صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس: ڈرون حملوں، گیس بحران اور صوبائی حقوق پر سخت مؤقف، متعدد ترقیاتی و فلاحی فیصلوں کی منظوری
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری ڈرون حملوں اور وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کا اجلاس خصوصی طور پر مسلسل ڈرون حملوں کے خلاف بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز، جن کے نتیجے میں کولیٹرل ڈیمیج ہو رہا ہے، صوبے کی عوام کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام میں انتقام کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جو پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمیج کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہو رہا ہے جس کی صوبائی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اجلاس کا دوسرا مقصد صوبے کے حقوق پر ڈاکے اور وفاق کی جانب سے مسلسل ناانصافی کے خلاف مؤثر لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کو درپیش گیس بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جس سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ گھریلو صارفین بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق اسی صوبے کا ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں، تاہم اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے۔؎
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت متعدد شعبوں میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی بھی روکی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر گیس کا مسئلہ دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر بھرپور احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام، بزنس کمیونٹی، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مشترکہ احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف بھی بھرپور عوامی ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کل قبائلی مشران اور تمام سیاسی جماعتوں کا لویہ جرگہ طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی کابینہ کے 52ویں اجلاس کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت بحالی اور تعمیرِ نو ممکن بنائی جا سکے۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے لیے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کے خصوصی گرانٹ کی منظوری دی۔ اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لئے قائم انڈومنٹ فنڈ کی رقم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 30 کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خصوصی رعایت دیتے ہوئے مردان، نوشہرہ اور ہری پور میں مختلف واقعات کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج منظور کیا، جس کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔
کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 81 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ بہائی برادری کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ 1872 کے تحت دو میرج رجسٹرار مقرر کرنے اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لیے مختلف کیڈرز کی چھ نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔
شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے مالیاتی قواعد 2026، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے سروس رولز و ضوابط میں ترمیم اور مزید سکول لیڈرز کی کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ تعیناتی کی بھی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سائنسز (فاؤنٹین ہاؤس) پشاور کو ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کا زیلی ادارہ قرار دینے کی منظوری دی۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے محکمہ زراعت کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹمپریٹ رائس ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے مینگورہ سوات میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی ہسپتال کو جدید کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر بنانے کے لیے 18 کروڑ روپے اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جدید طبی سہولیات فراہم ہوں گی اور مریضوں کو اپنے علاقے میں ہی گردوں کی پیوندکاری کی سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے عوام کو پیدائش، وفات، شادی، طلاق اور دیگر اہم اندراجات کی آن لائن رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی منظوری بھی دی ہے۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سرکاری شعبے سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔ گندم کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ اس خریداری پر مجموعی طور پر 19 ارب 68 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر صوبے کے عوام کا مقدمہ ایک نئے انداز میں لڑا جائے گا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے، جس میں سے صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی صوبے میں استعمال ہوتی ہے جبکہ باقی 250 ایم ایم سی ایف ڈی دیگر صوبوں اور وفاق کو فراہم کی جا رہی ہے حالانکہ آئین کے مطابق گیس کے استعمال کا پہلا حق اس صوبے کا ہے جس میں گیس پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زائد بجلی بھی پیدا کر رہا ہے جو دیگر علاقوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اے جی این قاضی فارمولا کے تحت خیبرپختونخوا کو سالانہ 36 ارب جبکہ پنجاب کو 65 ارب روپے دیے جا رہے ہیں جو کہ کھلی ناانصافی ہے۔ صوبائی وزیر برائے بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی ، معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان ، پشاور سے منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ، محکمہ بلدیات اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
