ایٹا کے ذریعے16 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2400 ڈاکٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
،
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے محکمہ جیل خانہ جات میں نئے بھرتی ہونے والے وارڈنز کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا گیا ہے اور یہی پالیسی آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے نئے تعینات جیل وارڈنز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے فرائض نہایت ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیں گے اور محکمہ جیل خانہ جات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ آج تعینات ہونے والے وارڈنز میں سے وہ کسی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور انہیں یقین ہے کہ کسی بھی امیدوار نے تقرری کے لیے سفارش کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے بھرتی کے عمل میں اثر و رسوخ استعمال کیا ہو، اور اگر کسی کو اپنی تقرری کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو وزیراعلیٰ ہاو ¿س کے دروازے اس کے لیے کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں نہ صرف میرٹ بلکہ صنفی مساوات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کا واضح ثبوت آج دو ٹرانسجینڈر افراد کی تقرری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اقلیتوں اور ٹرانسجینڈر افراد کے باقی ماندہ کوٹہ پر تقرریاں قواعد میں نرمی کے ساتھ مکمل کی جائیں۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میںاقلیتوں کے لیے بلا سود قرضوں کی سکیم متعارف کرانے کابھی اعلان کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعلیم اور صحت میں جاری بھرتیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایٹا کے ذریعے16 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2400 ڈاکٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ان بھرتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ میرٹ و شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔محمد سہیل آفریدی نے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کی تربیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تربیتی عمل اور دیگر ضروریات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے تاکہ وہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قیدیوں کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے اور اس ضمن میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جیلوں میں سکیورٹی کو مو ثر بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ورچوئل کورٹس اور ویب میٹنگز جیسے جدید اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں جن سے نہ صرف سکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جیلوں کے لیے اینٹی ڈرون سسٹمز کی فراہمی کا اعلان بھی کیا تاکہ سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔آخر میں وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تقرری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے پر متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی اصول صوبے کی ترقی اور عوام کے اعتماد کی بنیاد ہیں، اور حکومت ہر سطح پر ان اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائے گی۔
۔

۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے صوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے صوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوری نظامِ حکمرانی، آئینی ڈھانچے اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے نظریے کی بنیاد پر قید اور کرپشن کے الزامات میں قید کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کیلئے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا تاہم بعد کی قیادت کو جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی تسلسل کو نقصان پہنچانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایسی آئینی ترامیم میں ایک اہم فریق رہی ہے جنہوں نے جمہوری گنجائش کو محدود کیا، بالخصوص 27ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عدلیہ کی فعالیت متاثر ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں بطور وزیراعلیٰ نامزد ہوتے ہی ایک منظم مہم کا سامنا کرنا پڑا جو نہ صرف ان کی ذات بلکہ پورے صوبے کی توہین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے قائد عمران خان سے ملاقات ان کا آئینی و قانونی حق ہے مگر جب وزیراعظم سے اس حوالے سے کہا گیا تو جواب ملا کہ پوچھ کر بتاؤں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے ملاقات کرانے کے لیے ہر متعلقہ ادارے کو خطوط لکھے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے ملاقات کی اجازت دی مگر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ان احکامات کو مسترد کر دیا۔ اگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ ہائیکورٹ کے احکامات نہ مانے تو آئین و قانون کی حیثیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، کل کسی اور جماعت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو غیرقانونی قید میں صحت سمیت سنگین مسائل کا سامنا ہے اور دونوں کو اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ آنکھوں کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ عمران خان کو توڑنے کیلئے بشریٰ بی بی کو غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ماضی میں سیاسی قیدیوں کو مکمل سہولیات اور اہل خانہ تک رسائی دی جاتی رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ جب تمام آئینی راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کا علاج ان کے مرضی کے اسپتال میں ذاتی ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پذیرائی کے لیے 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کیا گیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ ملک کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے لیے ہر قربانی دے رہے ہیں مگر کرپٹ عناصر کو ملک کی کوئی پروا نہیں۔ قومی و ملکی مفاد میں وفاقی حکومت کے اجلاسوں میں شرکت کی مگر اس کے اگلے ہی دن عمران خان کی بہنوں پر تشدد کیا گیا۔ جب تمام آئینی راستے بند کر دیے جائیں اور انہیں بند گلی میں دھکیلا جائے تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔آخر میں وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ حقیقی آزادی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور آئین و جمہوریت کی بالادستی، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی تک یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

