خاندان، رشتہ داری کا پھیلا ہوا جال اور ریاست کا زوال – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان اس وقت ایک گہرے تضاد کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی، نوجوان آبادی کی بے پناہ توانائی، اور عالمی معیشت سے بڑھتا ہوا تعلق ہے؛ جبکہ دوسری طرف ایک ایسا سماجی ڈھانچہ ہے جو صدیوں سے قائم ہے اور اپنی گرفت ڈھیلی کرنے کو تیار نہیں۔ اس ڈھانچے کی سب سے نمایاں علامت قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کا غیر معمولی رجحان ہے۔ تحقیقی مطالعات بتاتے ہیں کہ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں فرسٹ اور سیکنڈ کزن کے درمیان شادیوں کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے، اور اندازاً دو تہائی شادیاں اسی دائرے میں انجام پاتی ہیں۔ دراصل، یہی حقیقت پاکستان کی ریاستی کمزوری کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتی ہے۔
یہ رجحان ایک ایسی پیچیدہ سماجی حقیقت ہے جو بیک وقت خاندان کی مضبوطی اور ریاستی زوال دونوں کی علامت ہے۔ یہ ایک طرف خاندان کی یکجہتی اور باہمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری طرف یہ ریاستی کمزوری، قانون کی حکمرانی کے بحران اور اجتماعی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کون سی خلا ہیں جو خاندان کو ریاست کا متبادل بننے پر مجبور کرتی ہیں۔
اس رجحان کو محض روایت یا ثقافت کے کھاتے میں ڈال دینا ایک سنگین فکری سہل انگاری ہوگی۔ درحقیقت یہ ایک گہرا سماجی و ساختیاتی مظہر ہے، جو ریاستی ناکامی، معاشی غیر یقینی اور سماجی تحفظ کے فقدان سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر معاشرے خاندانی دائرے سے باہر نکل کر ایسے سماجی نظام کی طرف بڑھ چکے ہیں جہاں شادی نئے روابط، مواقع اور اعتماد کے وسیع تر نیٹ ورکس پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں شادی اب بھی زیادہ تر ایک اندرونی اور دفاعی خاندانی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد وسائل کو محدود رکھنا، جائیداد کو خاندان کے اندر محفوظ رکھنا اور اعتماد کو ایک تنگ مگر مضبوط دائرے میں برقرار رکھنا ہے۔
اس معاشی و سماجی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے فریڈرک اینگلز کی 1884 میں شائع ہونے والی مشہور تصنیف ‘خاندان، نجی ملکیت اور ریاست کا آغاز’ ایک کلیدی فکری تناظر فراہم کرتی ہے۔ اینگلز کے مطابق، انسانی تاریخ میں خاندان کا موجودہ روایتی ڈھانچہ محض ایک حیاتیاتی حقیقت نہیں بلکہ یہ نجی ملکیت کے تحفظ کی ضرورت سے جنم لینے والا ایک معاشی ادارہ ہے۔ اینگلز کا یہ استدلال آج کے پاکستان پر بالکل صادق آتا ہے کہ جب جائیداد، زمین اور سرمایہ خاندان سے باہر جانے کا خطرہ ہو، تو شادی کا ادارہ محبت کے بجائے وراثت کے تحفظ کے ایک آلے میں بدل جاتا ہے۔ یہاں قریبی رشتہ داریوں میں شادی کا غیر معمولی رجحان دراصل اُس نجی ملکیت کے دفاعی میکانزم کا حصہ ہے، جہاں خاندان اپنی دولت اور وسائل کو باہر جانے سے روکنے کے لیے ایک بند حصار قائم کر لیتے ہیں۔
یہ رجحان غیر عقلی نہیں بلکہ اپنے سیاق و سباق میں مکمل طور پر معقول ہے۔ جہاں ریاست شہری کو تحفظ، انصاف اور معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو، وہاں خاندان خود بخود ایک متبادل غیر مرئی ریاست کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان کے وسیع دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ریاست اکثر ایک دور، کمزور اور ناقابلِ اعتبار ادارہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ خاندان ہی وہ واحد نظام رہ جاتا ہے جو فرد کو سہارا دیتا ہے، چاہے وہ مالی مدد و کفالت ہو، روزگار کا بندوبست، ذاتی تحفظ یا تنازعات کا حل۔ اسی لیے قریبی رشتہ داروں میں شادی صرف ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایک مضبوط حفاظتی حکمت عملی بن جاتی ہے۔
