انسان، زمین اور دنیا ( قسط 1) – پروفیسر اسرار الدین
.
تمہید
جب ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو کچھ چیزیں خاص طور پر ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔ یہ چیزیں ہمارے اردگرد ہیں، مگر ان کا راز ہمیشہ گہرا اور پراسرار ہے۔ یہ چیزیں خود انسان، زمین اور دنیا ہیں۔
یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر ان میں ہر ایک اپنی الگ حقیقت رکھتا ہے۔ جب ہم ان پر غور کرتے ہیں، تو ذہن میں کئی سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔
پہلا سوال: انسان کی حقیقت کیا ہے؟
یہ وجود مٹی سے بنا ہے، مگر اس میں شعور کی روشنی ہے۔ جو کمزور پیدا ہوا مگر کائنات اس کے لیے مسخر کی گئی، جو ایک لمحے میں غم سے نڈھال ہو جاتا ہے، ا۔۔۔۔ور دوسرے لمحے خوشی سے سرشار۔ یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کہاں جا رہا ہے؟
دوسرا سوال: زمین اور دنیا میں کیا فرق ہے؟
زمین وہ ہے جس پر ہم چلتے ہیں۔ یہ زمین اور اس پر موجود مظاہر اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، جبکہ دنیا کی تشکیل انسان نے کی۔ ہمارے شہر، ہماری تہذیب، ثقافت غرض سب انسان کی تعمیر کردہ ہیں۔ زمین ایک ہے مگر دنیا کے رنگ بے شمار ہیں۔ یہ ایک سماجی اور تہذیبی تصور ہے۔ ان دونوں کے درمیان یہ انسان ہے جو زمین کی کڑی کو دنیا سے جوڑتا ہے۔ وہ زمین پر دنیا تعمیر کرتا ہے۔ اس نے یہاں ملک بنائے، اپنی زبانیں بولیں، اپنی حکومتیں قائم کیں، اپنے مذاہب اور تہذیب سجائے۔
اس باب میں ان تینوں حقیقتوں کا قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ اور جغرافیائی نظریات کے حوالے سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
انسان: وہ کون ہے، اس کی تخلیق کیسے ہوئی؟ اسے کیا خصوصیات دی گئیں؟ اس کا مقصدِ تخلیق کیا ہے؟
زمین اور دنیا میں فرق: ان دونوں میں کیا نسبت ہے؟ کہاں یہ ایک ہیں اور کہاں مختلف؟
دنیا کے مختلف رنگ: انسان نے اس ایک زمین پر کیا کیا اور کتنے رنگ بھر دیے ہیں؟ یعنی مملکتی رنگ، معاشی رنگ، لسانی رنگ، قومی رنگ، مذہبی رنگ، اور تہذیبی رنگ۔
۱۔ اِنسان
انسان کے حوالے سے اس سے پہلے ابواب میں تذکرے ہوئے ہیں۔ لیکن چونکہ قرآنِ کریم اور علم جغرافیہ دونوں کا اہم اور مشترک موضوع انسان ہے، اس لیے اس باب میں انسان کے حوالے سے مختلف عنوانات پر بات کرتے ہیں، مثلاً:
(i) انسان کی تخلیق
(ii) انسان کی خصوصیات و افضلیت
(iii) انسان کے بارے میں نظریات
(i) انسان کی تخلیق
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ کائنات میں جتنی مخلوقات ہیں سب کا خالق ایک اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی، خوب بنائی۔
﴿الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ﴾ (سورة السجدة: 7)
ترجمہ: “جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی، اور شروع کی انسان کی پیدائش ایک گارے سے۔” (معارف القرآن)
تفسیر کا خلاصہ: یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو حسن اور بہتر بنایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا ہے، وہ حکمت اور مصالحِ عالم کے اقتضا سے بنایا ہے، اس لیے ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ایک حسن رکھتی ہے، اور ان سب میں سے زیادہ حسین اور بہتر انسان کو بنایا۔ اور دوسری مخلوقات خواہ وہ ظاہر کے اعتبار سے اور عام نظروں میں بری سمجھی جاتی ہوں، مگر مجموعۂ عالم کے اعتبار سے ان میں بھی ایسی پوشیدہ صفتیں ہوتی ہیں جن کا بظاہر سمجھنا اگرچہ مشکل ہے، لیکن حقیقت میں ان کے وجود کی اپنی اہمیت ہے۔
﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ﴾ (سورة الزمر: 62)
