صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس، عمران خان کے طبی حقوق اور وفاقی رویے پر شدید تحفظات، ملاکنڈ لیویز کے پولیس میں انضمام کی اصولی منظوری
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ میں شامل ہونے والے نئے وزرائ ، مشیروں اور معاونین خصوصی کو خوش آمدید کہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی پارلیمنٹیرینز اور دیگر منتخب نمائندوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قومی یکجہتی کے خلاف قرار دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسے اقدامات تعصب اور نفرت کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ کسی صورت مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جانے کا واحد مقصد عمران خان سے اظہارِ یکجہتی اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرنا تھا ، تاہم ان کے 26 نمبر چونگی پہنچنے سے قبل ہی انتظامیہ نے مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کو بند کر رکھا تھا۔ صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کی فیملی کی موجودگی میں، ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی اور بہترین طبی سہولیات کے حامل ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جو ان کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے آئین، قانون اور جیل قوانین کے مطابق ہر قیدی کو مناسب طبی سہولیات اور اپنی مرضی کے علاج کا حق حاصل ہے، لہٰذا عمران خان کے علاج سے متعلق مطالبہ کسی رعایت کا نہیں بلکہ ایک بنیادی قانونی اور آئینی حق کے نفاذ کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں اور شہریوں کی آواز کا جواب گولیوں سے دیا جا رہا ہے اور حالیہ واقعے میں ان کے تین ساتھی بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو بھی شہریوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں، منتخب نمائندوں اور شہریوں پر طاقت کا استعمال جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کے منافی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں پر فائرنگ کی روایت ملک کے لیے نہایت خطرناک ہے اور اس کے منفی اثرات مستقبل میں تمام سیاسی قوتوں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی اختلاف رائے کا جواب طاقت کے استعمال اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ناروا سلوک کی صورت میں دیا جاتا رہا تو یہ ایک خطرناک روایت بن جائے گی جس کے منفی اثرات مستقبل میں تمام سیاسی جماعتوں اور جمہوری عمل کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بینائی اور مجموعی صحت سے متعلق سنجیدہ خدشات موجود ہیں اور علاج کے بعد بھی ان کی صحت کے بارے میں مناسب معلومات سامنے نہیں لائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی خاتون ہیں اور انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے عدلیہ اور قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اقتدار کے تحفظ کے لیے سیاسی رہنماو¿ں کو نشانہ بنانا اور ان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق محدود کرنا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف کرپشن کا جھوٹا بیانیہ گھڑنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس شخص یا ادارے کے پاس کرپشن سے متعلق کوئی ثبوت موجود ہے وہ اسے سی ایم سیکرٹریٹ کے سامنے پیش کرے، حکومت فوری اور بلاامتیاز کارروائی کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کرپشن کے کسی بھی الزام کی غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے تیار ہے اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے قابل تصدیق شواہد پیش کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے تمام صوبائی محکموں، وزراء ، مشیروں، معاونین خصوصی اور متعلقہ انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ ان کے اداروں کے خلاف لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات پر تین دن کے اندر قانونی کارروائی اور نوٹس جاری کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں کارروائی نہ کرنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب کرپشن موجود نہیں تو کسی کو جھوٹا پروپیگنڈا کرنے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ بعض ڈاکٹروں کی حالیہ پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے اور ان الزامات، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ احتساب سب کا ہوگا اور کرپشن ثابت ہونے پر بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ نے ملاکنڈ لیویز کو پولیس فورس میں ضم کرنے کی اصولی منظوری دی جس کے لیے کابینہ کمیٹی ملاکنڈ لیویز کے انضمام کے تمام مالی، قانونی اور انتظامی پہلوو¿ں پر سفارشات مرتب کرے گی۔ صوبائی کابینہ نے باجوڑ کے علاقے شاہی تنگی میں ڈرون دھماکے کے نتیجے میں دو معصوم سکول بچوں کی شہادت کی شدید مذمت بھی کی۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
