دادِ بیداد – جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فریقین نے مشروط جنگ بندی پر اتفاق کر کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں کو روک دیا تھا یہ اسلام آباد مذاکرات کا ثمر تھا اب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کا فریم ورک معاہدہ طے پاگیا ہے یہ معاہدہ حتمی مذاکرات تک نافذالعمل رہے گا
بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان، قطر اور ترکی نے اس بات کو یقینی حیثیت دی ہے کہ معاہدہ کے نتائج دونوں متحارب ممالک یعنی ایران اور امریکہ کے لئے مساوی طور پر مفید ہوں انگریزی میں اس کو Win-win کی حالت کہا جاتا ہے گویا ہر فریق اپنے عوام اور ذرائع ابلاغ کو بتا سکتا ہے کہ میرے شرائط قبول ہوئے حقیقت میں دونوں کو اپنے اپنے شرائط سے چند قدم پیچھے ہٹنا پڑا فریم ورک معاہدے کی جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں ان کے مطابق لبنان اور فلسطین سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ہوگی، آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی 30 دنوں کے اندر اٹھالی جائیگی اور ایران کے پڑوسی ممالک سے 30 دنوں کے اندر امریکی افواج کا انخلاء ہوگا.
ایران 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لئے کھول دے گا تاہم آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا، امریکہ اور اتحادی ممالک ایران کو تاوانِ جنگ کے طور پر 300 ارب ڈالر ادا کرینگے، ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھالی جائینگی، سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر عائد کردہ ہر طرح کی پابندیاں اٹھالی جائینگی کسی بھی بہانے سے امریکہ ایران پر نئی پابندیاں نہیں لگا سکے گا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر حتمی مذاکرات سے پہلے اور 12 ارب ڈالر حتمی مذاکرات کے بعد ادا کئے جائینگے ایران کے اثاثے منجمد نہیں کئے جائینگے، نیز ایران کی اقتصادی ناکہ بندی فی الفور ختم کی جائیگی ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے (NPT) کا پابند ہوگا 30 دنوں کے بعد حتمی معاہدے کیلئے اعلیٰ سطح کے مذاکرات شروع ہونگے اور ثالثوں کی موجودگی میں حتمی معاہدہ طے پائیگا
دوسرے مرحلے کے فریم ورک معاہدے کے بعد امریکہ اور ایران نے پاکستان کی قیادت کا شکر یہ ادا کیا ہے پاکستان کی طرف سے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ہے عموماً قطر اور ترکیہ نے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں پاکستان کے ساتھ مل کر ثالث کا مثبت کردار ادا کیا ماضی قریب کی علاقائی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان کی قیادت نے بین الاقوامی ثالث کے طور پر امریکہ کی مدد کی ہے پہلی بار 1971ء میں چین اور امریکہ کے درمیان خلیج کو دور کرنے اور باہمی دوستی کا معاہدہ کرانے میں پاکستان نے اپنا کندھا پیش کیا تھا
ایک خفیہ منصوبے کے تحت پاک فوج نے 11۔ اپریل 1971 کو اپریشن مارکوپولو کے نام سے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر (Henry Kissinger) کو خفیہ طور رات واشنگٹن سے براستہ اسلام آباد بیجنگ پہنچایا، ہنری کسنجر اپنا تین روزہ دورہ مکمل کر کے واپس واشنگٹن گئے 10 مہینے تک پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ رابطے جاری رکھے آخر کار 21 فروری 1972 کو امریکی صدر رچرڈ نکسن (Richard Nixon) ایک ہفتے کے پہلے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تو سوویت یونین کو اس کا پتا چلا پاکستان کی سفارت کاری کی خبر ہو گئی
صدر نکسن نے 28 فروری تک چین کا تفصیلی دورہ کیا کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے، امریکہ کو یہ فائدہ ہوا کہ سرد جنگ کے زمانے میں چین سوویت یونین کے بلاک سے نکل گیا دوسری طرف چین کو یہ فائدہ ہوا کہ سالوں تک جاری اس کی تنہائی Isolation ختم ہوئی اور وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن گیا ۔ 27 فروری 1972 کی شام الوداعی ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے صدر نکسن نے کامیاب ثالثی کے لئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا جواب میں چینی قیادت نے امید ظاہر کی کہ جس پل سے ہو کر تم چین آئے ہو اس پل کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا پسند کرو گے
۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا موثر کردار ادا کرکے پاکستان نے ایک بار پھر اپنی اہمیت اور صلاحیت کو منوالیاہے