• ترجمہ: “اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا رکھوالا ہے۔” (معارف القرآن)
﴿الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ﴾ (سورة الأعلى: 2)
ترجمہ: “جس نے سب کو پیدا کیا اور ٹھیک ٹھیک بنایا۔” (معارف القرآن)
البتہ قرآنِ کریم کی مختلف آیاتِ کریمہ کی روشنی میں یہ ظاہر ہے کہ تمام کائنات میں انسان کو ممتاز حیثیت سے نوازا گیا ہے، جس کی برابری کوئی بھی مخلوق نہیں کر سکتی۔ جیسا کہ ارشادِ گرامی ہے:
﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ (سورة التين: 4)
ترجمہ: “ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔”
انسان کے ‘احسنِ تقویم’ ہونے کے حوالے سے مولوی محمد دین اشرفی چشتی نے اپنی کتاب ‘حقیقتِ انسانیت’ میں بحث کی ہے، اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
“تقویم کے لفظی معنی کسی چیز کے قوائم اور بنیاد کے درست کرنے کے ہیں۔ احسنِ تقویم سے مراد یہ ہے کہ اس کی جبلت و فطرت کو بھی دوسری مخلوقات کے اعتبار سے احسن بنایا گیا ہے۔ اس کی جسمانی ہیئت اور شکل و صورت کو دنیا کے سب جانداروں سے بہتر اور حسین بنایا گیا، یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین و جمیل بنایا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ چار چیزوں (یعنی انجیر، زیتون، کوہِ طور اور شہرِ مکہ مکرمہ) کی قسم کھا کر فرما رہے ہیں۔”
چنانچہ حضرت ابنِ عربیؒ نے فرمایا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے انسان سے زیادہ حسین کوئی نہیں، کیونکہ اللہ نے اس کو دنیا کی خصوصیات کے ساتھ عالم، قادر، متکلم، سمیع، بصیر، مدبر اور حکیم بنایا ہے۔ اور یہ سب صفات دراصل اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی (صفات کا پرتو) ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوقات میں سب سے حسین ہے؛ ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے اعتبار سے بھی، حسن و جمال کے اعتبار سے بھی اور بدنی ساخت کے اعتبار سے بھی۔ اس سر میں کیسے کیسے اعضاء عجیب جمع کر دیے ہیں کہ ایک مستقل فیکٹری لگتی ہے، یہی حال اس کے دوسرے اعضاء کا ہے۔ فلاسفہ نے کہا ہے کہ انسان ایک ‘عالمِ اصغر’ ہے، یعنی پورے عالم کا نمونہ ہے۔ سارے عالم میں جو چیزیں بکھری ہوئی ہیں، وہ سب اس کے وجود میں جمع ہیں۔
قرآنِ کریم میں سورۂ تغابن کی تیسری آیت میں فرمایا:
﴿وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ﴾ (سورة التغابن: 3)
ترجمہ: “اور تمہارا (یعنی انسان کا) نقشہ بنایا اور تمہاری صورتیں بہت اچھی بنائیں (کیونکہ اعضائے انسانی کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں) اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔”
صورت گری درحقیقت خالقِ کائنات کی مخصوص صفت ہے، اس لیے اسماء الحسنیٰ میں اللہ تعالیٰ کا نام ‘مصور’ بھی آیا ہے۔ آیتِ مذکورہ میں ایک عظیم نعمت صورت گری ہے، جس کا ذکر فرمایا: ﴿فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ﴾، یعنی شکلِ انسانی کو جس نے تمام کائنات و مخلوقات کی صورتوں سے زیادہ حسین اور بہتر بنایا ہے۔
﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾ (سورة المؤمنون: 14)
ترجمہ: “سو بڑی برکت ہے اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔”
انسان کے مختلف طبقات میں زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا، اور مختلف رنگوں میں امتیاز ہونا کہ بعض سفید، بعض سیاہ، بعض سرخ، بعض زرد ہیں، یہ سب عجیب و غریب کرشمۂ قدرت ہے۔ زبانوں کے اختلاف میں لغت کا اختلاف بھی داخل ہے۔ عربی، فارسی، ہندی، ترکی، انگریزی وغیرہ کتنی زبانیں ہیں جو مختلف حصوں میں بولی جاتی ہیں، اور ایک دوسرے سے بعض تو ایسی مختلف ہیں کہ بظاہر کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ اور اختلافاتِ السنہ میں لب و لہجہ کا اختلاف بھی شامل ہے۔
