امتحانی نقل کا عارضہ – تحریر:اقبال حیات اف برغذی
.
حالیہ دنوں میں امتحانات کے دوران نقل کرنے اور کروانے اور پرچے اوٹ ہونے کیواقعات کے تذکرے حکومتی سطح پر ہورہے ہیں۔جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مثبت فکروخیال اور طرز عمل کے آئینہ دار ہیں۔کیونکہ یہ وہ عوامل ہیں جن سے حصول علم کے تصور کا دامن داغدار ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ نقل علمی نشونما کیلئے زہر قاتل کے مصداق ہے۔
درحقیقت نقل کے عارضہ کے انسانی تاریخ میں کوئی آثار نہیں ملتے۔ چونکہ انسان علم کی وساطت سے ہر قسم کے امراض کیلئیمداوا تلاش کرکیآیا ہے۔ اور اب جب کہ ہم نے خود علم کو ہی نقل کے عارضے میں مبتلا کردی ہے تو اس کے ہر قسم کے منفی اثرات سے بچنے کا کوئی شائبہ تک نہیں رہتا۔ اس مرض کی تاریخ گزشتہ صدی کے وسطی مدت سے شروع ہوتی ہے۔جس کے لاحق ہونے کے بعد نوجوان نسل میں حصول علم سے گریزان ہونے کے آثار نمایان ہونے شروع ہوئے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس زہر کے حصول کے لئے تگ ودو کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔اور یوں یہ ایک منفعت بخش کاروبار کے رنگ میں ڈھل گیا۔ اور اس کا روبار کو وسعت دینے میں وہ افراد پیش پیش رہے جو اس مرض کے سدباب کی ذمہ داریوں پر مامور کئے جاتے ہیں اور یوں رفتہ رفتہ یہ معاملہ علم کے اسناد کی بکاو کے رنگ میں ڈھل گیا۔ جس کے مداوے کی حقیقی صورت نظر نہیں آتی۔
ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ ہم علم کو اپنی میراث تصور کرتے ہوئے اس کے حصول کی خاطر محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق چین تک پیدل جانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ مگر آج علم خود نوجوان نسل کی ذہین کے نہاں خانوں میں جھانکنے کے باوجود وہ اسے اپنانے کیلئے دریچے کھولنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور ناجائز ذرائع سے کاغذ کے پھولوں کی مانند علم کی مہک سے عاری اسناد ہاتھوں میں لئے قومی زندگی کے دھارے پر خونِ فاسدِ کی مانند دوڑتا ہوا نظرآرہا ہے۔
ہماری بدبختی اُس روز سے شروع ہوئی جب سے ہم میں علم کے آفاتی اور عالمگیر مقاصد کو ذریعہ معاش کے روپ میں دھارنے کی سوچ نے جنم لیا۔ اور ہم نے علم کے عمیق سمندر میں غوطے لگا کر اس کی تہہ سے موتی چننے کی عادت ترک کرکے ساحل میں پھیر کر سیپوں پر اکتفا کرنے کی عادت خود میں پیدا کی۔ اور یوں علم کے فیوض سے مستفید ہونے سے محرومی کے مہیب سائے قومی زندگی پر چھا نا شروع ہوگئے۔اور یہ ایک ایسے المیے کی صورت اختیار کرگئی ہے کہ اب وقت ہمیں آواز دے رہا ہے کہ ہم قوم کے مستقبل کو جہالت کی تاریکیوں سے نجات دلانے اور نقل کے زہریلے اثرات سے نوجوان نسل کے ازہان کو پاک کرنے کے لئے جہاد کے جذبے سے سرگرم عمل ہوجائیں تاکہ مستقبل میں ہم قومی تباہی کے مجرم کے الزام سے محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ قرآن مجید فرقان حمید کا فیصلہ ہے کہ ہر قوم کے لئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم نہیں ہوتی۔