اس سماجی و سیاسی پہلو کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کا ایک اور سنگین پہلو طبی اور جینیاتی ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کزن میرج کی بلند شرح کا ایک ناگزیر نتیجہ موروثی امراض کے خطرات میں اضافہ ہے۔ طبی سائنس اور جینیات کے ماہرین بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کے نتیجے میں نسلی طور پر منتقل ہونے والے جینیاتی نقائص، ذہنی معذوریوں اور دیگر موروثی نقائص کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صرف انفرادی خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سطح کا بوجھ ہے؛ ایسے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے طبی نگہداشت، بحالی اور طویل مدتی دیکھ بھال کی ضرورت ریاست کے پہلے سے کمزور صحت کے نظام پر ایک اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔ یہ طبی پہلو دراصل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جس نظام کو ہم خاندانی تحفظ کا نام دیتے ہیں، وہ طویل المدت میں نسلوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر کے معاشرے کی اجتماعی قوت کو کھوکھلا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یوں یہ رجحان نہ صرف معاشی اور اخلاقی بلکہ حیاتیاتی اعتبار سے بھی قوم کی ترقی کی راہ میں ایک خاموش رکاوٹ ہے۔
تاہم، یہی حکمت عملی اجتماعی سطح پر ایک بنیادی تضاد کو جنم دیتی ہے۔ جب خاندان ہی فرد کے تحفظ کا بنیادی ذریعہ بن جائے تو ریاست کی قانونی بالادستی بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔ قانون اپنی روح کھو کر محض ایک رسمی ڈھانچہ رہ جاتا ہے، جبکہ عملی فیصلے خاندانی وفاداریوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کے عدالتی نظام میں گواہوں کا منحرف ہونا ایک دائمی مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ ایسے معاشرے میں کسی رشتہ دار کے خلاف گواہی دینا شہری ذمہ داری اور قانونی تقاضا نہیں بلکہ خاندان سے بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً سچ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے اور انصاف کاغذی کارروائی میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔
اکثر معاملہ صرف خاموشی تک محدود نہیں رہتا بلکہ مجرم کے فعال تحفظ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ طاقتور خاندانی نیٹ ورکس افراد کو قانون کے شکنجے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ کسی ایک فرد کا جرم پورے نیٹ ورک کا معاملہ بن جاتا ہے، جہاں سیاسی اثر و رسوخ، سماجی دباؤ اور بعض اوقات طاقت کے استعمال سے قانون کو غیر مؤثر بنا دیا جاتا ہے۔ یوں جرائم ریاستی دائرہ اختیار سے نکل کر خاندانی یا قبائلی تصفیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جہاں جرگہ یا پنچایت جیسے غیر رسمی ادارے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ان فیصلوں میں قانون کے بجائے طاقت، روایت اور مفاد غالب رہتے ہیں، جس سے نہ صرف انصاف مجروح ہوتا ہے بلکہ عوام کی نظر میں ریاستی اداروں کی ساکھ بھی مزید کمزور پڑ جاتی ہے۔
اینگلز کا ایک اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریاست کا وجود تاریخی طور پر خاندان اور قبیلےکے نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ لینے کے لیے ہوا تھا، تاکہ قانون کی حکمرانی اور نجی ملکیت کا تحفظ کیا جا سکے۔ تاہم پاکستان میں ایک الٹی تاریخ لکھی جا رہی ہے؛ یہاں ریاست کا ادارہ اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ اب خاندان کے متبادل کے طور پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ یہ کہ ریاست خود پسپا ہو رہی ہے اور خاندان و قبیلہ دوبارہ سے وہ فرائض (جیسے انصاف، تحفظ اور وسائل کی تقسیم) سنبھال رہے ہیں جن کے لیے ریاست بنائی گئی تھی۔ اینگلز کے نظریے سے دیکھیں تو یہ ریاست کا نہیں، بلکہ سماجی نظام کے پرانے دور کی طرف واپسی کا اشارہ ہے، جو جدید جمہوری ریاست کی روح کے منافی ہے۔