نیز فرمایا:
﴿نَّحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ ۖ﴾ (سورة الإنسان/الدهر: 28)
ترجمہ: “ہم ہی نے ان کو پیدا کیا، اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے۔”
یعنی ان کے جوڑوں کی ساخت میں ایک خاص کمال یہ رکھا کہ اس کے جوڑ بند مضبوط و مستحکم بنائے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمر بھر انسان اپنے ان جوڑوں کو استعمال میں لاتا رہتا ہے لیکن یہ نہ گھستے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں، اور سالہا سال اپنی جگہ مستحکم اور کارآمد رہتے ہیں۔
اسی طرح ہر عضو کی لمبائی اور چوڑائی میں جو تناسب رکھا، اس سے انسان کے اعضاء کو ایک خاص تناسب بخشا گیا۔ ہر چیز کو ایک تناسب سے بنایا کہ ذرا اس سے مختلف ہو جائے تو اعضائے انسانی کے وہ فوائد باقی نہ رہیں جو اس کی موجودہ صورت میں ہیں۔ اور اس کے ہر ہر عضو کو ایک خاص اعتدال بخشا جو دنیا کے کسی جاندار میں نہیں۔ اعضاء کے تناسب کے اعتبار سے بھی اور نزاہت و لطافت کے اعتبار سے بھی۔ ۔
(اشرفی چشتی – صفحات 111 تا116)
زمین پر قدم رکھنے والی اس عظیم مخلوق (انسان) کی کہانی قرآنِ کریم کی ان آیاتِ مبارکہ سے شروع ہو جاتی ہے:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾﴾ (سورة العلق: 1 تا 5)
ترجمہ: “پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے لہو سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایا قلم سے، سکھایا انسان کو جو وہ نہ جانتا تھا۔” (معارف القرآن)
تفسیر کا خلاصہ یوں بیان ہوا:
‘اقرأ’ سے لے کر ‘ما لم یعلم’ تک سب سے پہلی وحی ہے جس کے نزول سے نبوت کی ابتدا ہوئی۔ ﴿الَّذِي خَلَقَ﴾ میں کائنات کی تخلیق کا بیان ہوا ہے اور ﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ﴾ میں اشرف المخلوقات انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا، کہ غور فرمائیں کہ پوری کائنات و مخلوقات کا خلاصہ انسان ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہے، اس کے نظائر انسان کے وجود میں موجود ہیں، اس لیے انسان کو ‘عالمِ اصغر’ بولا جاتا ہے۔ اور انسان کی تخصیص بالذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبوت و رسالت اور قرآن کے نازل کرنے کا مقصد احکامِ الٰہیہ کی تنفیذ و تعمیل ہے، اور وہ انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
‘علق’ کے معنی منجمد (جمے ہوئے) خون کے ہیں۔ انسان کی تخلیق میں مختلف مراحل گزرتے ہیں، اس کی ابتدا مٹی اور عناصر سے ہے، پھر نطفہ سے، اس کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بنتا ہے، پھر مضغہ (گوشت کا لوتھڑا)، ہڈیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ علقہ ان تمام ادوارِ تخلیق میں ایک درمیانی حالت ہے۔ اس کو اختیار کر کے اس کے اول اور آخر کی طرف اشارہ کیا گیا۔
دوسری آیت ﴿اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ﴾ میں لفظِ ‘اقرأ’ کو مکرر (دوبارہ) لایا گیا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلا ‘اقرأ’ تو خود آپ کے پڑھنے کے لیے فرمایا تھا، اور یہ دوسرا لوگوں کو تبلیغ و دعوت کے لیے ہے۔ اور تخلیقِ عالم و تخلیقِ انسان میں اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی غرض یا ذاتی نفع نہیں بلکہ یہ سب اس کے جود و کرم کا تقاضا ہے کہ اس نے کائنات کو وجود کی عظمت عطا فرمائی۔
