اپرچترال ؛ بونی تورکہو روڈ پر کام تیز نہ ہوا تو شندور فیسٹیول کے بعد دھرنے کا اعلان
۔
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) تورکھو تریچ کے عوام، عمائدین، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور سماجی و سیاسی رہنماؤں نے بونی بزند روڈ پر تعمیراتی کام میں تاخیر، سست رفتاری اور مبینہ غیر معیاری کام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر درکار مشینری اور افرادی قوت لا کر منصوبے پر بھرپور انداز میں کام شروع نہ کیا گیا تو شندور فیسٹیول کے فوراً بعد بونی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
یہ اعلان اتوار کے روز تورکھو روڈ فورم شاگرام میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سابق ناظم سیف اللہ نے کی۔ اجلاس میں علماء کرام، عمائدینِ علاقہ، نوجوانوں، سیاسی و سماجی شخصیات، بلدیاتی نمائندوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تورکھو تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) کے چیئرمین عمیر خلیل، جنرل سیکریٹری امتیاز علی تاج، مرکزی شوریٰ کے اراکین احمد اللہ بیگ، احمد سید بیگ، سفیر اللہ، شیر افضل، چارشم، صوبیدار اسرارالدین اور دیگر مقررین نے کہا کہ بونی بزند روڈ گزشتہ کئی برسوں سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ منصوبے پر پیش رفت انتہائی سست ہے جس کے باعث علاقے کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ سڑک کی تعمیر اصل منصوبے کے مطابق معیاری بنیادوں پر مکمل کی جائے، تمام باقی ماندہ کام بشمول بلیک ٹاپ، پی سی سی، کٹنگ اور حفاظتی دیواروں کی تعمیر فوری طور پر مکمل کی جائے اور منصوبے پر کام کی رفتار بڑھانے کے لیے مزید مشینری اور عملہ تعینات کیا جائے۔
اجلاس کے دوران بعض شرکاء نے فوری طور پر بونی کی جانب مارچ اور دھرنے کی تجویز دی، تاہم عمائدین اور مقامی قیادت نے شندور فیسٹیول کے پیش نظر عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔ اس موقع پر متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کی مہلت دی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مطالبات پر عملی پیش رفت نہ ہوئی تو شندور فیسٹیول کے فوراً بعد تورکھو کے عوام بونی تک پیدل مارچ کریں گے اور سی اینڈ ڈبلیو دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔

