چترال میں خواتین کے 10 فیصد جاب کوٹہ پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت، مردوں کی بھرتیوں پر تحفظات کا اظہار
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈسٹرکٹ جینڈر ایکولٹی فورم اور ڈسٹرکٹ جینڈر ڈیسک کے وفد نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت فورم کے چیئرپرسن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کر رہے تھے۔
ملاقات کے دوران خواتین کی ذہنی صحت، خواتین کے لیے مختص ملازمتوں کے کوٹہ، ورک پلیس پر بہتر ماحول، مختلف محکموں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے علیحدہ ورک اسپیس، واش رومز، ریٹائرنگ رومز اور دیگر سہولیات سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفد کے اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کے لیے مختص 10 فیصد جاب کوٹہ پر مناسب عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف محکموں میں اسکیل 1 سے اسکیل 10 تک ہر سال متعدد خالی آسامیاں مشتہر کی جاتی ہیں، تاہم اشتہارات میں خواتین کے لیے مختص کوٹہ کو واضح نہیں کیا جاتا اور خواتین کی نشستوں پر بھی مردوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔
وفد نے مزید کہا کہ اگر کوئی خاتون امیدوار درخواست دیتی بھی ہے تو بعض اوقات اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس کے باعث خواتین کو مساوی مواقع میسر نہیں آ رہے۔
ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم عظیم نے اس موقع پر کہا کہ اس نوعیت کے فورمز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے فورم کے قیام کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ڈپٹی کمشنر نے وفد کو ہدایت کی کہ تمام مسائل تحریری شکل میں ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیے جائیں تاکہ ڈی سی آفس کی جانب سے کورنگ لیٹر کے ساتھ متعلقہ اداروں کو عملدرآمد کے لیے ارسال کیا جا سکے۔ انہوں نے خواتین کے جاب کوٹہ سے متعلق مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر خضر حیات خان، جینڈر ڈیسک کی انچارج نظیرہ شاہ، فورم کی نائب چیئرپرسن نازیہ حسن، شمس القمر اور دیگر بھی موجود تھے، جنہوں نے خواتین کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔

