بنیانٌ مرصوص – فتح مبین کا ایک سال مکمل – تحریر: ثناء اللہ مجیدی
.
قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ہمیشہ کے لیے قومی وقار، اتحاد، قربانی اور غیرت کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب قومیں آزمائش کی بھٹی سے گزرتی ہیں، اپنے حوصلے، عزم اور ایمان کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ زندہ قومیں کبھی جھکنا نہیں جانتیں۔“معرکۂ بنیانٌ مرصوص”بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا ہی روشن باب ہے جسے آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر اس کی یاد آج بھی دلوں میں تازہ، جذبے آج بھی زندہ اور فخر آج بھی ویسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔یہ صرف ایک عسکری معرکہ نہیں تھا بلکہ قومی غیرت، ایمانی قوت اور اتحاد کی عظیم مثال تھا۔
جب دشمن نے اپنی طاقت، غرور اور جدید اسلحے کے زعم میں پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ افواجِ پاکستان نے جس حکمتِ عملی، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔“بنیانٌ مرصوص”قرآنِ کریم کی وہ عظیم اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے“سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار”۔ یہی منظر اس وقت پوری قوم میں نظر آ رہا تھا۔ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر سینہ سپر تھے، بحریہ سمندری حدود کی حفاظت میں مصروف تھی اور پاک فضائیہ کے شاہین فضاؤں میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملا رہے تھے۔ قوم کا ہر فرد اپنی افواج کے ساتھ کھڑا تھا۔ مسجدوں میں دعائیں ہو رہی تھیں، ماؤں کے لبوں پر بیٹوں کی سلامتی کی دعائیں تھیں اور ہر پاکستانی کے دل میں وطن سے محبت کا جذبہ موجزن تھا۔
خصوصی طور پر پاک فضائیہ نے جس مہارت، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر بن گیا۔ دشمن اپنے جدید رافیل طیاروں پر بڑا ناز کرتا تھا۔ انہیں ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا اور دنیا بھر میں ان کی طاقت کے چرچے کیے جاتے تھے، مگر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی حکمتِ عملی، برق رفتاری اور غیر معمولی مہارت سے دشمن کے اس غرور کو خاک میں ملا دیا۔وہ جہاز جنہیں دشمن اپنی طاقت کی علامت سمجھتا تھا، پاکستانی شاہینوں کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ متعدد دشمن طیاروں کو نشانہ بنا کر پاک فضائیہ نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ جذبۂ ایمانی، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے محبت کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ دشمن شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ جدید اسلحہ اور طاقت کے زور پر وہ پاکستان کو خوفزدہ کر دے گا، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ وہ قوم ہے جس کے جوانوں کے دلوں میں شہادت کی آرزو اور وطن کی محبت موجزن ہوتی ہے۔جب دشمن کے غرور کے پر کٹے تو پورے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ہر زبان پر تکبیر تھی، ہر دل میں فخر تھا اور ہر آنکھ میں خوشی کے آنسو۔ آج بھی جب اس معرکے کی یاد تازہ ہوتی ہے تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ اپنی افواج کی بہادری، شاہینوں کی مہارت اور جوانوں کی قربانیوں پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے پاکستان کو ایسی باہمت، باصلاحیت اور باوقار فوج عطا فرمائی۔
یہ کامیابی صرف عسکری طاقت کی وجہ سے ممکن نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی نصرت، شہداء کی قربانیاں، عوام کی دعائیں اور پوری قوم کا اتحاد شامل تھا۔ جب قوم اور افواج ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔“بنیانٌ مرصوص”دراصل اسی اتحاد اور استقامت کا عملی مظاہرہ تھا۔اس معرکے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک ایمان اور ایک زندہ قوم کا نام ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ دشمن نے شاید یہ سوچا تھا کہ دھمکیوں اور حملوں سے پاکستانی قوم خوفزدہ ہو جائے گی، مگر اسے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ پاکستان کے عوام اور افواج ایک مضبوط دیوار کی مانند متحد ہیں۔
اس کامیابی کے پیچھے عسکری قیادت کی بصیرت اور بہترین حکمتِ عملی بھی شامل تھی۔ افواجِ پاکستان کی قیادت نے نہایت دانشمندی، تحمل اور تدبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ یہی مضبوط قیادت کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ نے باہمی تعاون اور بہترین ہم آہنگی کے ساتھ دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ہمیں اپنے ان شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطنِ عزیز کو محفوظ بنایا۔ شہداء کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ قوموں کی رگوں میں نئی روح اور نیا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ آج اگر پاکستان عزت، وقار اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہے تو اس کے پیچھے انہی قربانیوں کی طاقت ہے۔یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے سے مضبوط بنتی ہیں۔“بنیانٌ مرصوص”نے ثابت کر دیا کہ اگر قوم متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس معرکے کی یاد قوم کے دلوں میں تازہ ہے اور ہر پاکستانی اپنی افواج پر فخر محسوس کرتا ہے۔آج اس تاریخی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر ادا کر رہی ہے۔ یہ فتح صرف میدانِ جنگ کی کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت، قوم کی دعاؤں اور افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک عظیم نعمت عطا فرمائی ہے کہ اس کے پاس ایسی باکمال افواج موجود ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کی ڈھال بن جاتی ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی افواجِ پاکستان کے ساتھ محبت، اتحاد اور وفاداری کے رشتے کو مزید مضبوط کریں۔ دشمن ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ قوم اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرے، مگر ایک باشعور قوم کبھی اپنے محافظوں سے جدا نہیں ہوتی۔ افواجِ پاکستان ہماری عزت، ہمارا وقار اور ہماری سلامتی کی ضمانت ہیں۔یہ کامیابی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ ہوتی ہے جو صبر، استقامت اور اتحاد کا دامن تھامے رکھتی ہیں۔ اگر ہم بحیثیت قوم متحد رہیں، اپنے وطن سے سچی محبت کریں اور اپنے کردار کو مضبوط بنائیں تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔آج بھی جب دشمن کے تباہ ہونے والے غرور، رافیل طیاروں کی ناکامی اور پاکستانی شاہینوں کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر ہوتا ہے تو دل خوشی اور فخر سے بھر جاتا ہے۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
یا اللہ! ہم تیرا بے شمار شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسی عظیم، بہادر، باصلاحیت اور ایمان سے سرشار افواجِ پاکستان عطا فرمائیں۔ تو ہمارے وطنِ عزیز کو ہمیشہ قائم و دائم رکھ، ہماری افواج کو مزید قوت عطا فرما اور ہمیں اپنے وطن سے محبت، اتحاد اور وفاداری پر ہمیشہ قائم رکھ۔ آمین۔
