کے اعلانات کر رہے ہیں، اگر حکومت کے معاشی بحالی کے بیانات واقعی درست ہیں تو مہنگائی کے ہاتھوں نیم مردہ عوام کی آخری سانس دم  توڑنے سے پہلے ان کی بحالی کےلے کوئی ٹھوس عملی اقدامات اٹھانا چاہئیے، مزید تاخیر کی صورت میں ملک ،، شہر خموشاں ،، میں تبدیل ہونے کا امکان دکھائی دے رہا ہے ۔