چترال کے سدا بہارکھوار گیت – پروفیسر اسرار الدین
انسانی فکر کی نشونما اور ذکر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وصف انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز بخشتا ہے ۔ اسی فکری صلاحیت کی نشونما میں جہاں انسان کی ذہنی استعداد کا دخل ہے وہاں اس کے سماجی ماحول اور حالاتِ زندگی بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر جب چترال کے پہاڑوں میں گھرے نسبتاً الگ تھلگ ماحول میں زندگی گزارنے والے قدیم لوگوں کے افکار و خیالات کا احاطہ کیا جاتا ہے تو انسان حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے کہ وہاں کے عام لوگ بھی کس قدر بلند اور اچھوتے خیالات کے حامل تھے ۔ یہ احساس مجھے اس وقت اور شدت سے ہوا جب قاضی عنایت جلیل عنبر کی نئی کتاب “چترال کے سدا بہار گیت” میرے سامنے آئی ۔ اس کتاب نے یہ حقیقت مزید واضح کی کہ انسانی فکر کی عظمت کسی بڑے شہر، جدید تعلیم یا ترقی یافتہ ماحول کی محتاج نہیں بلکہ انسان اپنے خدا داد استعداد، قوتِ مشاہدہ، فطرت سے قربت اور داخلی شعور سے بھی حاصل کر سکتا ہے ۔
چترال جیسے علاقوں میں فطرت کے ساتھ قربت، اجتماعی سادہ طرزِ معاشرت اور انسانی پاکیزہ جذبات کی پختگی لوگوں کے عام صفات میں شامل ہیں ۔ اس لیے وہاں کے لوک گیت، کہاوتیں اور حکایات محض تفریح نہیں ہوتیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ زندگی میں خلوص ولولیت کی چاشنی، مشکل حالات میں جینے کا ڈھنگ اور محرومیوں کو بھی برداشت کرنے کی سکت جیسے دو طرفہ رویوں کے اظہار ہوتے ہیں ۔
قاضی عنایت عنبر نے اپنی اس کتاب کو ستر (70) لوک گیتوں سے سجایا ہے جن میں ذیل معاشرتی رویے ہمارے سامنے آجاتے ہیں:-
- ۱- دنیا کی بے ثباتی
- ۲- عشق و محنت کے جذبات اور سحر بیانی
- ۳- رشتے – پیار و محبت – جدائیوں کا مرقع
- ۴- جنگلی حیات اور انسان
- ۵- عورتوں سے منسوب جن میں محبت و فراق کے نغمے،
- مرثیے اور شادیانہ گیت وغیرہ شامل ہیں ۔
- ۶- رزمیہ گیت
آپ کی دلچسپی کے لیے اگر گیتوں کے چند نمونے پیش کیے جائیں تو بے محل نہ ہوگا ۔
- صفحہ 42: رویان سے آفرین تک
- صفحہ 44: شوم اسکو — لوڑے سیر تک
- صفحہ 115: شیرانہ — بر نمنو
- صفحہ130: دوستو سیدہ سار چھور
- صفحہ 145: لیے
- صفحہ 168: چھولو تہ چا غیر آئینگی، چاغیر
- صفحہ 153: پردیوب گویان
- صفحہ 199: نانے کانٹے اویر
- صفحہ 200: نانے کانٹے، خدائی ساتیر
قاضی جلیل عنبر کی یہ کتاب کھوار ادب کے لیے ایک اہم کڑی ثابت ہوئی ہے ۔ گیتوں کے اردو اور انگریزی ترجمہ نے اس کی اہمیت اور بڑھا دی ہے ۔ دوسری زبانوں کے محققین کے لیے جو کھوار پر کام کرنے کے شوقین ہیں ، ان کے لیے یہ ایک خوبصورت تحفہ ہے ۔ عنبر صاحب نے ابتدائیہ کے طور پر کھوار زبان کے مختلف پہلوؤں پر بھی بہت اہم معلومات فراہم کی ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے ۔ عنایت عبیر تقریباً چالیس سالوں سے کھوار زبان و ادب کے فروغ سے تعلق رکھے ہوئے ہیں ۔ اس دوران وہ ریڈیو براڈ کاسٹر، مختلف کھوار رسالوں میں مضامین لکھنے اور مختلف کھوار تنظیموں، خاص طور پر “انجمن ترقی کھوار” کے سرگرم رکن کی حیثیت سے ان کے خدمات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ اس اہم کتاب کے لیے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور ان سے کھوار زبان و ادب کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرائے (آمین) ۔
وہ نہ صرف کھوار بلکہ اردو کے بھی اچھے لکھاری ہیں ۔ ان کا سفرنامہ “چین بہ چین” اردو دان طبقہ کی طرف سے کافی سراہا گیا ہے ۔ انگریزی میں ان کی دسترس ان گیتوں کے ترجمے سے واضح ہو جاتی ہے ۔
کتاب کو FLI (اسلام آباد) کے ادارے نے خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے قابل ہیں ۔ یہ ادارہ عرصہ دس سال سے پاکستان کے شمال میں بولنے والی زبانوں کی ترقی کے لیے سرگرم ہے ۔ خاموشی سے کام کرتے ہیں، پبلسٹی زیادہ پسند نہیں کرتے ۔ اس ادارے کا سربراہ اخونزادہ فخر الدین ہیں جن کا تعلق لوئر چترال سے ہے ، خاموشی سے کام رکھتے ہیں ۔ کبھی کبھی کوئی ایسی تقریب کرتے ہیں
جس سے ادارے کے وجود کے بارے میں لوگوں کو آگاہی بھی ہوتی ہے ۔ 2020ء میں اس ادارے کے بھرپور تعاون کی وجہ سے ہی انجمن ترقی کھوار چترال نے چوتھی انٹرنیشنل ہندوکش کلچرل کانفرنس کا انعقاد کرایا ، جو یاد رکھی جائے گی ۔
اس قسم کے ادارے پاکستان کے دور دراز علاقوں کے اہم مگر معدوم ہونے والی زبانوں کی بقا کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔
اسرار الدین سابق پروفیسر پشاور یونیورسٹی