﴿الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ میں تخلیقِ انسانی کے بعد اس کی تعلیم کا بیان ہے، کیونکہ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے۔ پھر تعلیم کی دو صورتیں ہیں: ایک زبانی تعلیم اور دوسری بذریعہ قلم (تحریر و خط سے)۔ ابتدائی صورت میں لفظ ‘اقرأ’ میں اگرچہ زبانی تعلیم ہی کی ابتدا ہے، مگر اس آیت میں جہاں تعلیم دینے کا بیان آیا ہے اس میں قلمی تعلیم کو مقدم کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
﴿هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا ﴿١﴾ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴿٢﴾ إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴿٣﴾﴾ (سورة الإنسان/الدهر: 1 تا 3)
ترجمہ: “بے شک گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے کا کہ نہ تھا وہ کوئی چیز قابلِ ذکر۔ ہم نے بنایا آدمی کو ایک مخلوط بوند سے، ہم الٹتے پلٹتے رہے اس کو، پھر کر دیا ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا۔ بے شک ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا، اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔” (معارف القرآن)
خلاصۂ تفسیر:
بے شک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آ چکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابلِ تذکرہ نہ تھا (یعنی موجودہ ہیئت میں انسان نہ تھا، بلکہ نطفہ تھا اور اس سے پہلے عناصر کا جز تھا)۔ ہم نے اس کو (عورت اور مرد کے جوڑ کے) مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ اس طور پر کہ ہم اس کو مکلف بنائیں گے، تو (اسی واسطے) ہم نے اس کو سنتا دیکھتا (سمیع و بصیر) بنایا۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیئت و صفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں احکامِ شرعیہ کا مکلف بننے کی قابلیت ہو۔ اس کے بعد جب مکلف ہونے کا وقت آ گیا تو ہم نے اس کو (نیکی و بدی پر مطلع کر کے) راستے بتلا دیے (یعنی احکام کا مخاطب بنایا)۔ پھر اب یا تو وہ شکر گزار اور فرماں بردار ہو گیا یا ناشکرا اور کافر ہو گیا۔ (یعنی جس راستے پر اس کو چلنے کو کہا تھا، جو اس پر چلا وہ شکر گزار ہو گیا اور جو بالکل نہ چلا وہ کافر ہو گیا)۔ (معارف القرآن)
نتیجہ:
ان آیاتِ مبارکہ سے انسان کے بارے میں درج ذیل امور ہماری سمجھ میں آ جاتے ہیں:
تمام کائنات میں انسان کو ممتاز حیثیت حاصل ہے جس کی برابری کوئی مخلوق نہیں کر سکتی۔
سورۂ علق انسان کی دوسری حقیقت بیان کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ انسان کی ابتدا ایک نہایت سادہ اور معمولی مادہ (علق) سے ہوئی، پھر اسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا اور وہ صاحبِ علم و حکمت، ایک باشعور اور باعزت مخلوق بن گیا۔
سورۂ دہر میں انسان کو اس کی ابتدا یاد دلائی گئی ہے کہ وہ زمانے میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا، بلکہ عناصر میں بکھرا ہوا ذرہ تھا، پھر اسے شعور ہوا۔ وہ کوئی ہیرے کا ٹکڑا یا سونے کا پارہ نہ تھا کہ راہ چلتے انسان اس کی عظمت اور چمک دیکھتے۔ شروع میں اس کی تخلیق اور پرورش میں اللہ نے اسے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اپنی آیات اور رسولوں کے ذریعے ہر کام کا انجام بھی بتلا دیا۔ اب اپنے اختیار سے، جو اسے عطا کیا گیا ہے، وہ اپنے اعمال کو جس رخ پر چاہے ڈال دے، اور اسی اختیاری اعمال کی وجہ سے جزا و سزا کا دارومدار ہے۔
اس انسان نے جو خاک (مٹی) سے بنا، مگر علم و حکمت پا کر ممتاز ہوا، اس زمین پر اپنا ایک الگ اثر قائم کیا۔ انسان کا وجود میں آنا محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور کمالِ تخلیق کا نمونہ ہے۔
الله تعالیٰ جس نے اس انسان کو پیدا فرمایا، وہ اس کی جملہ صفات کو بھی جانتا ہے اور اس کی کمزوریوں کو بھی۔ چنانچہ انسان کی ان کمزوریوں کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ بھی بیان فرمایا ہے:
﴿إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا ﴿٢١﴾ إِلَّا الْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾ الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ﴿٢٣﴾﴾ (سورة المعارج: 19 تا 23)
ترجمہ: “بے شک آدمی بنایا گیا ہے کچے دل والا (حریص و بے صبر)۔ جب پہنچے اس کو برائی تو ہائے ہائے کرے (شور مچائے)۔ اور جب پہنچے اس کو بھلائی (مال و دولت) تو بخیل بن جائے۔ مگر وہ نمازی، جو اپنی نماز پر قائم ہیں بشرطیکہ وہ صالحین ہوں۔” (معارف القرآن)
تفسیر کا خلاصہ:
‘ہلوع’ کے لفظی معنی حریص، بے صبر اور کم ہمت آدمی کے ہیں۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے ہلوع سے مراد ‘مال و حرام کی حرص رکھنے والا’ بتایا ہے۔ حضرت سعید بن جبیرؒ نے اس سے مراد ‘بخیل آدمی’ اور مقاتل نے ‘تنگ دل اور بے صبر’ معنی بتایا ہے۔ اور یہ سب معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ہلوع کے مفہوم میں شامل ہیں۔
یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب اللہ نے اسے پیدا ہی ایس حال میں کیا ہے۔ تو یہ عیب
اس کی تخلیق میں رکھے ہیں تو اس کا قصور کیاہوا۔ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیاہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور۔ جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے۔ سو اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر خیر و فساد کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شرو فساد بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمایا۔ اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے ہر کام کا انجام دہی بھی بتلا دیا۔ تو اپنے اختیار سے شرو فساد کی پرورش کی اپنے اختیاری اعمال کواس رخ پر ڈال دیا۔ تو وہ مجرم ان اختیاری اعمال کی وجہ سے قرار پایا۔ جو مادہ اس کی پیدائش میں ودیعت رکھا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے اسکو مجرم نہہں قرار دیا گیا۔ جیسے
ہلوغ کے معنی قرآن کریم نے کی ہے۔ان میں صرف احوال اختیار کا ذکر فرمایا ہے جو یہ ہیں
یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بے صبری کا یہ عالم ہے۔ کہ جب اس کو کسی تکلیف و مصیبت پہنچتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا۔ جب کوی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے۔ تو اس میں بخل کرتا ہے۔ جو حدود شرع سے بخل کرتاہے ۔یہاں بے صبری اور جزع سے مراد وہ ہیں جو جو حدود شرع سے باہر ہوں اس طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات سے کوتاہی ہے۔ ہوں۔ ۔ ۔ ۔
آگے عام انسانوں کی اس خصلتِ مذکورہ سے مومنینِ صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے ٔ اعمال و اخلاقِ صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللاالمصلحین سے شروع ہو کرالذین ہم علی صلاتہم دائمون تک بیان کیے گیے ہیں۔ یہاں استثنا بہ لفظ مصلحین۔کیا گیا ہے۔ یعنی نمازی مراد اس سے وہ مومنین ہیں ۔ یہاں استثنا لفظِ ﴿الْمُصَلِّينَ﴾ سے کیا گیا ہے، یعنی نمازیوں سے مراد یہاں کامل مومنین ہیں۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ نماز مومن کی پہلی اور سب سے بڑی علامت ہے۔ مومن کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو نمازی اور نمازوں پر مداومت کرنے والے ہیں۔ (معارف القرآن) باقی آیندہ
نوٹ: یہ مضمون میری زیرِ تصنیف کتاب “انسان، زمین اور کائنات” کا ایک باب ہے۔ اب میں اسے احباب سے شیئر کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
— اسرار
