اسٹیج اور ایوان کے درمیان؛ خیبر پختونخوا اسمبلی کا بحران ۔ تحریر: قریش خٹک
۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا 22 اپریل 2026 کو ارباب نیاز اسٹیڈیم (موجودہ عمران خان اسٹیڈیم) میں منعقدہ اجلاس کسی سنجیدہ پارلیمانی کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی تماشا تھا۔ ایک ایسا تماشا جو دانستہ طور پر عوامی توجہ حاصل کرنے اور سیاسی آپٹکس بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک واضح سیاسی حکمتِ عملی تھی، جس کے ذریعے مقننہ کو احتساب اور قانون سازی کے بجائے نمائشی سیاست کا ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔
ایک جمہوری ریاست میں اسمبلیاں اسٹیڈیموں میں نہیں چلائی جاتیں۔ مقننہ کا کام شور مچانا نہیں بلکہ قانون سازی کرنا، حکومت کو جواب دہ ٹھہرانا اور عوامی وسائل کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ مگر جب ایک صوبائی اسمبلی ایوانِ اقتدار چھوڑ کر اسٹیڈیم کا رخ کرے، تو یہ عوام سے قربت کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ایک کمزور کوشش ہوتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کس قیمت پر ہو رہا ہے؟ اور جواب نہایت تلخ ہے: ایک مقروض، کمزور اور مالی بحران زدہ صوبے کے وسائل پر۔ امسال خیبر پختونخوا اسمبلی کا بجٹ 4.27 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 3.006 ارب روپے تھا۔ یعنی مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات، لیکن کارکردگی جمود کا شکار ہے۔ عملے کی تعداد میں بھی کھلا تضاد موجود ہے: 804 افراد ویب سائٹ پر اور 713 بجٹ دستاویزات میں درج ہیں۔ اگر ایک ادارہ اپنے بنیادی ڈیٹا تک میں یکسانیت برقرار نہ رکھ سکے تو اس کی مالی دیانت داری پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
یہ صرف اسمبلی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے کی معاشی تباہ حالی کا عکس ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا کا عوامی قرض 809.742 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ صرف سود کی مد میں سالانہ 48.3 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ یعنی ماہانہ اربوں روپے صرف غلط سیاسی پالیسیوں کی قیمت ادا کرنے میں لگ رہے ہیں۔ ایسے میں اسمبلی کا اپنے ہی بجٹ کو بڑھاتے جانا کسی بھی ذمہ دار ادارے کے لیے قابلِ دفاع نہیں، بلکہ یہ مالی اور انتظامی بے حسی کی انتہا ہے۔
قانون سازی کے میدان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔ 57 نشستیں، ایک سال سے زائد کا عرصہ، اور نتیجہ: بجٹ سمیت صرف 6 قوانین اور چند ترمیمی کارروائیاں۔ یہ کوئی فعال پارلیمان نہیں بلکہ ایک سست، غیر مؤثر اور تقریباً غیر متعلق ادارہ ہے۔ جب ایک اسمبلی پورے سال میں چند دن ہی بیٹھے اور اس کے باوجود خود کو عوامی نمائندہ ادارہ کہے، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ اس کی نقل ہے۔ ارباب نیاز اسٹیڈیم کا اجلاس اسی نقل کا تازہ مظاہرہ تھا۔ اس نے نہ کوئی قانون بدلا، نہ کوئی مسئلہ حل کیا، نہ کوئی اصلاح متعارف کروائی۔ اس نے صرف کیمرے کے سامنے چند تقاریر تخلیق کیں اور بس۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایوان کی قیادت نے حکمرانی کے بجائے سیاسی شو بازی کو ترجیح دے رکھی ہے۔
اگر کسی بھی جمہوری نظام میں اصل احتساب تلاش کرنا ہو تو وہ کمیٹیوں میں ملتا ہے۔ مگر خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عملی طور پر مفلوج ہے۔ یہ کمیٹی سال میں بس ایک دو نمائشی اجلاس کرتی ہے۔ 2017 کے بعد سے اس کی سالانہ رپورٹس تک غائب ہیں۔ یہ کوئی معمولی کوتاہی نہیں بلکہ صوبے میں پارلیمانی نگرانی کے نظام کا مکمل انہدام ہے۔ جب نگران ادارہ ہی غیر فعال ہو جائے تو بدعنوانی کو روکنے والا کوئی نظام باقی نہیں رہتا۔ نگرانی کے اس خلا نے احتساب کے پورے ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ یہی خلا درحقیقت کرپشن کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے، جو بدقسمتی سے صوبے کو مسلسل اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جس کے شواہد صوبائی اداروں کی آڈٹ رپورٹس اور سرکاری افسران کے نیشنل احتساب بیورو کے ساتھ ہونے والے حالیہ پلی بارگینز میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا اسپیکر کے سپرد ہونا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کے عالمی اصولوں کے برعکس، یہ انتظام مفادات کے ٹکراؤ کی صورت پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ایوان کی انتظامی اور سیاسی قیادت کا ذمہ دار ہو، اسی کو مالیاتی احتساب کا نگران بنا دینا شفافیت کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پارلیمانی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی اور متنازع مثال ہے، جس کے تباہ کن نتائج کمیٹی کی غیر فعالیت، احتساب کے عملاً خاتمے اور نگرانی کے پورے نظام کے مفلوج ہو جانے کی صورت میں اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔
اسمبلی کی باقی 37 کمیٹیاں بھی محض کاغذی حیثیت رکھتی ہیں، جن کا عملی کام اور اجلاسوں سے متعلق شفافیت تقریباً ناپید ہے۔ یہ صورتحال مقننہ کو ایک ایسے بند سیاسی کلب میں تبدیل کر دیتی ہے جہاں عوامی مفاد اور احتساب کے تقاضے ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مزید برآں، بزنس ایڈوائزری، فنانس اور جوڈیشل کمیٹیوں جیسے کلیدی اداروں کی تشکیل میں مسلسل ناکامی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اسمبلی کا ادارہ جاتی ڈھانچہ شدید بحران اور کمزوری کا شکار ہے۔ جب اہم ترین پارلیمانی کمیٹیاں ہی موجود نہ ہوں تو اسمبلی کسی آئینی اور اصولی فریم ورک کے بجائے محض اسپیکر کے صوابدیدی فیصلوں کے تابع رہ جاتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی بے سمتی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی مقننہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بتدریج دور ہو کر ایک محدود اور شخصی کنٹرول کے دائرے میں سمٹ چکی ہے، جہاں عوامی نگرانی کے دروازے عملاً بند ہو چکے ہیں۔
انتظامی ڈھانچے کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سیکرٹری اسمبلی کا عہدہ 2013 سے مسلسل سیاسی تنازعات اور عدالتی فیصلوں کا شکار ہے۔ ایک شخص آتا ہے، عدالت اسے ہٹاتی ہے، دوسرا آتا ہے، پھر فیصلہ بدل جاتا ہے۔ یہ ریاستی نظم نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی مذاق ہے جو گہرےانتطامی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اصل مسئلہ واضح ہے کہ اسمبلی میرٹ کے بجائے وفاداری، اقربا پروری اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہے۔ جب ادارے بھرتی بیورو بن جائیں تو پھر ان کی ساکھ باقی نہیں رہتی، صرف ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے۔
آج خیبر پختونخوا اسمبلی ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو یہ واقعی ایک قانون ساز ادارہ بنے، یا پھر اسی طرح نمائشی سیاست کا اسٹیج بنی رہے۔ موجودہ صورتحال میں حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی روح اور کردار کھوتی جا رہی ہے۔ یہ ادارہ عوامی نمائندگی کے بجائے سیاسی ڈرامے کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اور جب پارلیمان خود ڈرامہ بن جائے تو پھر جمہوریت صرف ایک لفظ رہ جاتی ہے، اور پورا نظام اپنی معنویت کھو دیتا ہے

