چترال کے پولیس افسران اور سول سوسائٹی نمائندگان کیلئے جو بینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 اور خیبر پختو نخوا پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ 2021 کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) سنجوگ این جی او، لاہور بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ پروبیشن آفس لوئر چترال کے باہمی تعاون سے جو بینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 اور خیبر پختو نخوا پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ 2021 کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے آغاز میں سنجوگ تنظیم کی ڈائریکٹرحافظہ طیبہ نے اپنی تنظیم کے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا۔
ورکشاپ میں پولیس افسران ، جیل سپرنٹنڈنٹ ، چائلڈ پروٹیکشن آفیسر ، پروفیسر ز ، سوشل ویلفیر افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (DPP) آیاز زرین نے خطاب کرتے ہوئے ورکشاپ کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے شرکا پر زور دیا کہ وہ ان اگاہی پروگرامات سے فائدہ ا ٹھائیں اور اپنے کیئریر میں ان پر عمل بھی کریں،انھوں نے نشست کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جو بنائٹل سٹم سے متعلق پولیس کے جوانوں اور افسران کو ایسے ریفریشر کورسوں کی ضرورت رہتی ہے تا کہ وہ قانون اور اصول و ضوابط کے مطابق ایسے کیسز کو نمٹا سکیں۔انھوں اگاہی سیشن کے انعقاد پر منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ورکشاپ کے دوران ایڈووکیٹ وحید احمد چودھری لاہور ہائی کورٹ اور ملک سعید اختر ایڈووکیٹ نے جو بینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے مختلف پہلوؤں پر جامع اور سیر حاصل گفتگو کی ۔ اس موقع پر جمیل خان، ڈسٹرکٹ پر و بیشن آفیسر لوئر چترال نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختو نخوا پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ 2021 کی اہم دفعات ، مقاصد اور عملی اطلاق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس سے قبل افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ایس پی انویسٹی گیشن اقبال کریم نے بھی خطاب کیا اور بچوں کے حقوق کے تحفظ ، اصلاحی نظام کی مؤثریت اور متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ بچوں کے حوالے سے بھر پور تعاون کریں گے۔
ورکشاپ کا مقصد متعلقہ اداروں کے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان میں جو بینائل جسٹس سسٹم اور پروبیشن و پیرول قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔






