مقصدِ قربانی – تحریر: ثناء اللہ مجیدی
.
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کی ہر عبادت اپنے اندر ایک عظیم مقصد، حکمت اور روحانی پیغام رکھتی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح قربانی بھی ایک ایسی عظیم عبادت ہے، جس کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ انسان کے دل میں اطاعتِ الٰہی، اخلاص، تقویٰ، ایثار اور بندگی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ذوالحجہ کا مبارک مہینہ آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان سنتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ یہ عمل دراصل انسان کو اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کے سامنے دنیا کی ہر چیز ہیچ ہے۔
قربانی کی اصل تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی سے وابستہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
”پھر جب وہ بچہ ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔“
(سورۃ الصافات: 102)
یہ منظر تاریخِ انسانیت کا عظیم ترین منظر ہے، جہاں ایک باپ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے جگر کے ٹکڑے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے، اور ایک بیٹا بھی صبر، رضا اور اطاعت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول فرما لیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کے بدلے اسے چھڑا لیا۔“
(سورۃ الصافات: 107)
اسی عظیم واقعے کی یاد میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر قربانی مشروع کی گئی، تاکہ مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
قربانی کا اصل مقصد تقویٰ اور اخلاص ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے:
”اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“
(سورۃ الحج: 37)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد ظاہری رسم ادا کرنا نہیں، بلکہ دل کا اخلاص، اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ اگر قربانی میں ریاکاری، دکھاوا اور فخر شامل ہو جائے تو اس کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ اسلام ہر عبادت میں اخلاص کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی قربانی کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
”یارسول اللہ ﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا:
”یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
”اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا:
”جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔“
(سنن ابن ماجہ)
قربانی دراصل انسان کے اندر ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایک مسلمان اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز بھی قربان کر سکتا ہے۔ یہی جذبہ ایک مضبوط اور بااخلاق معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
قربانی انسان کو شکرگزاری کا درس بھی دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے: صحت، مال، اولاد اور زندگی سب اسی کی عطا ہیں۔ قربانی کے ذریعے مسلمان اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر گزار بندہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کی خواہشات، غرور، حسد، تکبر اور گناہوں کو قربان کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر انسان قربانی کے بعد بھی جھوٹ، ظلم، دھوکہ، حسد اور تکبر میں مبتلا رہے تو وہ قربانی کی اصل روح کو نہیں پا سکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کر دیا، جبکہ آج ہمیں اپنی خواہشات اور برائیوں کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قربانی کی اصل روح کہیں نہ کہیں کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ بعض لوگ قربانی کو محض نمائش، فخر اور سوشل میڈیا کی تشہیر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مہنگے جانوروں کی نمائش اور دوسروں پر برتری جتانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام عاجزی، سادگی اور اخلاص کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کی قیمت نہیں، بلکہ نیت اور تقویٰ کی اہمیت ہے۔
قربانی کا ایک اہم مقصد غریبوں اور محتاجوں کی مدد بھی ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے اور ضرورت مندوں تک پہنچانے کی تعلیم دی، تاکہ معاشرے میں محبت، مساوات اور بھائی چارہ فروغ پائے۔ عید الاضحیٰ دراصل خوشیوں کو بانٹنے کا نام ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی غریب خاندان عید کی خوشیوں سے محروم ہو تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔
قربانی اتحادِ امت کی بھی علامت ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی وقت میں سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہیں۔ رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق کے باوجود سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دینی وابستگی کا حسین مظہر ہے۔
ذوالحجہ کے دنوں میں قربانی کے ساتھ ساتھ ذکرِ الٰہی، نماز، روزہ، صدقہ اور دعا کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
(صحیح بخاری)
یہ دن دراصل انسان کے لیے روحانی تربیت کا بہترین موقع ہیں۔ اگر مسلمان ان دنوں میں اخلاص کے ساتھ عبادت کریں تو ان کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔
قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی قربانی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ”خلیل اللہ“ کا عظیم مقام عطا فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان ان کی سنت کو زندہ رکھیں گے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قربانی کی اصل روح سے آگاہ کریں۔ بچوں کو صرف جانور خریدنے اور ذبح کرنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قربانیوں کا پیغام بھی سمجھایا جائے، تاکہ نئی نسل میں دین، اطاعت اور قربانی کا جذبہ پیدا ہو۔
علماء، خطباء اور اہلِ قلم کو بھی چاہیے کہ وہ معاشرے میں قربانی کے حقیقی مقصد کو اجاگر کریں۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ قربانی عبادت ہے، رسم یا نمائش نہیں۔ اگر مسلمان قربانی کی روح کو سمجھ لیں تو معاشرے میں محبت، ایثار، اخلاص اور خوفِ خدا پیدا ہو سکتا ہے۔
آج دنیا مادہ پرستی، خود غرضی اور نفسانفسی کا شکار ہے۔ ہر شخص صرف اپنی ذات اور مفادات کے بارے میں سوچتا ہے۔ ایسے دور میں قربانی کا پیغام انسان کو ایثار، محبت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی دولت میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔
بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مقصدِ قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ، اخلاص، اطاعت اور ایثار کا حصول ہے۔ قربانی انسان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفاداری اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری کی یاد دلاتی ہے۔ یہ عبادت انسان کے دل میں بندگی اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم قربانی کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں میں اپنا لیں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سنور سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح کو سمجھنے، اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے اور سنتِ ابراہیمیؑ پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
