جماعت اسلامی چترال لوئیر کے زیر اہتمام کرپشن اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی جلسہ، پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام جمعہ کی نماز کے بعد اتالیق چوک پر ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں مقررین نے ترقیاتی فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد پر پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔جلسے سے صوبائی نائب امیر مغفرت شاہ، ضلعی امیر وجیہہ الدین، سینئر رہنما شجاع الحق، عبدالحق اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور سرکاری محکموں (سی اینڈ ڈبلیو، لوکل گورنمنٹ، ٹی ایم اے اور ایریگیشن) کے کرپٹ افسران کے گٹھ جوڑ اور عوامی فنڈز میں خیانت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا صرف 20 فیصد حصہ زمین پر استعمال ہوا جبکہ باقی 80 فیصد رقم مبینہ طور پر ہڑپ کر لی گئی۔ اس موقع پر جماعتِ اسلامی نے باقاعدہ طور پر ‘کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ’ تحریک کو مزید منظم کرنے اورعوامی خزانے کے چوروں کو معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہاکہ مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے کسی بھی حد تک احتجاج کیا جائے گا۔مقررین کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کا دورِ اقتدار ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک رہا ہے،
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ جماعت کے خلاف کرپشن کا ایک بھی ثبوت پیش کر کے دکھائیں۔ جلسے میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فنڈز کی خرد برد کی تحقیقات فوری مکمل کر کے رپورٹ عوام کے سامنے لائیں۔جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا اور الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ارندو کے جنگلات سے 25 ہزار مکعب فٹ دیودار کی غیر قانونی کٹائی کرنے والے ٹمبر مافیا کی پشت پناہی کی ہے۔جلسے میں صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے خلاف نعرے لگائے جاتے رہے۔ اے این پی کے صدر الحاج عیدالحسین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر ملک میں مہنگائی وگرانی کی نئی لہر پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔


