سمندروں کی سٹریٹجک جنگ: گوادر، چاہ بہار اور بدلتی عالمی بساط – قادر خان یوسف زئی
.
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک لرزہ خیز حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ سمندروں کی لہریں صرف پانی کا تلاطم نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے عروج و زوال، جنگوں کے شعلوں اور معاشی تسلط کی لکھی اور ان لکھی داستانیں سناتی ہیں۔ وہ دور لد گیا جب محض گھوڑوں کی ٹاپیں یا ٹینکوں کی گھن گرج سلطنتوں کے مقدر کا فیصلہ کرتی تھی، اب اکیسویں صدی کی بساط پر وہی قومیں حکمرانی کر رہی ہیں جن کی دسترس میں گرم پانیوں کے ساحل، ڈیپ سی پورٹس اور سٹریٹجک بحری گزرگاہیں ہیں۔ ماضی میں نوآبادیاتی طاقتوں نے بحری راستوں سے ہی کمزور خطوں میں دراندازی کی اور پھر ان کی معاشی رگوں میں اپنی پالیسیوں کا زہر اتار کر انہیں اندرونی طور پر اس قدر کھوکھلا کر دیا کہ وہ قومیں اپنی شناخت تک کھو بیٹھیں۔
متحدہ ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ اسی تسلسل کی ایک المیہ کڑی تھا، جہاں تجارت کا لبادہ اوڑھ کر آنے والے بحری جہازوں نے بالاخر ایک عظیم سلطنت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقسیم کے وقت کلکتہ بندرگاہ کو جس بھونڈے طریقے اور بدنیتی سے پاکستان سے جدا کیا گیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ استعماری طاقتیں جانتی تھیں کہ معاشی شہ رگ اور سمندری رسائی کے بغیر کسی بھی ریاست کی آزادی محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہو سکتی ہے۔ آج کے اس جدید اور ڈیجیٹل دور میں بندرگاہوں کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سٹریٹجک اور دفاعی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ اب یہ محض تجارتی مال کی ترسیل کے مراکز نہیں رہے بلکہ یہ وہ ‘چیک پوسٹس’ بن چکے ہیں جہاں سے عالمی معیشت کی نبض کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ حالیہ امریکہ، ایران اور اسرائیل تنازعے نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سٹریٹجک منظرنامے کو جس طرح ہلا کر رکھ دیا ہے، اس نے گوادر اور چاہ بہار کی اہمیت کو ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
جنگوں کی سب سے بڑی قیمت صرف انسانی جانیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ بڑے معاشی خواب اور انفراسٹرکچر ہوتے ہیں جو دہائیوں کی محنت سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت، جس نے اپنی روایتی ‘بنیا’ ذہنیت اور علاقائی بالادستی کے زعم میں وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی کے لیے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، آج بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اس منصوبے کو ریت کی دیوار ثابت ہوتے دیکھ رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ فوجی تصادم نے چاہ بہار کے مستقبل پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ بین الاقوامی جہاز ران کمپنیاں اب ایسے علاقوں میں سرمایہ کاری یا مال کی ترسیل سے کتراتی ہیں جہاں جنگ کے بادل مستقل منڈلا رہے ہوں اور انشورنس کے اخراجات منافع سے زیادہ ہو جائیں۔
