داد بیداد – ایک صدی پہلے کا سفرِ حج – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
چترال سے تعلق رکھنے والے نقشبندی سلسلے کے مشہور داعی اور مولانا فضل علی قریشی مسکین پوری رح کے خلیفہ مجاز مولانا محمد مستجاب رح نے اپنی زندگی میں بے شمار حج اور عمرے کئے ان کا پہلا حج 1916ء کا واقعہ ہے۔ آپ نے 1914ء میں جامعہ امینیہ دہلی سے منقولات اور معقولات کے علوم میں دستارِ فضیلت حاصل کی دورانِ طالب علمی سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوکر سلوک، طریقت اور معرفت کے روحانی علوم میں بھی دسترس بہم پہنچائی دو سال بعد اپنے پیر بھائی مولانا عبدالغفور مدنی رح کے همراہ حج بیت اللہ اور زیارت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے حجازِ مقدس کا سفر کیا ایک سو دس (110) سال پہلے حج کا سفر آج کی طرح آسان نہیں بلکہ حد درجہ کٹھن تھا ہندوستان کے حاجیوں کو ممبئی کی بندرگاہ سے سمندری جہاز کے ذریعے عراق کی بندرگاہ بصرہ یا یمن کی بندرگاہ عدن جانا پڑتا تھا عراق شمال میں ہے جبکہ یمن جنوب میں واقع ہے بصرہ کی بندرگاہ کے لئے جہاز کو شط العرب جانا پڑتا ہے یمن جانے کے لئے بحر عرب سے خلیج عدن کا رخ کرنا پڑتا ہے بصرہ یا عدن سے مسافروں کو مکہ مکرمہ جانے کے لئے اونٹوں پر سفر کرنا پڑتا تھا۔
اونٹ کے کھچاوے میں دو، چار یا اس سے زیادہ مسافر بھی جگہ پاتے تھے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کے لئے بھی اونٹوں کے کاروان میں سفر کیا جاتا تھا مولانا صاحب اوِیر کا سفر بھی ایسا ہی تھا آج کل معروف سماجی اور علمی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ میں موجود ہیں وہاں کھجوروں کے ایک باغ میں دو طالب علموں نے ان کا مختصر پوڈ کاسٹ ریکارڈ کیایہ پوڈ کاسٹ مدرسہ امام محمد کراچی کے آفیشل پیج پر موجود ہے قاری صاحب نے اس پوڈ کاسٹ میں مولانا صاحب اوِیر کے پہلے سفر حج کا ذکر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مولانا جامی مدظلہ کے حوالے سے آپ کا تعلق مولانا زین العابدین رح تبلیغی مرکز رائے ونڈ والے کے مشہور خانوادے سے ہے ۔
مولانا عبدالغفور مدنی رح اور مولانا صاحب اوِیر کے ساتھ آپ کی گہری شناسائی تھی۔ مذکورہ سفرِ حج کا ایک واقعہ خرق عادات یاکرامات سے تعلق رکھتا ہے اس لئے قاری صاحب نے اس کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے مدینہ منورہ کے اس سفر میں آندھی کا طوفان آیا اس طوفان میں ریت اور گردو غبار نے راستوں کو ڈھانپ دیا آنکھ کو آنکھ سجھائی نہ دی، کان پڑی آواز سنائی نہ دی ساتھیوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ایک جگہ جم کر بیٹھنے کا فیصلہ کیا، دونوں ایک نامعلوم مقام پر بیٹھ گئے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد طوفان تھم گیا آنکھیں کھول کر دیکھا تو صحرا میں نہ آدم نہ آدم زاد نظر آیا قافلہ نکل چکا تھا راستہ معلوم نہ تھا اس حال میں تین دن گزر گئے فاقہ اور پیاس نے دونوں کو بے حال کر دیا کوئی تدبیر نظر نہیں آرہی تھی اتنے میں غیبی مدد آئی بظاہر انسانی وضع قطع میں ایک شخص کھانا اور پانی لے کر آگیا۔ کچھ بولے اور کہے بغیر منظر سے غائب ہوا، دونوں نے بھوک مٹائی پیاس بجھائی بچا ہوا کھانا زنبیل میں رکھ دیا ایک ساتھی کا خیال تھا کوئی ملے تو کھانا اس کو دیدینگے
دوسرے نے کہا یہ کھانا خاص ہے کسی عام مسافر کو ہضم نہیں ہوگا، مولانا جامی روایت کرتے ہیں کہ اس کے بعد دونوں کو نہ بھوک لگی نہ پانی کی طلب ہوئی قاری فیض اللہ چترالی نے صراحت کی ہے کہ اُس زمانے میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ 16 سے 20 دنوں تک کا پیدل سفر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے سفر میں غارِ ثور میں قیام کی مدت کو منہا کرکے 17 دنوں میں یہ سفر طے کیا تھا اس سفر کی یاد میں حرمین شریفین کے درمیان جو شاہراہ تعمیر کی گئی ہے اس کا نام شارعِ ہجرہ رکھا گیا ہے اس کے علاوہ حال ہی میں سعودی حکومت نے عام شاہراہ سے ہٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اختیار کئے ہوئے راستے پر انگ سڑک بنوائی ہے اس سڑک پر ہوٹل تعمیر کرکے دیگر سہولیات دے کر سیاحوں کو خصوصی سیاحت کا ایک پیکیج مہیا کیا ہے جس کے تحت خواہش مند سیاح 5 ہزار ریال میں نئے راستے پر جگہ جگہ پڑاؤ کرتے ہوئے مدینہ منورہ کا سفر کر سکتے ہیں ان میں سے ایک پڑاؤ غارِ ثور کے احاطے میں ہوگا۔
چترال کے طول و عرض میں مولانا صاحب اویر کو اوِیرو مولانا بھی کہا جاتا ہے اویونو مولانا بھی کہتے ہیں کیونکہ آپ اوِیر میں پیدا ہوئے اوِیون میں سکونت اختیار کی، آپ کے مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں وہ آپ کو مولانا محمد مستجاب رح کے نام سے یاد کرتے ہیں آپ کا پہلا سفرِ حج اس لحاظ سے سبق آموز ہے کہ آج کل بیرونی ممالک سے ہوائی سفر، اندرون ملک بسوں اور ریلوں کے ذریعے حرمین شریفین کے درمیان آنے جانے والے حجاج کرام اور زائرین اللہ کریم کا شکر ادا کریں کہ ان کے حصے میں یاوں پر چھالے، لب پر نالے اور بھوک، پیاس کی وہ آزمائشیں نہیں آئیں جو 110 سال پہلے حجاج کرام کے سفر کا لازمی حصہ تھیں۔