اپرچترال میں 54.493ملین روپے کی لاگت سے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ، بونی میں موزوں عمارت کی نشاندہی کے لئے ٹیکنیکل ٹیم جلد ضلعے کا دورہ کرے گی
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی نے جمعرات کے روز اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے قیام سے متعلق پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ایڈیشنل سیکرٹری حضرت علی ڈائریکٹر انفارمیشن ابن امین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زر علی خان ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن نظام الدین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زرولی زاہد اور سینئر پلاننگ آفیسر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سمیت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ نے صوبے میں قائم ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی اہمیت اور افادیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنزدور دراز اور پسماندہ علاقوں میں معلومات کی بروقت فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال ایک دور افتادہ اور نو قائم شدہ ضلع ہے، جہاں ہنگامی حالات, موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر اہم امور پر عوامی آگاہی کے ساتھ ثقافت کی عکاسی اور مقامی زبانوں کی ترویج کے لیے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا قیام نہایت ضروری ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن 54.493ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا جائے گا جسے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں موزوں عمارت کی نشاندہی کے لئے ٹیکنیکل ٹیم جلد ضلعے کا دورہ کرے گی۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز کی فراہمی اور مناسب عمارت کی دستیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے موزوں مقام کے تعین کی غرض سے ایک سروے ٹیم فوری طور پر تشکیل دے کر اپر چترال بھیجی جائے اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں موزوں جگہ کے حصول کے لئے عملی پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے پر جلد از جلد عملی کام کا آغاز کیا جائے اور تمام بھرتیوں کا عمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو بروقت، مستند اور مؤثر اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

