شاموخی بوخت، تورکھو کی سنگلاخ تاریخ اور چترال کی لوک جمالیات – تحریر: رحمت عزیز خان
.
چترال کی وادیاں صرف برف پوش چوٹیوں اور شفاف ندیوں کا نام نہیں۔ یہاں کی سنگلاخ چٹانیں بھی صدیوں کی تہذیب، عقائد اور اجتماعی لاشعور کی امین ہیں۔ تورکھو روڈ کے کنارے رائیں کے آغاز پر ایستادہ “شاموخی بوخت” بھی انہی گویا پتھروں میں سے ایک ہے۔ یہ محض ایک ارضیاتی تشکیل نہیں بلکہ ایک زندہ استعارہ ہے، جو زبان، ثقافت اور انسانی رشتوں کی پیچیدگی کو اپنے سینے پر کندہ کیے ہوئے ہے۔
تورکھو، رائیں کے آغاز پر، سڑک کے پہلو میں ایک عظیم الجثہ تختی نما پتھر موجود ہے۔ اس کی سطح پر قدرتی طور پر سیاہ و سفید متوازی دھاریاں ثبت ہیں۔ کھوار زبان میں اسے “شاموخی بوخت” کہا جاتا ہے۔ “شاہ” یعنی کالا، “موخی” یعنی چہرہ والا، اور “بوخت” یعنی پتھر۔ یوں اس کا لغوی مفہوم “سیاہ چہرے والا پتھر” بنتا ہے۔
اس پتھر سے متصل بستی “کھول بوخت” کے نام سے موسوم ہے۔ لسانی اعتبار سے “کھول” کھوار میں خرمن یا غلہ گاہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ قرینِ قیاس ہے کہ بستی کا نام اسی پتھر کی معاشرتی کارکردگی کی بنا پر پڑا۔ حجم اور ساخت کے اعتبار سے یہ چٹان ایک قدرتی خرمن گاہ معلوم ہوتی ہے۔ غالب امکان ہے کہ ماضی بعید میں مقامی آبادی فصلوں کو اسی چپٹی سطح پر پھیلا کر گاہتی رہی ہوگی۔ یہ مفروضہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے اور اس کی تصدیق مقامی روایات اور بزرگوں کے بیانات سے ہی ممکن ہے۔
شاموخی بوخت ارضیاتی طور پر “بینڈڈ نیس” یا سلیٹ نما میٹامورفک چٹان کی قسم معلوم ہوتی ہے۔ اس پر سیاہ و سفید پٹیاں معدنیات کی تہہ در تہہ جمود کا نتیجہ ہیں۔ چترال کے دشوار گزار خطے میں اس قسم کی دھاری دار چٹانیں شاذ ہیں، اسی لیے یہ عوامی تخیل کا مرکز بن گئی ہیں۔ فطرت کے اس انوکھے نقش نے انسان کو اساطیر تراشنے پر مجبور کیا۔
اس پتھر سے ایک انتہائی دردناک اور علامتی داستان وابستہ ہے۔ سینہ بہ سینہ چلی آ رہی روایت کے مطابق کسی عہد میں یہاں ایک ساس اور بہو کو بیک وقت تہِ تیغ کیا گیا۔ روایت کہتی ہے کہ دونوں کا لہو جب پتھر کی سطح پر بہا تو وہ باہم مدغم ہونے کے بجائے دو جداگانہ دھاروں میں تقسیم ہوگیا۔ سیاہ اور سفید لکیروں کو اسی واقعے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یہی واقعہ چترال کی مشہور ضرب المثل “ساس اور بہو کا خون کبھی آپس میں نہیں ملتا” کا محرک بنا۔ یہ کہاوت محض خاندانی چپقلش کا بیان نہیں بلکہ دو متضاد مزاجوں، نسلوں کے تصادم اور ناقابلِ مصالحت رشتوں کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ نفسیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پتھر اجتماعی لاشعور میں موجود “رشتوں کی مستقل خلیج” کا مجسمہ ہے۔
شاموخی بوخت اس خطے کا واحد اساطیری پتھر نہیں۔ چترال کا ثقافتی منظرنامہ ایسے کئی سنگی استعاروں سے بھرا پڑا ہے۔ بعض علاقوں میں دلہن سے منسوب پتھر موجود ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت واقعات کا مرکز رہے۔ کئی چٹانوں کو جنات کا مسکن قرار دے کر ان کے قریب جانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ کچھ مقامات پر پتھروں کو مقدس جان کر ان پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھائی جاتی ہیں۔
بعض پتھروں میں گھوڑوں کے سموں کے نشانات اور انسان کے ہاتھ پاؤں کے نقوش پائے جاتے ہیں، جن کے متعلق مختلف روایات اور تمنائیں وابستہ ہیں۔ کچھ پتھروں میں جانوروں کی شکلیں فوسلز کی صورت میں ملتی ہیں اور بعض پتھروں پر قدیم کندہ شدہ جانوروں کی تصویریں موجود ہیں، جبکہ چند ایک پر تحریریں بھی دیکھی گئی ہیں۔ بدھ مت دور کے اسٹوپے بھی بعض چٹانوں پر کندہ ہیں۔ یہ تمام مقامات “سیکرڈ جیوگرافی” کی مثالیں ہیں، جہاں جغرافیہ اور عقیدہ آپس میں گندھ جاتے ہیں۔ شاموخی بوخت ان سب میں اس لیے ممتاز ہے کہ وہ ایک سماجی رشتے کی حرکیات کو پتھر پر ثبت کرتا ہے۔
افسوس کہ چترال کی اس لوک ارضیات پر باقاعدہ علمی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بزرگوں سے ان پتھروں سے متعلق روایات قلم بند کی جائیں، قبل اس کے کہ یہ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی داستانیں معدوم ہوجائیں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کو ان چٹانوں کی ساخت اور قدامت پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اسی طرح چترال کے تمام اساطیری مقامات کا ایک ڈیجیٹل کلچرل میپ تیار کیا جانا چاہیے تاکہ سیاحت اور تحقیق دونوں کو فروغ مل سکے۔
شاموخی بوخت ہم سے سرگوشی کرتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی؛ وہ پہاڑوں کے سینے، دریاؤں کی روانی اور پتھروں کی لکیروں میں بھی محفوظ ہوتی ہے۔ یہ پتھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اور فطرت کا رشتہ دو طرفہ ہے۔ ہم پتھروں کو نام دیتے ہیں، اور پتھر ہمیں تہذیب دیتے ہیں۔
قارئین سے استدعا ہے کہ اگر آپ کے علم میں چترال یا دیگر شمالی علاقہ جات میں موجود کسی ایسے تاریخی، اساطیری یا ثقافتی اہمیت کے حامل پتھر کے بارے میں معلومات ہوں تو ضرور آگاہ کریں۔ مقام کی نشاندہی، مقامی نام اور وابستہ روایت تحریر کریں تاکہ ہم اپنی تہذیبی میراث کے اس گمشدہ باب کو محفوظ کر سکیں۔