بھارت کی انتہا پسندانہ پالیسیاں اور برہمن ذہنیت ہمیشہ سے اس کوشش میں رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو معاشی طور پر تنہا کر دیا جائے۔ چاہ بہار کا منصوبہ دراصل گوادر کے مقابلے میں ایک ‘متبادل’ کے طور پر کھڑا کیا گیا تھا، لیکن جغرافیہ اور فطرت کے فیصلے انسانی سازشوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ چاہ بہار سے محض 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گوادر پورٹ اپنی قدرتی گہرائی اور محل وقوع کی بدولت ایک ایسا ‘جوہرا’ ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ گوادر کی 14.5 میٹر کی گہرائی اسے دنیا کی ان معدودے چند بندرگاہوں میں شامل کرتی ہے جہاں ڈھائی لاکھ ٹن کے وزنی جہاز باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ چاہ بہار کو اس سطح تک لانے کے لیے ابھی مزید کئی دہائیوں کی مشقت اور اربوں ڈالر درکار ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی نے عالمی طاقتوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی بھی وقت عالمی معیشت کا گلا گھونٹ سکتی ہے۔ ایسے میں چین کے لیے گوادر کی اہمیت ایک ‘لائف لائن’ کی سی ہو گئی ہے، کیونکہ یہ وہ واحد راستہ ہے جو چین کو جنوبی چین کے سمندر اور آبنائے ملاکا کے طویل اور خطرناک راستوں سے نجات دلا کر براہ راست بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔ جب گوادر سے پہلا تجارتی جہاز دبئی کے لیے روانہ ہوا تھا، تو وہ دراصل پاکستان کی معاشی خود مختاری کا پہلا قدم تھا۔
آج جب ہم 2026 کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو ایم-8 موٹر وے کی تکمیل اور گوادر میں صنعتی زونز کا قیام اس امر کی نوید ہے کہ خطے کا معاشی مرکز اب کراچی سے منتقل ہو کر گوادر بننے جا رہا ہے۔ لیکن اس بڑی کامیابی کی راہ میں کانٹے بچھانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ بھارت نے اپنی شکست خوردہ ذہنیت کے تحت بلوچستان میں جس طرح کی ‘پراکسی وار’ شروع کر رکھی ہے، اس کا واحد مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا اور پاکستان کے معاشی مستقبل کو تاریک کرنا ہے۔تجزیاتی بصیرت کے ساتھ اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ گوادر کی کامیابی میں ہی پاکستان کی بقا پوشیدہ ہے۔ وسطی ایشیا کی زمین بند ریاستیں، جو توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہیں، اب اپنی تجارت کے لیے کراچی یا ایران کے بجائے گوادر کو ترجیح دے رہی ہیں کیونکہ یہ راستہ نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ سٹریٹجک طور پر زیادہ محفوظ بھی ہے۔ تاہم، یہاں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہماری داخلی پالیسیوں پر بھی کھڑا ہوتا ہے۔ کیا ہم اس عظیم منصوبے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ کیا گوادر کی بلند و بالا عمارتوں اور چمکتی سڑکوں کے سائے میں اس مقامی بلوچ مچھیرے کا مستقبل بھی روشن ہوا ہے جس کے باپ دادا صدیوں سے ان لہروں کے وارث رہے ہیں؟
کسی بھی ریاست کی معاشی فتح اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کا فائدہ اس کے محروم ترین طبقے تک نہ پہنچے۔ اگر ہم نے گوادر کے عوام کے احساسِ محرومی کو دور نہ کیا، تو مخالف قوتیں ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انتشار کا بیج بوتی رہیں گی۔ گوادر کی لہریں اس وقت خوشحالی کا پیغام سنا رہی ہیں، لیکن اس پیغام کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط قومی ارادے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی بحری حدود کا پہرہ بھی دینا ہے اور اپنے عوام کے دلوں میں ریاست کے لیے محبت بھی جگانی ہے۔ بھارت کی سازشیں اپنی جگہ، لیکن ہماری اصل فتح اس دن ہوگی جب گوادر کا ساحل صرف بحری جہازوں کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے لیے ترقی اور خوشحالی کا استعارہ بن جائے گا۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عالمی بساط پر مہرے اپنی جگہ بدل رہے ہیں، ہمیں اب دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ تاریخ موقع ایک ہی بار دیتی ہے، اور گوادر وہ موقع ہے جسے ہم کسی صورت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ان لہروں پر حکمرانی کرنی ہے، غلامی نہیں۔
