اپرچترال : ریشن میں عوامی دھرنا رات کو بھی جاری
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ریشن میں عوام اپنے بجلی کے حوالے سے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک احتجاج نہیں بلکہ عوامی مسائل اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
دھرنا شرکاٗ کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں نے اپنے منتخب نمائندوں کو اس امید کے ساتھ ووٹ دیے تھے کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے، حقوق کے تحفظ اور عوامی مفادات کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔ تاہم آج وہی عوام اپنے بنیادی مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
دھرنے میں شریک بزرگوں، عمائدین اور عام شہریوں کی بڑی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقے کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کے منتظر ہیں۔ عوام کا مؤقف ہے کہ اگر ان کی آواز متعلقہ فورمز تک مؤثر انداز میں پہنچتی تو انہیں احتجاج کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑتا۔
سیاسی حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عوامی اعتماد سے منتخب ہونے والے نمائندے اپنے ووٹرز کے مسائل کے حل میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور انہیں بار بار احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔
ریشن کے عوام کا کہنا ہے کہ وہ تصادم یا کشیدگی نہیں چاہتے بلکہ اپنے جائز حقوق، مناسب توجہ اور عملی اقدامات کے خواہاں ہیں۔مگر رات کے اس وقت دھرنے میں بیٹھے یہ چہرے ایک تلخ سوال ضرور چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ حکام اور منتخب نمائندے سنجیدگی سے کردار ادا کریں تو مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
دھرنے میں موجود شہریوں کا پیغام واضح ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
ریشن کے عوام آج بھی تصادم نہیں چاہتے، وہ صرف اپنے جائز حقوق، انصاف اور توجہ کے طلبگار ہیں۔

