۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2026-27سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون، مائنز و منرلز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے نئے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی ترقی، روزگار کے مواقع اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صحافیوں کی فلاح و خودمختاری کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا پروڈکشن اور براڈکاسٹنگ سیٹ اپ کے قیام کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی اسکیم تیار کی جائے تاکہ نوجوان صحافیوں کو خود روزگاری کے مواقع میسر آئیں اور وہ اپنے پلیٹ فارمز قائم کر سکیں۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے صحافی زیادہ بااختیار ہوں گے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض آزادانہ طور پر انجام دے سکیں گے۔ مزید برآں صحافیوں کے لیے میڈیا کالونیوں کے قیام اور ضم اضلاع میں پریس کلبوں کی بہتری کے لیے بھی جامع اسکیمیں تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ قانون و انصاف کے شعبے میں بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ نے تمام جوڈیشل کمپلیکسز میں ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کی ہدایت کی جبکہ پشاور میں جوڈیشل اکیڈمی اور باجوڑ و مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکسز کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ انہوں نے ورک پلیس پر ہراسانی کے قانون کو مزید سخت بنانے اور شکایات کے عمل کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کے لیے ضروری ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ محنت کشوں اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے چائلڈ لیبر کے خاتمے اور متاثرہ بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے موثر اسکیمیں تیار کرنے پر زور دیا۔ مائننگ کے شعبے میں ماحولیاتی بہتری کے لیے کان کنی والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی ہدایت دی گئی جبکہ ضم اضلاع میں مائنز ریسکیو، سیفٹی اور ٹریننگ سنٹرز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔
اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید تقاضوں کے مطابق ڈرون سنٹر آف ایکسیلنس، سائبر سیکیورٹی آپریشن سنٹر اور ضم اضلاع میں ڈیجیٹل سٹی کے قیام کی تجاویز پیش کی گئیں۔ مزید برآں ضم اضلاع کے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل انٹرنشپ پروگرام اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سنٹرز کے قیام پر غور کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر انہیں باعزت روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے جیولوجیکل میپنگ، پلیسر گولڈ ایکسپلوریشن اور کریٹیکل منرلز کی نشاندہی کے لیے انٹیگریٹڈ جیو سائنس سروے اور ڈیٹا ریپازیٹری کے قیام کی تجاویز بھی اجلاس میں زیر غور آئیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ان تمام منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ صوبے کے قدرتی وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
