آشاجی ایک جہد مسلسل – تحریر: ظہیر الدین
.
امریکہ اوراسرائیل کی ایران کے خلاف ننگی جارحیت، ابنائے ہرمز کی بندش اور اسلام آباد ٹاکس، ان سب نے برصغیر پاک وہند کی اس عظیم گلوکارہ آشابھوسلے کی موت پر ماتم کی شدت کو دھیما کرکے رکھ دیا جوآٹھ عشروں تک کروڑوں لوگوں کے کانوں میں رس گھولنے کے بعد گزشتہ اتوار12۔اپریل کو اپنی بڑی بہن لتامنگیشکر کے پاس پہنچ گئی تھی۔ جس وقت برصغیر کو اپنی ایک صدی کی سب سے بڑی آواز کے بچھڑنے پر سوگوار ہونا چاہیے تھا، اس وقت خطہ عالمی جنگ کے مہیب سائے نے آشا جی کے جانے کے صدمے کو شہ سرخیوں سے پیچھے دھکیل دی۔
شہرہ آفاق گانا ‘پردے میں رہنے دو، پردے نہ اٹھاؤ ‘میں آواز کی جادوگری کے ذریعے شہرت پانے والی آشا بھوسلے کے لئے زندگی میں شہرت کا ہمالیہ عبور کرنا کبھی آسان نہیں رہا کیونکہ ان کے سامنے قانون فطرت کے مطابق ان کی بڑی بہن لتا منگیشکرسب سے بڑی رکاوٹ تھی جوکہ چنار کے قدآور درخت کی مانند تھی جس کے نیچے چھوٹے پودوں کی افزئش بہت ہی متاثر ہوتی ہے۔ دو بہنوں کے درمیان مسابقت پورا عمر جاری رہا یہاں تک کہ جینے کے معاملے میں ان کامقابلہ رہا جب دونوں بہنیں 92سال کی عمر پائی۔ لتامنگیشکر سے چار سال بعد 1933ء میں پیدا ہونے کے بعد انہوں نے دس سال کی نازک عمر میں گلوکار ی شروع کرکے لتا کے مدمقابل کھڑی ہوگئی جن کے لئے زندگی کبھی سہل نہ تھی۔ سولہ سال کی عمر کوپہنچتے پہنچتے انہوں نے لتا کی پرسنل سیکرٹری گنپت راؤ بھوسلے کے ساتھ بھاگ گئیں اور اسی نسبت سے ہمیشہ کیلئے آشابھوسلے بن گئی اگرچہ گیارہ سال بعد 1960ء میں ان کے درمیاں علیحدگی ہوگئی تھی(خاندانی نام منگیشکر کی بجائے بھوسلے نام کے ساتھ لگاتی رہی)۔
اس شادی کی وجہ سے ان کے ابتدائی سال ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں لحاظ سے شدید جدوجہد کی علامت تھے، لیکن آشا نے خاموش عزم کے ساتھ اپنا راستہ خود بناتی رہی اور اس مقام تک پہنچ گئی جہاں تک لتا کے سوا شائد کوئی پہنچ سکے۔ کہتے ہیں کہ مشکل آغاز اکثر یادگار سفر کی بنیاد بنتا ہے۔ جب لتا نوشاد، سلل چوہدری، روشن، سی رام چندر اور شنکر جے کشن جیسے بڑے موسیقاروں کی پہلی پسند بن گئیں، تو آشا کو اپنی جگہ بنانے کے لیے مزید محنت کرنی پڑی جن پر موسیقار او پی نیر،ایس ڈی برمن اور آرڈی برمن مہربان ہوکر ان کی منفرد آوازچمکنے کا موقع دیا۔آشا جی نے معروف موسیقار آرڈی برمن کو اپنا جیون ساتھی بناکر اپنی فنی زندگی کو مزید کامیابی سے ہمکنار کرنے کی کامیاب حکمت عملی اپنائی جوکہ 1980ء سے 1984ء میں آر ڈی برمن کی وفات پر برقرار رہا۔ان کا پسند بھی منفر د تھا جس کا پہلا شوہر عمر میں ان سے 16سال بڑا جبکہ دوسرا شوہر 8سال چھوٹا تھا۔ 12اپریل کو آشا بھوسلے کی روح قفس عنصر ی سے نکلنا بالی ووڈ کے ایک نام اور دنیائے موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ تھا۔
قدرت نے پنڈت دیناناتھ منگیشکر کے چاروں بیٹیوں لتا منگیشکر (پیدائش 1929ء) مینا منگیشکر (پیدائش 1931ء)، آشا بھوسلے (1933ء)، اوشا منگیشکر (1935ء) اور اکلوتا بیٹا (1937ء) کو دو سالوں کے ریگولر وقفے کے ساتھ ایک موسیقیاتی ترتیب کے ساتھ پیدا کرنے کے ساتھ ان میں گلوکاری کی ٹیلنٹ بھی ودیعت کی تھی۔ ان سب نے ہندی اور اردو کے علاوہ نصف درجن بھر ہندوستانی زبانوں میں گلوکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے لیکن پہلی دو بہنیں ایک دوسرے کی مسابقت میں بہت آگے نکل گئے۔ 1942ء میں ا ن کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر کی جوانی میں موت نے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور اپنی دنیا آپ پیداکرنا سیکھایا۔
.
لتا جی اور آشا نے اپنے لئے شعبے چن لئے تھے چنانچہ لتامنگیشکر نے کلاسیکی موسیقی اور سنجیدہ رومانوی گانوں میں نام پیدا کی جبکہ قدت نے ان کی آواز میں پاکیزگی، شرافت اور ٹھہراؤ پیدا کیا تھا جبکہ آشا جی ورسٹائل (versatile)اسٹائل اپنائی اور غزلوں سے لے کر پاپ گانوں ہر صنف میں کمال پیدا کیااور ان کی آواز میں شوخی، لچک اور چنچل پایا جاتا ہے۔ 1968ء کی فلم “پڑوسن” میں “میں چلی، میں چلی “گانے میں دونوں بہنوں کے انداز نمایان ہیں۔ آشا جی کی آوا ز میں چنچل اور شوخی کااندازہ محمد رفیع کی معیت میں گائی ہوئی “نیا دور”فلم کا گانا “اڑے جب جب زلفیں تری “سے کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے فلموں، البمز اور اسٹیج کے لیے مختلف زبانوں میں گایا، اور اس دوران اعزازات کی ایک طویل فہرست جمع کی: دو نیشنل فلم ایوارڈز، متعدد بی ایف جے اے اور مہاراشٹر اسٹیٹ فلم ایوارڈز، اور نو فلم فیئر ٹرافیاں —بشمول لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور بہترین پلے بیک سنگر کے طور پر بے شمار اعزازت حاصل کی۔ اشا جی گلوکاری کی فن کے دنیا میں شہرت کا امرت پی کر امرہوگئی۔ مختلف مواقع اور حالات کے تناظر میں ان کے گائے ہوئے مقبولیت کی آسمان کو چھوگئے ہیں۔ جب تک شادی بیاہ کی تقریب میں “ذرا ڈھولکی بجاؤ، گوریو” سنائی دے تو آشا جی کی یاد دلاتی رہے گی۔
