بیرون ممالک پا کستا نیوں کے لئے وفاقی محتسب کی خد مات – میری بات/روہیل اکبر
.
ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک مقیم پا کستا نی، وطن عز یز کا قیمتی سر ما یہ ہیں، ان کی طر ف سے ہر سال اربوں ڈالر کی تر سیل پا کستان کی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے اداروں سے شکایت ہی رہتی ہے کبھی انکی جائیدادوں پر قبضے کرلیے جاتے ہیں تو کبھی اداروں میں بیٹھے ہوئے کرپٹ افسران اپنی نااہلیوں کے باعث انہیں پریشان کرتے رہتے ہیں بیرون ممالک مقیم پاکستانی ملک کا قابل فخر اثاثہ ہیں جنکی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی محتسب نے ان کے مسا ئل اور شکا یات کو تر جیحی بنیا دوں پر جلد از جلد حل کر نے کے لئے ”کمشنر شکا یات برا ئے اوورسیز پا کستا نیز“(Grievance Commissioner for Overseas Pakistanis) کے نا م سے ایک الگ دفتر بنا دیا ہے جس کی نگرا نی خود وفاقی محتسب کر تے ہیں نئے وفاقی محتسب جناب نو ید کامران بلو چ نے ما رچ2026ء میں چا رج سنبھا لتے ہی دیگر شعبوں کے سا تھ ساتھ وفاقی محتسب میں قا ئم ”اوورسیز ونگ“ پر خصوصی توجہ دی
پاکستان میں جہاں سرکاری اداروں سے متعلق عوامی شکایات ایک مستقل مسئلہ رہی ہیں وہیں وفاقی محتسب کا ادارہ عام آدمی کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا ہے یہ وہ ادارہ ہے جو شہریوں کو سرکاری محکموں کی ناانصافی، تاخیر اور بدانتظامی کے خلاف فوری داد رسی فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کی مضبوطی میں کئی شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، جن میں سابق وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جبکہ موجودہ وفاقی محتسب کامران مرتضیٰ بلوچ اسی روایت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اعجاز احمد قریشی نے اپنے دورِ ذمہ داری میں وفاقی محتسب کے ادارے کو عوام دوست بنانے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں ان کی قیادت میں ادارے نے نہ صرف شکایات کے ازالے کی رفتار میں اضافہ کیا بلکہ انصاف کی فراہمی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش بھی کی.
انہوں نے اس امر کو یقینی بنایا کہ دور دراز علاقوں کے شہری بھی بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات درج کرا سکیں ان کے دور کا سب سے بڑا کارنامہ ادارے میں شفافیت، تیز تر فیصلہ سازی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا تھا آن لائن شکایات کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا جس سے ہزاروں شہریوں کو گھر بیٹھے انصاف حاصل کرنے کی سہولت ملی اعجاز قریشی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ وفاقی محتسب کا دفتر صرف ایک انتظامی ادارہ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے انہوں نے متعدد ایسے فیصلے دیے جنہوں نے سرکاری محکموں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور کیا ان کی سوچ یہ تھی کہ شکایت کے ازالے کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب کو بھی ختم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل دوبارہ جنم نہ لیں یہی وژن انہیں ایک مؤثر منتظم اور عوام دوست شخصیت کے طور پر ممتاز کرتا ہے اب موجودہ وفاقی محتسب کامران بلوچ اسی ادارے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے عزائم واضح طور پر ادارے کو مزید فعال، جدید اور عوام کے قریب لانے کی جانب مرکوز ہیں ان کی قیادت میں ادارے کی توجہ ڈیجیٹلائزیشن، فوری رسائی اور پسماندہ علاقوں تک خدمات کی توسیع پر مرکوز ہے۔کامران بلوچ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بدلتے ہوئے دور میں انصاف کی فراہمی کے لیے صرف روایتی طریقہ کار کافی نہیں اسی لیے وہ جدید ٹیکنالوجی، ای-گورننس اور فوری فیصلہ سازی کے نظام کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں ان کا عزم ہے کہ وفاقی محتسب کو ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں ہر شہری بلا تفریق اپنی آواز سنا سکے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاقی محتسب کا ادارہ مسلسل ارتقا کے سفر پر گامزن ہے۔ اعجاز قریشی نے جس بنیاد کو مضبوط کیا کامران بلوچ اسے مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو یقیناً یہ ادارہ پاکستان میں گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی خدمت کی ایک مثالی علامت بن سکتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اس ادارے سے بھرپور استفادہ کریں اور سرکاری ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں کیونکہ مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی ضمانت ہوتے ہیں اور وفاقی محتسب اسی مضبوطی کی ایک روشن مثال ہے اگر دیکھا جائے تو ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک مقیم پا کستا نی، وطن عز یز کا قیمتی سر ما یہ ہیں ان کی طر ف سے ہر سال اربوں ڈالر کی تر سیل پا کستان کی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتی ہے چنا نچہ ا ندرون ملک اور بیرون ملک ان کے مسا ئل اور شکا یات کو تر جیحی بنیا دوں پر جلد از جلد حل کر نے کے لئے شکا یات کمشنر برا ئے اوورسیز پا کستا نیز کا دفتر، بیرونی مما لک میں قا ئم پا کستا نی سفا رتخا نوں اور پا کستان کے تمام بین الاقوامی ہوا ئی اڈوں پر قا ئم کئے گئے ”یکجا سہو لیا تی ڈیسکوں“One Window Facilitation Desks) (کے ذریعے بھی اوورسیز پا کستا نیوں کی خد مت میں مصر وف ہے جہاں بیرون ملک مقیم پاکستا نی اپنی شکا یات سا دہ کا غذ پر اردویا انگر یز ی میں لکھ کر ای میل، وٹس ایپ یا ڈاک کے ذریعے برا ہ راست بھی ”شکا یات کمشنر“ کو ارسال کر سکتے ہیں جن پر 24 گھنٹوں کے اندر اندر متعلقہ محکموں کے تو سط سے مسئلے کے تد راک کے لئے کا رروائی شر وع کر کے شکا یت کنند ہ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جا تا ہے.
اس محکمہ میں بیٹھے ہوئے ذمہ داروں کی کوشش ہوتی ہے کہ NICOP,POC، پا سپورٹ کی تجد ید، نئے پا سپورٹ کے اجرا ء یا اسی نو عیت کی دیگر عمو می شکا یا ت کا ابتدا ئی سطح پر ہی بیس پچیس دنوں میں ازالہ ہو جا ئے، جب کہ ایسی شکا یات جن میں ایک سے زیا دہ محکمے ملوث ہوں ان کا فیصلہ بھی زیا دہ سے زیا دہ 60 دنوں میں کر دیا جاتا ہے اور ضرورت پڑ نے پر وٹس ایپ یا وڈیو کال کے ذریعے شکا یت کنند ہ کا نقطہ ء نظر/ مو قف بھی حا صل کر لیا جا تا ہے مختصر یہ کہ وفاقی محتسب کا سہو لیا تی کمشنر آفس اپنے قیام سے لے کر اب تک پو ری تن دہی کے ساتھ اوورسیز پا کستا نیوں کی خد مت میں مصروف ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دائر ہ کار میں وسعت لا ئی جا رہی ہے جس کا اندا زہ اس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ سا ل 2025ء میں اس دفتر کی طر ف سے مجمو عی طو ر پر 135,559 اوورسیز پا کستا نیوں کی شکا یات کا ازالہ کیا گیا، انہیں سہو لیا ت فرا ہم کی گئیں اور ان کے مسا ئل حل کئے گئے۔
