یکم مئی کی ڈیڈلائن: امریکہ، ایران تنازعہ اور ایک نئی عالمی معاشی جنگ کا آغاز – تحریر: قادر خان یوسف زئی
.
واشنگٹن کے ایوانوں میں اس وقت وقت کی سوئی ایک ٹائم بم کی طرح ٹک ٹک کر رہی ہے۔ 1973 کی وار پاورز ریزولوشن کے تحت یکم مئی کی حتمی تاریخ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے محض کیلنڈر کا ایک ہندسہ نہیں، بلکہ ایک ایسی قانونی دیوار ہے جسے عبور کرنا سیاسی طور پر انتہائی کٹھن ہو چکا ہے۔ فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف شروع ہونے والا ’آپریشن ایپک فیوری‘ اب اپنے خدوخال مکمل طور پر تبدیل کر چکا ہے۔ فضائی حملوں کی گرج تو تھم گئی ہے، لیکن اس کی جگہ آبنائے ہرمز پر ایک ایسی آہنی بحری ناکہ بندی نے لے لی ہے جس نے پورے خطے کا سانس روک رکھا ہے۔ یہ اب کوئی روایتی فوجی تصادم نہیں رہا، بلکہ سفارتی اور معاشی محاذ پر لڑی جانے والی ایک اعصاب شکن جنگ بن چکا ہے، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
امریکی سیکرٹری آف وار پیٹ ہیگسیٹھ نے حال ہی میں کانگریس کے روبرو اس نازک صورتحال کو ایک عظیم سٹریٹجک فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن زمینی حقائق اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں۔ پچیس ارب ڈالر کے خطیر اخراجات کے بعد امریکی قانون سازوں، بالخصوص ڈیموکریٹک نمائندہ میڈلین ڈین کی جانب سے اسے صریحاً ’اپنی مرضی کی جنگ‘ قرار دیا جانا اس گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے جو اس وقت امریکی سیاست میں پائی جاتی ہے۔ وائٹ ہاؤس بخوبی جانتا ہے کہ منقسم کانگریس سے باقاعدہ اعلان جنگ یا طاقت کے استعمال کا نیا اختیار حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ قانون سازوں کی جانب سے کسی نئی مہم جوئی کی منظوری کے امکانات معدوم ہونے کے بعد، اب امریکی انتظامیہ کا سارا زور قانونی شگاف تلاش کرنے پر لگایا جا رہا ہے تاکہ کانگریس کو بائی پاس کیا جا سکے۔
یکم مئی کی ڈیڈلائن کے بعد اپنی افواج کو پیچھے ہٹانے کی سیاسی ہزیمت سے بچنے کے لیے امریکی اربابِ اختیار اس بحری ناکہ بندی کو ’فعال جنگی کارروائیوں‘ کی کلاسک تعریف سے باہر رکھنے کی تاویلیں گھڑ رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی ہدف تہران کو اس حد تک معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک کر ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہو جائے۔ سفارت کاری اور قومی سلامتی کی آڑ میں یہ دراصل ایک ایسا جیو پولیٹیکل کھیل ہے جس میں معیشت کو کھلے عام جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ وہ بغیر کوئی گولی چلائے محض بین الاقوامی تجارتی راستوں کی ناکہ بندی سے اپنا ہدف حاصل کر لے گا، لیکن کسی ملک کی معاشی شہ رگ کاٹنے کا یہ کھیل ایک ایسا خطرناک جوا ہے جس کی براہ راست قیمت اس وقت پوری دنیا کو چکانا پڑ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں سمندری راستے سے ترسیل ہونے والے تیل اور ایل این جی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں اس وقت خوف و ہراس کا راج ہے اور توانائی کی قیمتیں قابو سے باہر ہو چکی ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں روایتی میدانِ جنگ سے زیادہ معاشی محاصرے انسانیت اور عالمی ترقی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے عالمی معاشی بحران کو جنم دے رہی ہے جو مہنگائی کے ایک نئے اور ہولناک طوفان، سپلائی چین کی مکمل تباہی اور ترقی پذیر معیشتوں کی بربادی کا سبب بنے گا۔ وہ ممالک جو پہلے ہی عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں اور افراط زر کے بوجھ تلے دبے ہیں، ان کے لیے توانائی کی قیمتوں میں یہ ہوشربا اضافہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوگا۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے خلیجی اتحادی ممالک اس صورتحال کو انتہائی تشویش اور بے بسی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کے پرتشدد پانیوں میں ہونے والی کوئی بھی معمولی سی غلط فہمی یا چنگاری خطے میں پراکسی جنگوں کی آگ کو بھڑکا سکتی ہے اور لبنان میں ہونے والی حالیہ اور کمزور جنگ بندی کو لمحوں میں خاکستر کر سکتی ہے۔ یہ ممالک امریکی سیکیورٹی چھتری پر انحصار تو کرتے ہیں لیکن وہ کسی ایسی طویل اور بے مقصد جنگ کا حصہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے جو ان کی اپنی معیشتوں اور انفراسٹرکچر کو کھا جائے۔ ایران کا ردعمل اگرچہ اب تک ایک محتاط جوابی حکمت عملی تک محدود رہا ہے، لیکن معاشی گھٹن حد سے بڑھنے کی صورت میں وہ کسی بھی وقت غیر متوقع جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جو خطے کے امن کو مزید سنگین خطرات سے دوچار کر دے گا۔
اس عالمی بحران میں بڑی طاقتیں بھی محض خاموش تماشائی نہیں رہیں۔ بین الاقوامی بساط پر روس اور چین اس امریکی اقدام اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ صدر ولادیمیر پیوٹن کا حالیہ سخت انتباہ اور خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی بے چینی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی یکطرفہ اقدامات کو اب عالمی سطح پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ چین، جو کہ مشرق وسطیٰ کے تیل کا ایک بہت بڑا اور مستقل خریدار ہے، اپنی توانائی کی سپلائی لائن میں اس طویل اور مصنوعی خلل کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گا۔ روس اور چین کا یہ مشترکہ موقف دراصل ایک ایسے نئے عالمی نظام کی طرف اشارہ کر رہا ہے جہاں امریکی تسلط کو کھلم کھلا چیلنج کیا جا رہا ہے اور یک قطبی دنیا کے بجائے ایک کثیرالقطبی نظام کی بازگشت تیزی سے سنائی دے رہی ہے۔
جوں جوں یکم مئی کا دن قریب آ رہا ہے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ یہ حتمی تاریخ کسی امن کا پیامبر نہیں، بلکہ ایک ایسے طویل، تکلیف دہ اور پیچیدہ دور کا نکتہ آغاز ہے جہاں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ خطرناک معاشی محاصرہ دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ امریکی انتظامیہ اپنے داخلی سیاسی دباؤ اور قانونی پابندیوں سے بچنے کے لیے جس خطرناک راہ پر چل نکلی ہے، وہ عالمی قواعد پر مبنی نظام کی ساکھ کو بری طرح مجروح کر رہی ہے۔ جب طاقتور ترین ممالک خود ہی اپنے بنائے ہوئے بین الاقوامی قوانین، سمندری حدود کے احترام اور تجارتی آزادیوں کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا شروع کر دیں، تو دنیا ایک انارکی کی طرف دھکیلی جاتی ہے۔
دنیا اب محض دو ممالک کے درمیان ایک فوجی تنازعے کا سامنا نہیں کر رہی، بلکہ یہ ایک ایسی بساط ہے جہاں ہر مہرہ پوری دنیا کی بقا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک یوں ہی جاری رہی اور سفارتی راستے بند رہے، تو آنے والے مہینوں میں ہم ایک ایسے عالمی معاشی اور سٹریٹجک زلزلے کے چشم دید گواہ ہوں گے جس کے تباہ کن جھٹکے واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر بیجنگ کی تجارتی منڈیوں، اور یورپ سے لے کر افریقہ اور ایشیا کے غریب ترین ممالک تک محسوس کیے جائیں گے۔ یکم مئی محض ایک تاریخ نہیں رہی، یہ عالمی معیشت کے مستقبل کا وہ سنگِ میل ہے جو طے کرے گا کہ آنے والے دور میں دنیا ترقی کی طرف جائے گی یا مزید معاشی اور عسکری انتشار کی جانب۔
