جہانِ خیال ۔ چترال اور گلگت کے اسماعیلی برادری ۔ تحریر: عتیق الرحمن
۔
چترال، گلگت، ہنزہ، غذر اور قراقرم کے بلند پہاڑی علاقوں میں آباد افراد کی اکثریت اسماعیلی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اسماعیلیہ کی ایک بڑی اور منظم شاخ ہے، جس کی مذہبی قیادت سلسلۂ امامت کے تحت جاری ہے۔ موجودہ دور میں ان کے امام شاہ رحیم الحسینی ہیں، جنہیں پیروکار اپنی روحانی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور دینی تشریح کا مرکز سمجھتے ہیں۔
یہ اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، قرآنِ مجید پر ایمان، رسالتِ محمدی ﷺ اور حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ امامت کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ امامِ وقت دین کی رہنمائی کرتا ہے اور قرآن کی باطنی اور اخلاقی وضاحت پیش کرتا ہے، لیکن وہ نبی نہیں ہوتا۔
شمالی پاکستان میں اسماعیلی دعوت کے پھیلاؤ کا تعلق مشہور داعی، مفکر اور شاعر ناصر خسرو سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کی تعلیمات بدخشان سے ہوتے ہوئے چترال، گلگت اور ہنزہ تک پہنچیں اور یہاں ایک مضبوط مذہبی برادری بنی۔ وقت کے ساتھ یہ برادری مقامی معاشرے کا حصہ بن گئی اور تعلیم، صحت اور خدمتِ خلق کے کاموں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔
اسماعیلی تاریخ پر تحقیق کرنے والے معروف محقق Farhad Daftary اپنی کتاب The Ismailis: Their History and Doctrines میں لکھتے ہیں کہ اسماعیلی روایت صدیوں پرانی ہے اور شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں اس کا گہرا اثر موجود ہے۔
اس موضوع پر اہلِ سنت، اہلِ حدیث، شیعہ اور دیگر مسلم مکاتبِ فکر کے درمیان شدید علمی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض علماء اسماعیلی عقائد، خاص طور پر امامت کے تصور اور اس کی تشریح کو مختلف سمجھتے ہیں، جبکہ اسماعیلی علماء اسے اسلام ہی کی ایک روحانی اور باطنی تشریح قرار دیتے ہیں۔
چنانچہ مجموعی طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چترال اور گلگت کے یہ افراد اسماعیلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کے بنیادی عقائد اسلام کے اصولوں یعنی توحید، رسالتِ محمدی ﷺ اور قرآنِ مجید پر ایمان کے گرد قائم ہیں، اگرچہ امامت کے تصور اور تشریح کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
حوالہ جات:
Farhad Daftary, The Ismailis: Their History and Doctrines, 3rd Edition, I.B. Tauris, 2022, pp. 518–530.
The Ismaili Constitution (1975), Aga Khan IV, official constitutional text of the community.