اسی خاندانی منطق کا تسلسل ہمیں سیاست میں بھی نظر آتا ہے، جہاں اقتدار اکثر ایک خاندانی وراثت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جب اعتماد کا دائرہ خاندان تک محدود ہو تو قیادت بھی اسی دائرے میں گردش کرتی ہے۔ نتیجتاً جمہوریت ایک وسیع عوامی عمل کے بجائے چند خاندانوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی تک محدود ہو جاتی ہے، جہاں میرٹ، صلاحیت اور نئی قیادت کے لیے جگہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔
خاندانی منطق کا ایک اور واضح اظہار ریاستی ڈھانچوں کے اندر بڑھتی ہوئی اقربا پروری کے رجحان میں نظر آتا ہے۔ سرکاری بھرتیوں میں میرٹ کی بجائے تعلقات، سفارش اور خاندانی وابستگی کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ٹھیکوں کی تقسیم بھی اکثر شفاف مسابقت کے بجائے محدود نیٹ ورکس کے اندر ہی طے پاتی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف قابل اور باصلاحیت افراد نظام سے باہر ہو جاتے ہیں بلکہ ریاستی وسائل کی تقسیم بھی غیر مؤثر اور غیر منصفانہ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے اور گورننس کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑتا ہے، کیونکہ ادارے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے وفاداری کے اصول پر چلنے لگتے ہیں۔ یوں اقربا پروری صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ یہ ریاستی کارکردگی، عوامی اعتماد اور طویل مدتی ترقی کے لیے ایک بنیادی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
یہ سارا عمل خود کو تقویت دینے والے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں بدل چکا ہے۔ کمزور ریاست فرد کے خاندان پر انحصار کو بڑھاتی ہے، خاندان پر انحصار قریبی رشتہ داری کی شادیوں کو مضبوط کرتا ہے، اور یہ نظام ایک ایسا سماجی ڈھانچہ پیدا کرتا ہے جو ریاست کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ ایک بند دائرے میں قید ہو جاتا ہے جہاں ہر حل خود ایک نئے مسئلے کو جنم دیتا ہے۔ تاہم، اس رجحان کو محض اخلاقی زوال یا پسماندگی کے زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسے ماحول کا منطقی ردِعمل ہے جہاں ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جب فرد کو اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریاست پر اعتماد نہ ہو، تو وہ لازماً اپنے خاندان کی طرف رجوع کرے گا، اور جب خاندان ہی سب کچھ ہو، تو اس کی مضبوطی کو یقینی بنانا ایک فطری ترجیح بن جاتی ہے۔
اسی لیے اس مسئلے کا حل کسی سادہ قانونی مداخلت یا پابندی میں نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹے ہوئے معاہدے کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔ ایک قابلِ اعتماد، غیر جانبدار اور مؤثر نظامِ انصاف اس عمل کی بنیاد ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں گے کہ ریاست واقعی ان کی حفاظت اور انصاف کی ضامن ہے، تو خاندانی نیٹ ورکس کی بطور متبادل ریاست اہمیت خود بخود کم ہونے لگے گی۔ اس کے ساتھ تعلیم، خصوصاً خواتین کی تعلیم، اور معاشی ترقی کے مواقع کی فراہمی ایسے عوامل ہیں جو افراد کو خاندانی دائرے سے باہر نکل کر وسیع تر سماجی روابط قائم کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ ریاست کو ایسے ادارے اور پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی جو معاشرے کو محض اندرونی حلقوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے کھلے، متنوع اور قومی و عالمی نیٹ ورکس کی طرف لے جائیں۔
جب تک ریاست خود کو ایک منصف، غیر جانبدار اور مضبوط ادارے کے طور پر منوانے میں کامیاب نہیں ہوتی، تب تک خاندان ہی پاکستان کروڑوں شہریوں کے لیے واحد غیر مرئی ریاست اور پناہ گاہ بنا رہے گا۔ ایسے میں قانون کی حکمرانی محض کتابوں میں درج ایک خوبصورت مگر بے اثر وعدہ رہے گی؛ ایک ایسا وعدہ جو ہر اُس لمحے دم توڑ دیتا ہے جب انصاف کے ترازو میں رشتہ داری کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔ حتمی سچ یہی ہے کہ جس معاشرے میں انصاف کا پیمانہ رشتہ داری ہو، وہاں ریاست کی عمارت کبھی کھڑی نہیں ہو سکتی؛ وہاں صرف طاقتور خاندانوں کا راج قائم ہوتا ہے۔۔۔
